موجودہ حکومت کی آئینی مدت ختم ہونے سے محض چند دن باقی رہ گئے ہیں اور ان دنوں کے دوران اپنے آخری دنوں میں حکومت نے آئین سازی پر بہت توجہ مرکوز کی ہوئی ہے اور سارا وقت بلوں کی منظوری میں لگایا کیونکہ حکومت یہ سمجھتی ہے کہ جاتے جاتے وہ آئینی اصلاحات کرتی جائے اور اپنی آئینی مدت کے ایک ایک لمحے کافائدہ اٹھائے یہی وجہ ہے کہ اسمبلی کاا جلاس رات گئے تک جاری رہتا ہے۔وزارتوں کے اندربھی غیرمعمولی کا م کارش دیکھنے میں آرہاہے اور یہ بات تو طے ہے کہ حکومت اپنی آئینی مدت کے پورا ہونے پر اقتدار چھوڑنے پر پوری طرح آمادہ ہے اس دوران حزب اختلاف اورپی ڈی ایم نے اس بات پراتفاق رائے کیاہے کہ نواگست کو اسمبلیاں اپنی آئینی مدت پوری کرکے تحلیل ہوجائیں گی اور اپنے اختیارات نگران حکومت کے حوالے کردیے جائیں گے ۔سننے میں آرہاہے کہ نگران وزیراعظم کانام بھی تقریباً فائنل کرلیاگیا ہے اور ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ کووزیراعظم بنانے کافیصلہ کیاگیا ہے تاہم وفاقی دارالحکومت میں یہ بات گزشت بھی سنائی دے رہی ہے کہ پی ڈی ایم کی بڑی جماعت پیپلزپارٹی ایک ریٹائرڈ سیاستدان جوماضی میں صحافی بھی رہا اور پھر وفاقی وزارت کے منصب پربھی فائزرہاکوبطورنگران وزیراعظم لاناچاہ رہی ہے اور ان کے نام پر نہ صرف پیپلزپارٹی بلکہ اسٹیبلشمنٹ،مسلم لیگ ق اور بیرونی دوست بھی رضامند ہیں اسی حوالے سے نگران وزیراعظم کے نام پراتفاق رائے کیلئے فائنل راﺅنڈ آج ہوگا جس کے بعد اس کاباقاعدہ اعلان کردیاجائے گا۔گزشتہ روزوزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اتحادی جماعتوں کے ویڈیو لنک اجلاس میں اسمبلیوں کی تحلیل 9 اگست کو کرنے پر تمام رہنماو¿ں نے اتفاق کر لیا ۔ نگران وزیر اعظم کی تقرری کے معاملے پر وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اتحادیوں کے ویڈیو لنک اجلاس میں 4 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا، اتحادی جماعتوں کے درمیان نگران وزیراعظم، نئی مردم شماری، ضمنی انتخابات اور اسمبلیوں کی تحلیل پر مشاورت ہوئی۔ اتحادی جماعتوں کے رہنماو¿ں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ الیکشن وقت پر ہونے چاہئیں، مردم شماری کے معاملے پر مشترکہ مفادات کونسل جو فیصلہ دے گی قبول ہوگا۔ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں ضمنی انتخابات کا معاملہ نگران حکومت پر ڈال دیا گیا، شرکا کا کہنا تھا کہ نگران حکومت آئندہ کے ضمنی انتخابات کے معاملات کو خود دیکھ لے گی، حکومت کی تمام اتحادی جماعتوں نے شہباز شریف کو نگراں وزیراعظم کی تقرری کا اختیار دے دیا۔ اجلاس میں نگران وزیراعظم کے لیے شاہد خاقان عباسی، حفیظ شیخ،شکیل بلوچ اور ڈاکٹر عشرت العباد کے ناموں پر غور کیا گیا جس کے بعد اتحادی جماعتوں نے اس حوالے سے مزید مشاورت جاری ر کھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایم کیو ایم نے نگران وزیراعظم کے نام پر مزید مشاورت کیلئے وقت مانگ لیا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے نگران وزیراعظم سے متعلق اتحادیوں سے تجاویز مانگ لیں، وزیراعظم نے اس ضمن میں کہا کہ جو تجاویز دینا چاہے وہ مجھ سے رابطہ کر سکتا ہے، اجلاس میں محسن داوڑ نے بھی نگران وزیر اعظم کیلئے دو نام تجویز کیے۔اتحادی جماعتوں نے وزیر اعظم پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیا اتحادی جماعتوں نے آئی ایم ایف پروگرام پر وزیر اعظم کے اقدامات کو سراہا۔اتحادی جماعتوں نے پندرہ ماہ کی حکومت کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیانگران سیٹ اپ کے لیے اتحادی جماعتوں نے تجاویز بھی پیش کیں۔متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے نگراں وزیراعظم کیلئے گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا نام دینے پر غور شروع کردیا۔ایم کیو ایم پاکستان کے کنونیئر خالد مقبول صدیقی کے ذرائع سے یہ بات سامنے آئی کہ متحدہ قومی موومنٹ نگراں وزیراعظم کےلئے کامران ٹیسوری کا نام بھی دے سکتی ہے۔ ملکی صورت حال میں گورنر سندھ نے جو کام کیے ان کی نظیر نہیں ملتی، اگر شخصیت اور کام کے حوالے سے بات کی جائے تو کامران ٹیسوری سے بہتر کوئی اور نہیں ہے۔کنونیئر ایم کیو ایم نے کہا کہ کامران ٹیسوری کا نام دینے سے سندھ میں پارٹی کو نقصان تو ہوگا مگر وفاق اور ملک کیلئے متحدہ اس قربانی اور نقصان کو برداشت کرنے کےلئے بھی تیار ہے۔ نیزوزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل ایروسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح کر دیا۔نیشنل ایروسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کی افتتاحی تقریب کا انعقاد راولپنڈی میں ہوا جس میں وزیراعظم شہباز شریف سمیت مسلح افواج کے سربراہان، وفاقی وزرا اور اعلیٰ عسکری و سول حکام نے شرکت کی۔ذرائع کے مطابق ٹیکنالوجی پارک ایک قومی اور سٹریٹجک اہمیت کے منصوبے کے طور پر ملک کیلئے کثیر جہتی فوائد حاصل کرے گا، منصوبہ پاکستان میں تکنیکی ترقی کی حوصلہ افزائی کرے گا۔اس منصوبے سے آنے والی نسلوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا ہو گا اور پاکستان کی خود انحصاری کے سفر میں بھی یہ منصوبہ اہم سنگ میل ثابت ہو گا، نیشنل ایرو سپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک انڈسٹری اکیڈمیہ لنکیج قائم کرے گا۔مزید برآں یہ منصوبہ ایوی ایشن، سپیس اور سائبر کے میدانوں میں ضروری عناصر کا ایکو سسٹم فراہم کرے گا، سربراہ پاک فضائیہ کی انتھک کاوشوں اور چیف آف آرمی سٹاف کے تعاون سے یہ منصوبہ ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا ہے۔
آرمی چیف کی حمزہ خان کوشاندارکامیابی پر مبارکباد
کسی بھی ملک کی ترقی میں نوجوان نسل فعال کرداراداکرتی ہے پاکستان کی آبادی کاایک کثیرحصہ نوجوانوں پرمشتمل ہے جو اپنے وطن عزیز کے لئے کارہائے نمایاں سرانجام دینے کی صلاحیتیں رکھتے ہیں اور عالمی سطح پر پاکستا ن کانام روشن کرنے کاباعث بنتے ہیں مگر بدقسمتی سے سرخ فیتے نے انہیں آگے آنے سے روک رکھاہے۔گزشتہ روزآرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ورلڈ جونیئر اسکواش چمپئن محمد حمزہ خان نے ملاقات کی۔ آرمی چیف نے حمزہ خان کو ملک کیلئے شاندار کامیابی پر مبارکباد دی۔سپہ سالار نے کہا کہ آپ جیسے لوگوں پر ہم سب فخر کرتے ہیں، آپ کی عظیم کامیابی اس قوم کی عظیم صلاحیت کو بھی واضح کرتی ہے۔جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ فوج ملک میں نوجوان ٹیلنٹ کی سپورٹ جاری رکھے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوان اس ملک کا مستقبل ہیں، توجہ، لگن اور محنت سے کوئی ایسا کام نہیں جو پاکستان نہ کرسکے۔
زرعی شعبہ ملکی ترقی کا ضامن
ملکی معیشت کادارومدار زرعی ترقی پر ہے اگر ہم سب کچھ نظراندازکرکے اپنی ساری توجہ زرعی ترقی پرمرکوزکریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم نہ صرف اپنی معیشت کو درست سمت پرگامزن کرسکتے ہیں بلکہ خطے میں بہترین سبزیاں ،فروٹ اور زرعی اجناس پیدا کرکے علاقائی ممالک کو اپنی کاروباری منڈیوں میں تبدیل کرسکتے ہیں مگربیوروکریسی اس طرف توجہ نہیں دیتی مگر صوبہ پنجاب میں اب زرعی ترقی پرزوردیاجانے لگا ہے کیونکہ عسکری قیادت نے بھی پنجاب میں زراعت کے فروغ کے لئے اپنی خدمات پیش کی ہیں ان کی رہنمائی میں نہ صرف زراعت کو فروغ حاصل ہوگا بلکہ ہم کامیابی کی راہ پربھی گامزن ہوسکتے ہیں۔صوبائی وزیر زراعت، صنعت وتجارت ایس ایم تنویر کی زیر صدارت پنجاب ایگریکلچر ریسرچ بورڈ کا اجلاس بورڈ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا جس میں 15نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ بورڈ نے زرعی تحقیق کے 90 کروڑ روپے مالیت کے 40 مختلف منصوبوں کی منطوری دی۔ اجلاس میں بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی کی تنظیم نو کی بھی منظوری دی گی۔صوبائی وزیر زراعت، صنعت وتجارت ایس ایم تنویرنے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زرعی منصوبہ جات کے ثمرات کاشتکاروں تک پہنچنا ضروری ہیں۔ زرعی منصوبہ جات مارکیٹ اور کمرشل پیمانے پر ڈیمانڈ کے مطابق ترتیب دئیے جائیں۔ ایسے زرعی منصوبہ پر کمرشل پیمانے پرعملدرآمد کی ضرورت ہے جس سے عوام کی ڈیمانڈ پوری ہو اور قیمتوں میں بھی استحکام پیدا ہو سکے۔زرعی سائنسدان پیداواری صلاحیت بڑھانے کےلئے تحقیقی منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھائیں۔صوبائی وزیر زراعت ایس ایم تنویر نے چیف ایگزیکٹو پارب ڈاکٹر عابدمحمود کو پارب کی کارکردگی کے متعلق جامع رپورٹ پیش کرنے اور منصوبہ جات کی سکروٹنی کے لئے خصوصی کمیٹی قائم کی ہدایت بھی کی۔ریسرچ کا مقصد” ریسرچ برائے ریسرچ“ نہیں ہونی چاہیے بلکہ فصلوں کی ایسی اقسام کی تیاری ہونا چاہیے ۔
اسمبلیوں کی تحلیل اورنگران وزیراعظم کی بازگشت

