Daily Pakistan

مسئلہ کشمیر: حقائق اور موجودہ تناظر!!!

مسئلہ کشمیر: حقائق اور موجودہ تناظر!!!

 

کشمیر محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ برصغیر کی تاریخ کا وہ سلگتا ہوا باب ہے جس نے گزشتہ سات دہائیوں سے جنوبی ایشیا کے امن کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ یہ مسئلہ نہ تو بھارت کا داخلی معاملہ ہے اور نہ ہی پاکستان کا کوئی علاقائی تنازعہ، بلکہ یہ اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ایک تسلیم شدہ حل طلب تنازعہ ہے، جس کا بنیادی فریق کشمیری عوام ہیں۔ اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے موجودہ بین الاقوامی حالات کے تناظر میں پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو واضح ہوتا ہے کہ بھارت کے لیے کشمیر کی اہمیت محض اس کی خوبصورتی یا رقبے کی وجہ سے نہیں تھی، بلکہ اس کے پیچھے گہری اسٹریٹجک اور نظریاتی وجوہات کارفرما تھیں۔ کشمیر پاکستان اور چین کے سنگم پر واقع ایک ایسا خطہ ہے جو دفاعی گہرائی، جغرافیائی برتری اور آبی وسائل کے اعتبار سے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ دریائے سندھ، جہلم اور چناب جیسے دریا اسی خطے سے نکلتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ بھارت شروع ہی سے کشمیر کو اپنے کنٹرول میں رکھ کر پاکستان پر آبی دباؤ برقرار رکھنا چاہتا تھا۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک بڑی وجہ نظریاتی بھی تھی۔ پاکستان کا قیام دو قومی نظریے کی بنیاد پر عمل میں آیا، اور اگر مسلم اکثریتی ریاست کشمیر پاکستان کے ساتھ شامل ہو جاتی تو یہ نظریہ مزید مضبوط ہو جاتا۔ کانگریس قیادت، خصوصاً جواہر لعل نہرو، کے لیے یہ بات سیاسی اور فکری طور پر ناقابلِ قبول تھی۔ یوں کشمیر بھارت کے لیے محض ایک جغرافیائی خطہ ہی نہیں بلکہ ایک نظریاتی جنگ کی علامت بھی بن گیا۔ اگر کشمیر پر ہندوستانی قبضے کے طریقۂ کار پر نظر ڈالیں تو بھی یہ حقیقت مزید عیاں ہو جاتی ہے۔ 1947 میں ریاست جموں و کشمیر پر ہندو مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت تھی، جبکہ آبادی کی واضح اکثریت مسلمان تھی۔ مہاراجہ نہ پاکستان سے الحاق پر آمادہ تھا اور نہ ہی بھارت سے، مگر پونچھ کے علاقے میں مسلم عوامی بغاوت نے اس کی حکومت کی بنیادیں ہلا دیں۔ اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اکتوبر 1947 میں ہندوستان نے فوجی مدد کے بدلے راجہ ہری سنگھ سے ایک متنازع اور مشکوک الحاق نامے پر دستخط کروائے، جس میں کشمیری مسلم اکثریتی آبادی کی رائے کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا۔
27 اکتوبر 1947 کو بھارتی فوج سری نگر میں اتاری گئی، اور یوں کشمیر میں عملی طور پر فوجی قبضے کا آغاز ہوا اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ شروع ہو گئی۔چونکہ مقامی عوام پاکستان کی حامی تھی اس لئے جنگ میں پاکستان کو مسلسل کامیابی حاصل ہو رہی تھی۔ جنگ میں شکست کے خوف سے ہندوستان خود یہ معاملہ اقوامِ متحدہ میں لے گیا، جہاں اس نے استصوابِ رائے کا وعدہ کیا اور سلامتی کونسل کی قراردادیں منظور ہوئیں۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ یہ وعدہ کبھی پورا نہ کیا گیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھارت نے قبضے کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے کی پالیسی اختیار کر لی۔
