ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ کے حالیہ تنازع نے ایک بار پھر برصغیر کی سیاست اور نفسیات کی جھلک دکھا دی ہے۔ بھارت اور پاکستان نے ایک دوسرے کے ملک میں کھیلنے سے انکار کردیا اور بنگلہ دیش نے بھی بھارت میں نہ کھیلنے کا اعلان کیا جبکہ دونوں ملکوں نے کولمبو میں میچ کھیلنے پر رضامندی ظاہر کی جبکہ بعد ازاں بنگلہ دیش نے بھی بھارت میں میچ نہ کھیلنے کا اعلان کردیا آئی سی سی نے بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے ہی باہر کر کے اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا اور پھر پاکستان نے 15فروری کو سری لنکا میں ہونے والے اپنے بھارت کیخلاف میچ نہ کھیلنے کا اعلان کیا پھر اعلان ہوا کہ پاکستان میچ کھیلے گا ان تمام واقعات کو دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ اگرچہ انگریز برصغیر سے چلا گیا مگر اس کے طرزِ حکمرانی اور ذہنی اثرات کا سایہ آج بھی ہندوستان اور پاکستان کی پالیسیوں اور رویوں پر نمایاں دکھائی دیتا ہے۔برصغیر پر انگریزوں کی حکمرانی محض سیاسی اقتدار تک محدود نہیں تھی بلکہ یہ ایک ذہنی، فکری اور انتظامی نظام تھا جس کا مقصد عوام کی خدمت نہیں بلکہ ان پر حکمرانی تھا۔ برطانوی راج نے قانون کو انصاف کے بجائے کنٹرول کے آلے کے طور پر استعمال کیا۔ رولٹ ایکٹ جس کے تحت کسی بھی شخص کو بغیر مقدمہ قید کیا جا سکتا تھا اس نوآبادیاتی ذہنیت کی واضح مثال ہے۔ جلیانوالہ باغ کا قتلِ عام اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ انگریز حکمرانوں کے نزدیک ہندوستانی جان کی کوئی وقعت نہ تھی۔ 1857 کی جنگِ آزادی کے بعد اجتماعی پھانسیاں، پورے شہروں کی تذلیل اور خصوصا مسلمانوں کو نشانہ بنانا اسی ظالمانہ طرزِ حکمرانی کا تسلسل تھا۔معاشی میدان میں بھی۔انگریزوں نے ہندوستان کو دانستہ طور پر قحط، افلاس اور معاشی تباہی کی طرف دھکیلا۔ اناج کی برآمد جاری رہی جبکہ کروڑوں انسان بھوک سے مرتے رہے مقامی صنعتیں تباہ کی گئیں کسانوں پر بھاری ٹیکس لگائے گئے اور زمین داری نظام کے ذریعے چند وفادار طبقات کو مضبوط کیا گیا مقصد واضح تھا عوام کو اس قدر کمزور رکھا جائے کہ وہ مزاحمت کی سکت ہی نہ رکھ سکیں۔لیکن انگریزوں کا سب سے خطرناک ہتھیار جسمانی جبر نہیں بلکہ فکری اور سماجی غلامی تھا۔ تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کے تحت مذہب، ذات، زبان اور ثقافت کو باقاعدہ سیاسی ہتھیار بنایا گیا ہندو اور مسلمان صدیوں تک ایک مشترکہ سماج کا حصہ رہے مگر انگریزوں نے مردم شماری، تعلیمی نظام اور انتخابی سیاست کے ذریعے شناختوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا یہی وہ نفرت کے بیج تھے جو آزادی کے وقت خونریز تقسیم اور آج کی مستقل دشمنی کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں۔آج اگر ہندوستان اور پاکستان کی ریاستیں عوام کو ایک دوسرے کے قریب آنے نہیں دیتیں، اگر ویزا، تجارت، کھیل کود ثقافت اور عوامی روابط کو مسلسل مشکوک نگاہ سے دیکھا جاتا ہے تو اس کی جڑیں بھی اسی نوآبادیاتی مائنڈ سیٹ میں پیوست ہیں۔ انگریزوں نے ہمیں یہ سکھایا تھا کہ خوف میں مبتلا قومیں آسانی سے قابو میں رہتی ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ آزادی کے بعد بھی دونوں ریاستوں نے اسی سوچ کو برقرار رکھا اور دشمنی، عدم اعتماد اور سیکیورٹی اسٹیٹ کو حکمرانی کی بنیاد بنا لیا۔نفرت کو زندہ رکھنا اختلاف کو غداری کہنا، اور عوام کو ریاست سے دور رکھنا یہ سب وہی اوزار ہیں جو نوآبادیاتی حکمران استعمال کرتے تھے۔ 1998میں نوازشریف وزیراعظم تھے تو وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی بس پر واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستان آئے دوستی کے شادیانے بجائے گئے مکالمہ شروع ہوا پھر فوری کارگل محاذ ہوگیا ۔نوازشریف کا اقتدار 1999میں نوازشریف کے اقتدار پر جنرل مشرف نے شب خون مار کر ختم کردیا۔ آج بھی جب امن، مکالمے اور عوامی روابط کی بات ہوتی ہے تو ریاستی سطح پر اسے کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ یہ سوچ کسی آزاد قوم کی علامت نہیں بلکہ غلامانہ ذہنیت کی عکاس ہے۔ ہندوستان کا مائند سیٹ ہندوتوااور اکھنڈ بھارت محض نفرت پھیلانے کے سوا کچھ نہیں کانگرسی لیڈر ششی تھرور نے بات چیت شروع کرنے کی بات کی ہے میں بھی سمجھتا ہوں کہاس تناظر میں وقت آ گیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان ماضی کے بوجھ سے نکل کر مستقبل کی طرف دیکھیں۔ ایک عملی اور قابلِ عمل آغاز یہ ہو سکتا ہے کہ دونوں ممالک دو طرفہ اعتماد سازی کے تحت کشمیر کی داخلی خودمختاری کے اس فریم ورک پر سنجیدہ بات چیت شروع کریں جو جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھارت کیساتھ زیرِ غور رہا۔ یہ فیصلہ کسی حتمی حل سے پہلے ایک اعتماد ساز قدم ہو سکتا ہے، جس کا مقصد دشمنی نہیں بلکہ بات چیت کے دروازے کھولنا ہو۔سب سے پہلے دونوں ملکوں کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ دشمنی آنے والی نسلوں کیلئے نہیں، بلکہ امن، تجارت، باہمی احترام اور ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کو یہ سوچنا ہوگا کہ وہ تصادم کے راستے پر چل کر صرف نفرت، غربت اور عدم استحکام پیدا کرینگے یا پھر اتحاد، تعاون اور مشترکہ مستقبل کے عزم کیساتھ ترقی کی راہ اپنائیں گے۔یہ خطہ تقریباً دو ارب انسانوں کا مسکن ہے۔ اگر یہ قومیں باہم مل کر چلیں تو معاشی، تعلیمی اور سائنسی ترقی کے بے پناہ امکانات موجود ہیں بات تلخ ضرور ہے، مگر حقیقت یہی ہے کہ اگر دشمنی، جنگ و جدل اور پراکسی تنازعات کا سلسلہ جاری رہا تو اس خطے پر غلامی کا سایہ مزید طویل ہوتا چلا جائے گا چاہے وہ غلامی نوآبادیاتی ہو یا مقامی اشرافیہ کی۔حقیقی آزادی تب ہی ممکن ہے جب ہم انگریز کے چھوڑے ہوئے نفرت، خوف اور کنٹرول کے فلسفے سے نجات حاصل کریں۔ انگریز اپنے ملکوں میں انیسویں صدی کے نوآبادیاتی مائنڈ سیٹ سے آگے بڑھ چکے ہیں اور اپنے ماضی پر شرمندگی کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں مگر افسوس کہ ہندوستان اور پاکستان کے حکمران آج بھی ذہنی طور پر آزاد نظر نہیں آتے یہی وہ المیہ ہے جو ہمارے حال کو یرغمال اور مستقبل کو غیر یقینی بنائے ہوئے ہے ۔ اگر کھیل بھی رک جائے، تجارت بھی رک جائے اور نفرت ہی سیاست بن جائے تو سوال یہ ہے کہ دو ارب انسانوں کا مستقبل کون سنبھالے گا؟
انگریزوں کے راج کا مائنڈ سیٹ اور ہندوستان، پاکستان

