ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب انسان کو لگنے لگتا ہے کہ وہ اکیلا ہی ٹھیک ہے۔ نہ کسی سے کوئی شکوہ رہتا ہے نہ کوئی اُمید باقی رہتی ہے۔ دل میں شور تو اَب بھی ہوتا ہے مگر زبان خاموش ہو جاتی ہے۔ رگوں میں بہتی زندگی اب بھی چلتی رہتی ہے مگر احساسات جیسے کہیں راستے میں رُک جاتے ہیں۔ انسان کے اندر ایک ایسی خاموشی جنم لیتی ہے جو شور سے بھی زیادہ گہری اور خوفناک ہوتی ہے۔زندگی کی دُوڑ میں ہم سب کسی نہ کسی منزل کے مسافر ہیں۔ کوئی رشتوں کی تلاش میں بھاگ رہا ہے ۔ کوئی عزت و شہرت کی تمنا لیے دُوڑ رہا ہے۔ کوئی محبت کی طلب میں بھٹک رہا ہے مگر آخرکار ایک لمحہ ایسا ضرور آتا ہے جب انسان رُک جاتا ہے۔ ایک ایسے مقام پر جہاں نہ آگے بڑھنے کی خواہش رہتی ہے نہ پیچھے مڑ کر دیکھنے کی ،بس ایک خاموش تسلیم، ایک بے آواز ہار، ایک عجیب سی قبولیت دل کے اندر جگہ بنا لیتی ہے۔یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں انسان سمجھتا ہے کہ شاید نصیب ہی سب کچھ لکھ چکا ہے جو ہونا تھا، وہ ہو گیا۔ اب نہ کسی کو الزام دینے کی ہمت رہتی ہے نہ کسی سے گلہ کرنے کا حوصلہ۔ دل چاہتا ہے کہ سب کچھ اللہ کے حوالے کر دیا جائے کہ جو بھی ہے جیسا بھی ہے ٹھیک ہے۔ یہ ”ٹھیک ہے ”کہنے میں جتنا درد چھپا ہوتا ہے وہ الفاظ کے پردے سے باہر نہیں آتا۔کبھی کبھی ہم جن لوگوں کے بغیر جینے کا تصور نہیں کر سکتے وہی لوگ ہمیں اِس مقام تک پہنچا دیتے ہیں جہاں ہم اُن کے بغیر جینا سیکھ لیتے ہیں۔ وقت عجیب استاد ہے آہستہ آہستہ سب کچھ سکھا دیتا ہے۔ کسی کی غیر موجودگی میں سانس لینا، کسی کی خاموشی میں سکون تلاش کرنااور کسی کے رویوں کو قسمت کا فیصلہ سمجھ لینا یہ سب وقت ہی سکھاتا ہے۔زندگی کے تجربے بتاتے ہیں کہ انسان دراصل تنہائی سے نہیں ڈرتا، وہ توقعات کے ٹوٹنے سے ڈرتا ہے۔ جب یہ توقعات بار بار چکناچور ہوتی ہیں تو انسان کے اندر ایک نئی حقیقت جنم لیتی ہے ”اکیلا رہنا بہتر ہے”۔ یہ سوچ کمزوری کی علامت نہیں بلکہ ایک خاموش طاقت کی پہچان بن جاتی ہے ۔وہ طاقت جو انسان کو اندر سے مضبوط بناتی ہے ۔اُسے سکون کے قریب لے جاتی ہے۔ پھر آہستہ آہستہ انسان کا دل چھوٹی چھوٹی باتوں سے متاثر ہونا چھوڑ دیتا ہے۔ کوئی تعریف کرے تو بھی ٹھیک، کوئی تنقید کرے تو بھی ٹھیک۔ کوئی ساتھ دے تو بھی ٹھیک، کوئی چھوڑ جائے تو بھی ٹھیک۔ ایک عجب سا توازن آ جاتا ہے جیسے دل نے سمجھوتہ کر لیا ہو کہ اب کسی سے کچھ مانگنا نہیں ہے کیونکہ مانگنے سے اگر کچھ مل بھی جائے تو وہ سکون نہیں ملتا جو خود پر بھروسہ کرنے سے آتا ہے۔کبھی کبھی زندگی ایک آئینہ بن جاتی ہے ۔ہم دوسروں کو دیکھتے ہیں اور خود کو پہچاننے لگتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید مسئلہ دوسروں میں تھامگر وقت بتاتا ہے کہ اصل بدلاو ٰتوخود میں لانا ہوتا ہے ۔