Daily Pakistan

آزاد کشمیر میں صدارتی انتخاب پرعوامی رائے پر مبنی سروے،

عالمی وژن رکھنے والی قیادت کے حق میں معتدل رجحان سامنے آگیا

صدارتی منصب کو مؤثر عالمی نمائندگی کے لیے فعال بنانے کی ضرورت،بدلتے حالات میں آزاد کشمیر کے لیے تجربہ کار اور باوقار قیادت پر زور
مظفرآباد:


_31 جنوری 2026 کو صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے انتقال کے بعد آزاد جموں و کشمیر میں آئندہ صدارتی انتخاب کے حوالے سےروزنامہ۔۔۔کے ایک عوامی سروے میں یہ رجحان سامنے آیا ہے کہ شہریوں کی اکثریت ریاست کے اعلیٰ منصب پر ایسی شخصیت دیکھنا چاہتی ہے جو بین الاقوامی سفارت کاری، عالمی قانون اور انسانی حقوق کے معاملات کا عملی تجربہ رکھتی ہو۔ سروے میں وکلا، اساتذہ، طلبہ، تاجروں، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور مختلف مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی آراء شامل کی گئیں۔سروے کے مطابق بدلتے ہوئے عالمی سیاسی ماحول اور جنوبی ایشیا کی نئی صف بندیوں کے تناظر میں ریاست کے سربراہ کو محض علامتی کردار تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے فعال سفارتی اور جرات مندانہ قیادت فراہم کرنی چاہیے۔ شرکاء کی بڑی تعداد نے اس بات پر زور دیا کہ صدرآذاد ریاست جموں و کشمیر اک ایسا فرد ہو جو بین الاقوامی معاہدات،سفارتی پروٹوکول، عالمی انسانی حقوق کے نظام اور بین الاقوامی عدالتوں کے طریقہ کار سے واقف ہو تاکہ ریاستی مؤقف کو مؤثر اور مدلل انداز میں پیش کیا جا سکے۔رائے دہندگان کا کہنا تھا کہ صدارتی منصب کو داخلی سیاسی توازن یا جماعتی وابستگی کے دائرے میں محدود کرنا ریاستی مفاد کے منافی ہوگا۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا کہ امیدوار کے انتخاب میں اہلیت، دیانت، عالمی وژن اور سفارتی مہارت کو بنیادی معیار بنایا جائے۔سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ ایک باوقار اور غیر متنازع سفارتی شخصیت عالمی دارالحکومتوں میں ریاست کے لیے بہتر رسائی اور سنجیدہ مکالمے کے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔کئی شرکاء نے اس امر کی نشاندہی کی کہ جدید دور میں سفارت کاری صرف روایتی ملاقاتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، تھنک ٹینکس، عالمی میڈیا اور پالیسی فورمز کے ذریعے بیانیہ تشکیل دینے کی صلاحیت بھی ناگزیر ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق ایسا صدر جو عالمی سطح پر موثر روابط رکھتا ہو،مسئلہ کشمیر کو انسانی حقوق اور حقِ خودارادیت کے تناظر میں زیادہ مضبوط انداز میں اجاگر کر سکتا ہے۔سروے میں شامل کاروباری اور تعلیمی حلقوں نے رائے دی کہ عالمی سطح پر مثبت تشخص کے فروغ سے نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی اور تعلیمی مواقع بھی بڑھ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی اداروں سے روابط مضبوط ہونے کی صورت میں ترقیاتی منصوبوں، تعلیمی تبادلوں اور انسانی امداد کے امکانات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔مزید سروے رپورٹ کے مطابق مجموعی رجحان اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ عوام صدارتی انتخاب کو محض آئینی تقرری نہیں بلکہ ریاستی حکمتِ عملی کے اہم مرحلے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ شہریوں کی نمایاں تعداد اس امر کی حامی دکھائی دیتی ہے کہ ایک تجربہ کار اور باوقار سفارتی شخصیت آزاد جموں و کشمیر کے مفادات کے تحفظ اور عالمی سطح پر مؤثر نمائندگی کے لیے زیادہ موزوں انتخاب ثابت ہو سکتی ہے.

Exit mobile version