اس سلسلے کی تازہ ترین اور خطرناک کڑی 5 اگست 2019 کا اقدام ہے، جب بھارت نے آرٹیکل 370 ختم کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو بھی ختم کر دیا۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف کشمیریوں کی سیاسی شناخت مٹانا تھا بلکہ آبادی کے تناسب کو بدل کر اس تنازع کی نوعیت ہی تبدیل کرنا تھا۔ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
آج کی حقیقت یہ ہے کہ کشمیر بدستور ایک متنازع خطہ ہے اور اس پر بھارتی کنٹرول قانونی نہیں بلکہ خالصتاً فوجی قبضہ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس صورتحال میں پاکستان کا کردار کیا ہونا چاہیے؟
سب سے پہلے پاکستان کو سفارتی محاذ پر وقتی ردِعمل کی سیاست سے نکل کر مستقل اور منظم حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ کشمیر کو اقوامِ متحدہ، او آئی سی، یورپی یونین اور دیگر عالمی فورمز پر محض سال میں ایک تقریر تک محدود رکھنے کے بجائے مستقل ایجنڈا بنانا ہوگا۔ دنیا کو بار بار یاد دلانا ہوگا کہ یہ مسئلہ ابھی حل طلب ہے۔
دوسرا اہم پہلو قانونی جنگ کا ہے۔ بھارت قانون کو نظرانداز کر کے طاقت کا استعمال کرتا ہے، جبکہ پاکستان کے پاس قانونی اور اخلاقی مؤقف کی مضبوط بنیاد موجود ہے۔ عالمی عدالتوں میں انسانی حقوق کی بنیاد پر کیسز کرنا، 5 اگست 2019 کے اقدامات کو چیلنج کرنا اور ماہر بین الاقوامی وکلا کی مستقل ٹیم تشکیل دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔
تیسرا اور شاید سب سے مؤثر پہلو خود کشمیری عوام کو سامنے لانا ہے۔ دنیا کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ یہ پاکستان اور بھارت کا نہیں بلکہ کشمیریوں کا مسئلہ ہے۔ حریت قیادت، متاثرہ خاندانوں، خواتین، بچوں اور لاپتہ افراد کی کہانیاں عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ سکتی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ میڈیا اور بیانیے کی جنگ بھی انتہائی اہم ہے۔ جدید دنیا میں رائے عامہ ریاستی بیانات سے نہیں بلکہ حقیقی واقعات پر مبنی انسانی المیے کی کہانیوں سے بنتی ہے۔ عالمی میڈیا، ڈاکیومنٹریز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کشمیر کو ایک غاصبانہ قبضے اور انسانی حقوق کے مسئلے کے طور پر پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایک تلخ مگر حقیقت پسندانہ تجزیہ یہ ہے کہ پاکستان کی اندرونی طاقت، معاشی استحکام اور سیاسی اتحاد ہی ہمارے اس مؤقف کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی کے قابل بنا سکتا ہے۔ موجودہ دور میں کمزور معیشت اور منقسم قومی سیاست کے ساتھ مضبوط سفارت کاری ممکن نہیں ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ کشمیر نہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے، نہ پاکستان کا کوئی علاقائی جھگڑا۔ یہ اقوامِ متحدہ کا تسلیم شدہ حل طلب تنازعہ اور کشمیری عوام کا بنیادی حقِ خودارادیت ہے۔ جب تک اس حق کو تسلیم نہیں کیا جاتا، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ایک خواب ہی رہے گا۔ ایک اور انتہائی اہم نکتہ یہ ہے کہ پاکستانی قوم کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی کہ کشمیر کا مسئلہ ایک دن میں حل نہیں ہوگا مگر اسے بین الاقوامی سطح پر زندہ اور متحرک رکھنا بہت ضروری ہے۔ پاکستانیوں اور کشمیریوں کو جذباتی ردِعمل سے نکل کر ایک طویل المدتی مگر مسلسل قانونی، سفارتی، بیانیہ اور استقامت کی جنگ لڑنا ہوگی جس کا نتیجہ آخر کار کشمیر کی آزادی کی صورت میں نکلے گا۔ وما علینا الا البلاغ

تحریر:عبدالبجبارترین

Exit mobile version