جو لوگ ہمیں چھوڑ گئے شاید اُن کا مقصد ہی ہمیں یہ احساس دلانا تھا کہ ہمیں خود کو سنبھالنا آنا چاہیے۔ جو دروازے بند ہوئے وہ ہمیں اِس راستے کی طرف دھکیلنے کے لیے بند ہوئے جہاں ہماری اصل منزل چھپی تھی اور پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب انسان محبت سے نہیں سکون سے عشق کرنے لگتا ہے ۔وہ باتوں سے زیادہ خاموشی کو ترجیح دیتا ہے ۔وہ چاہتا ہے کہ اُس کے اردگرد کم لوگ ہوں مگر سچے ہوں۔ اُسے شور سے نہیں، تنہائی سے اُنس ہوجاتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ سکون خریدنے سے نہیں، چھوڑ دینے سے ملتا ہے۔انسان جب نصیب پر یقین کرنے لگتا ہے تو دل کی بے چینی کم ہو جاتی ہے۔ وہ سمجھ جاتا ہے کہ ہر دکھ، ہر نقصان، ہر جدائی کسی نہ کسی مقصد کے ساتھ آئی تھی۔ زندگی ہمیں دکھا کر سکھاتی ہے کچھ چیزیں ہمیں وقت پر نہیں ملتیں کیونکہ اُن کا وقت ابھی آیا نہیں ہوتاہے اور کچھ لوگ ہمیں چھوڑ جاتے ہیںکیونکہ اُن کا کردار ہمارے سفر کے اِس باب تک ہی لکھا گیا ہوتا ہے۔یہ وہ شعور ہے جو درد سے جنم لیتا ہے ۔یہ وہ سمجھ ہے جو ہارنے کے بعد آتی ہے۔ جب انسان اپنی کوششوں، رشتوں، خوابوں سب کو آزما لیتا ہے اور پھر بھی خالی ہاتھ رہ جاتا ہے تو وہ ایک نئی زندگی شروع کرتا ہے خاموش مگر پُرسکون۔ وہ سیکھ لیتا ہے کہ خاموشی میں بھی دعا ہوتی ہے۔ اکیلے پن میں بھی قربت ہوتی ہے اور نصیب پر یقین میں بھی اُمید چھپی ہوتی ہے۔اکیلے رہنا بظاہر تنہائی لگتا ہے مگر دراصل یہ خود کو پہچاننے کا موقع ہوتا ہے۔ جب انسان اکیلا ہوتا ہے تو وہ اپنے اندر کی آواز سنتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اُس کیلئے دوسروں کی رائے سے زیادہ اپنے ضمیر کی گواہی اہم ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب انسان خود سے صلح کر لیتا ہے اور خود سے صلح کرنے والا انسان کبھی ہارتا نہیں ۔دنیا کہے گی کہ تم بدل گئے ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ تم سمجھ گئے ہو۔ تم نے سیکھ لیا ہے کہ سب کچھ پانے سے پہلے کچھ کھونا ضروری ہے۔ تم نے مان لیا ہے کہ سب کچھ کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔ تم نے یہ حقیقت تسلیم کر لی ہے کہ جو مقدر میں ہے وہ مل کر ہی رہے گا اور جو نہیں ہے وہ چاہ کر بھی نہیں ملے گااور پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب انسان دعا میں صرف یہ کہتا ہے ”یا اللہ! مجھے وہ دے جو میرے حق میں بہتر ہے چاہے وہ میری خواہش کے خلاف ہی کیوں نہ ہو”۔یہ دعا دراصل مکمل یقین کی علامت ہوتی ہے۔ یقینِ نصیب، یقینِ خالق، یقینِ سکون اور جب انسان اِس یقین تک پہنچ جاتا ہے تو پھر نہ کوئی تنہائی اُسے ڈراتی ہے نہ کوئی جدائی اُسے توڑتی ہے ۔وہ جینا سیکھ جاتا ہے مسکرانا سیکھ جاتا ہے اور سب کچھ نصیب پر چھوڑ کر اطمینان سے سانس لینا سیکھ جاتا ہے۔
ایک وقت ایسا بھی آتاہے

