کالم نگار کو پہلی محبت ریڈیو پاکستان سے ہوئی ،دوسری حضرت ابوالاعلی مودودی صاحب سے اور تیسری انشا جی سے۔ ریڈیو پاکستان سے محبت دادا جی کی وساطت سے ہوئی ۔دادا جی ریڈیو سننے کے شوقین تھے۔ بی بی سی اردو ،وائس آف امریکہ ،ڈوئچے ویلے ریڈیو، ایران کی اردو سروس ،ریڈیو پاکستان لاہور اور ایسے ان گنت سٹیشن وہ باقاعدگی سے سنتے تھے جہاں حالات حاضرہ پر نظر رکھنے کے علاوہ ہر علمی اور فکری مضمون کی طرز پر بہترین پروگرام پیش کیے جاتے تھے۔ وہ اپنے عہد سے بیان بھی کرتے تھے ،پوتے سے پیار بھی کرتے تھے، اس کو آنے والے وقت کے لیے تیار بھی کرتے تھے، تیار کرتے وقت ریڈیو کے پروگرام سناتے تھے،اپنے اس فعل کو تیاری کا بہترین طریقہ کار بتاتے تھے ۔وہ سچ کہتے تھے، کتنے ہی نابغائہ روزگار ریڈیو پاکستان پر پروگرام پیش کرتے رہے تھے ۔بی بی سی ، ڈویچے ویلے اور مختلف ریڈیو سٹیشنز کی ایک ساکھ تھی ۔علمی ، ادبی ،اخلاقی ، مذہبی ،ہر نوعیت کے پروگرام پیش کیے جاتے تھے ۔ اپنے مضمون پر حرف آخر سمجھے جانے والے افراد ریڈیو پر وگرامز میں شرکت کرنا باعث فخر سمجھتے تھے ۔ دیہات میں سماجی شعور کے ابلاغ کا واحد ذریعہ ریڈیو تھا ۔آج بھی ریڈیو کے چاہنے والے بے شمار ہیں ۔کالم نگار بھی انہی میں سے ایک ہے۔ چند خوش ذوق حضرات کی طرح کالم نگار کے پاس بھی ریڈیو سیٹس کا ایک خزانہ ہے۔ وقتا فوقتا ریڈیو سن کر جوانی کی یادیں تازہ کی جاتی ہیں ۔جب بھی کوئی دوست تحفہ دینے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے تو آج بھی ریڈیو سیٹ کی فرمائش کی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ خواتین اپنی پہلی محبت نہیں بھولتیں۔ مرد حضرات کے بارے میں ایسا کوئی دعوی نہیں کیا جاتا لیکن کالم نگار کا ریڈیو سے پیار آج بھی قائم و دائم ہے ۔ کالم نگار کا یہ رشتہ عمر بھر نبھانے کا ارادہ ہے۔ مستقبل میں جن لوگوں نے میڈیا کے ہر میدان میں جھنڈے گاڑے ،ان کی ابتدائی ٹریننگ ریڈیو پاکستان سے ہی ہوئی تھی ۔ریڈیو نے کتنے ہی لوگوں کو بولنا سکھایا۔تیسری دنیا میں عوام کے ذوق کی آبیاری انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے۔ ریڈیو پاکستان نے لوگوں میں معاشرتی اور سماجی شعور کی بیداری میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ ریڈیو پاکستان کی کامیابیاں گنوانا نا ممکن ہے۔ ریڈیو کی افادیت کے بارے میں نئی نسل کو آگاہی دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔ ہماری ذمہ داری نئی نسل کو اسلام کی تعلیمات سے روشناس کروانا بھی ہے ۔اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں دور کرنے میں مودودی صاحب کا کردار کلیدی رہا ہے ۔ جدید تعلیم یافتہ نسل کو اپنے دین پر فخر کرنا مودودی صاحب نے سکھایا۔ ہمارے ہاں آج بھی ماحول روایتی بھی ہے اور روایتی مذہبی بھی ۔ روایتی مذہبی ماحول سوچ کی آبیاری نہیں کرتا ۔ مودودی صاحب کا مکتبہ فکر نوجوانوں کو تفکر کرنا سکھاتا ہے۔عاجز کا مودودی صاحب سے پہلا تعارف ایف ایس سی کے دوران ہوا۔ اسلامیات کے استاد جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے تھے ۔اسلامی جمیعت طلبا کے رکن رہ چکے تھے ۔ایک سور کا ترجمہ تفسیر پڑھاتے ہوئے انہوں نے اپنے طلبا کو تفہیم القران پڑھنے کا مشورہ دیا۔ بہت سوں نے تفہیم پڑھی۔ تفہیم پڑھنے والا کوئی شخص مودودی صاحب کے سحر سے نہیں بچ سکتا ۔مودودی صاحب کی ہر تصنیف کا مطالعہ علم میں اضافے کا باعث ہے ۔ مودودی صاحب کا لٹریچر ذہنی افق کو وسیع و عریض کرتا ہے۔ اختلاف بری چیز نہیں لیکن مودودی صاحب سے اختلافات کے مواقع کم ملتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے نفاذ اسلام کے طریقہ کار سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن مودودی صاحب کے بنیادی اسلامی افکار سے اختلاف کرنا بہت مشکل ہے۔ مودودی صاحب عالم اسلام کی ایک ایسے مفکر اور محقق ہیں جن کا لٹریچر ہر دور میں پڑھا گیا ہے اور پڑھا جاتا رہے گا۔ مودودی صاحب سے محبت شاہد صاحب کی وساطت سے ہوئی اور مودودی صاحب سے احترام بھرا پیار کا رشتہ آج بھی قائم ہے اور ہمیشہ قائم و دائم رہنے کی توقع ہے۔ مودودی صاحب کی تعریف کرنا سورج کو چراغ دکھانا ہے۔ اللہ تعالی نے عزت قرآن شریف کا علم حاصل کرنے والوں کے لیے رکھی ہے۔ مودودی صاحب کی تفسیر تفہیم القران ہر کوئی پڑھتا ہے۔ مودودی صاحب کی دین کی تعبیر سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن دنیا میں اسلام کے پھیلا میں مودودی صاحب کے کردار سے انکار کرنا ناممکن ہے ۔ تیسری محبت انشا جی سے ہوئی اور جگجیت سنگھ کے توسط سے ہوئی ۔ایف ایس سی میں ہمارے ایک ہم جماعت بیمارِ غزل تھے ۔انہیں جگجیت سنگھ سے عشق تھا ۔پہلی بار ان کے ہاں "کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا تیرا” سننے کا اتفاق ہوا۔ہم جماعت موسیقی پر قربان ہوتے رہے اور کالم نگار شاعری کا دیوانہ بنتا رہا۔ کالم نگار کو شاعر سے عشق ہو گیا اور بیتے سالوں میں اس کے عشق میں شدت ہی آئی ہے۔ انشا جی تو اٹھے اور دنیا سے کوچ کر گئے لیکن دلوں میں ان کا بسیرا آج بھی ہے۔ وہ آج بھی لاکھوں دلوں کی دھڑکن ہیں۔ اتنی دل گداز شاعری اور نثر لکھنے والا شخص اپنی مثال آپ ہے ۔انگریزی کے الفاظ "ون اینڈ اونلی” اگر کسی کے لیے بولے جا سکتے ہیں تو غالب کے بعد اردو ادب میں ایسی شخصیت جو نظم اور نثر دونوں میں ون اینڈ اونلی کا درجہ رکھتی ہے ،فقط انشا جی اس رتبے پر فائر نظر آتے ہیں۔ یوٹیوب کی اپنی برکات ہیں ۔یو ٹیوب کی وساطت سے ریڈیو پاکستان کے لیے ابن انشا کا مودودی صاحب سے لیا گیا انٹرویو سننے کا موقع ملا تو تینوں محبتیں ایک دم تازہ ہو گئیں۔” خاک میں کیا صورتیں تھیں کہ پنہاں ہو گئیں "ابن انشا کو بجا طور پر ون اینڈ اونلی ابن انشا کہا جا سکتا ہے۔ نثر نگاری میں ان کا ہر فقرہ چہرے پر مسکراہٹ لاتا ہے تو ان کا ہر شعر کا ہر مصرع آنکھیں بھگو دیتا ہے اور دل بھی۔ ابن انشا کا تعلق کسی روایتی تعلیم یافتہ گھرانے سے نہیں تھا۔ راجپوت گھرانے کا بچہ تاریخ میں امر ہو گیا ۔انشا جی نے یو این او میں ملازمت کی۔ دنیا جہان کا سفر کیا۔عین جوانی میں اگلے جہان کا سفر کیا۔ وہی قومیں روشن مستقبل کے حامل ہو سکتی ہیں جنہیں اپنے ماضی سے پیار ہو، اپنے ماضی سے آگاہ ہوں، جو اپنے ماضی کے بارے میں معذرت خواہانہ رویے کا شکار نہ ہوں، جو اپنے ماضی کا ورثہ پورے اعتماد کے ساتھ نئی نسل تک منتقل کرنے کا حوصلہ رکھتی ہوں اور جذبہ بھی۔ مودودی صاحب ہمارا بہت بڑا اثاثہ ہیں۔ مودودی صاحب کی فکر سے آشنائی ضروری ہے۔ اردو کے گیسوسنوارنے میں ابن انشاکے کردار سے انکار ممکن ہی نہیں ۔ابن انشا کی نثر آج کے دور میں مزید اہم ہو جاتی ہے، جب ہر طرف عامیانہ پن ننگا ناچ رہا ہے۔ ریڈیو پاکستان پر پیش کیے جانے والے بہترین پروگرام یوٹیوب، فیس بک اور ایسی دیگر جدید ڈیجیٹل سہولیات کی بدولت ہر کسی کی دسترس میں ہیں۔ پروگرام خود بھی سنیے، اپنے بچوں کو بھی سنوائیے ،ماضی سے پیار کیجیے، بچوں کو مستقبل کے لیے تیار کیجیے۔ مستقبل کی تیاری ماضی کے ادراک کے بغیر ممکن نہیں ۔ ماضی ، حال اور مستقبل جڑے ہوئے ہیں ۔ انہیں الگ الگ خانوں میں بانٹنا ممکن نہیں۔ہمارا ماضی درخشاں ہے، ہمارا حال خوبصورت ہے اور ہمارا مستقبل روشن ترین ہے ۔ انشااللہ۔۔
” انشا جی، مودودی صاحب اور ریڈیو پاکستان”

