بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 22.1°C
Monday, 21 September 2026 | پاکستان: 10 ر بیع الثانی 1448

باہم ترقی کا نیا آغاز۔پاکستان اور آزاد کشمیر

Monday, 21 September, 2026

یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ آزاد کشمیر کا مستقبل صرف سیاسی مباحث، احتجاجی سرگرمیوں یا مرکز و ریاست کے تعلقات کی بحث تک محدود نہیں کیا جا سکتابلکہ اس خطے کی حقیقی ترقی کو سمجھنے کے لیے مالی وسائل، تعلیم، صحت، سڑکوں، توانائی، ڈیجیٹل رابطہ کاری، سیاحت، روزگار اور وفاقی تعاون کو ایک ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔یاد رہے کہ مالی سال 2025ـ26 میں آزاد کشمیر کا ترقیاتی پروگرام 49 ارب روپے رکھا گیا اور سرکاری ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، مواصلات، مقامی حکومت، توانائی، آئی ٹی، تحقیق، سیاحت، نوجوانوں اور ثقافت کیلئے وسائل مختص کیے گئے ۔ تاہم اصل کامیابی بجٹ کے حجم سے نہیں بلکہ اس بات سے طے ہوگی کہ مختص رقم کتنی مؤثر انداز میں خرچ ہوئی، منصوبے کب مکمل ہوئے اور ان کا فائدہ عام شہری تک کتنی تیزی سے پہنچا۔واضح رہے کہ پاکستان کا کردار اس پورے عمل میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے کیوں کہ وفاقی بجٹ میں آزاد کشمیر کیلئے گرانٹس اور ترقیاتی وسائل کی فراہمی کیساتھ مختلف شعبوں میں منصوبوں کی معاونت کی جاتی ہے۔ مالی تعاون کے علاوہ وفاقی ادارے صحت، تعلیم، بجلی، سڑکوں، پلوں، پانی، ڈیجیٹل رابطہ کاری اور دیگر بنیادی سہولیات کے منصوبوں میں بھی کردار ادا کرتے ہیں اور اسی تناظر میں پاکستان کی معاونت کا ایک اہم پہلو بنیادی ڈھانچے کی ترقی ہے۔کسے معلوم نہیں کہ آزاد کشمیر کا پہاڑی جغرافیہ سڑکوں، پلوں اور رابطہ ذرائع کی تعمیر کو مشکل اور مہنگا بناتا ہے ۔ ایسے حالات میں وفاقی تعاون سے بننے والی سڑکیں صرف سفر آسان نہیں کرتیں بلکہ تعلیم، صحت، تجارت، سیاحت اور روزگار تک رسائی بھی بہتر بناتی ہیں۔توانائی کے شعبے میں آزاد کشمیر کے آبی وسائل پاکستان کے لیے بھی اہم معاشی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہائیڈرو پاور منصوبوں کی ترقی سے بجلی کی پیداوار، مقامی روزگار اور قومی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملی ہے۔اسی طرح صحت کے میدان میں پاکستان اور آزاد کشمیر کا تعاون براہ راست عوامی زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ وزیراعظم ہیلتھ پروگرام کے ذریعے آزاد کشمیر کے شہریوں کو ہسپتال میں داخلے اور علاج کی سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے کیوں کہ پہاڑی اور دور افتادہ علاقوں میں صحت کی سہولت تک بروقت رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے، اس لیے وفاقی معاونت کو مقامی صحت کے نظام کی ضروریات کے ساتھ مربوط کرنا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔تعلیم اور نوجوانوں کی ترقی بھی مشترکہ شراکت داری کا اہم حصہ ہے اور اسی پس منظر میں آزاد کشمیر کے نوجوانوں کو پاکستان کے تعلیمی، تکنیکی اور ڈیجیٹل مواقع سے جوڑنے کیلئے اسکالرشپس ، ہنر مندی، لیپ ٹاپ، فنی تربیت اور آن لائن تعلیم کے پروگراموں کو مزید وسیع کیا گیا ہے۔ اگر دور افتادہ علاقوں کے نوجوان جدید مہارتیں حاصل کریں تو وہ مقامی روزگار کے ساتھ قومی اور عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ میں بھی حصہ لے سکتے ہیں۔ڈیجیٹل رابطہ کاری مستقبل کی معیشت میں آزاد کشمیر کے لیے نئی راہیںکھولیں ہے۔ فور جی، آپٹیکل فائبر، موبائل نیٹ ورک، سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس اور ڈیجیٹل تربیت کے ذریعے نوجوان فری لانسنگ، سافٹ ویئر، ای کامرس، آن لائن تعلیم اور ڈیجیٹل خدمات سے آمدنی حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہیں۔سیاحت آزاد کشمیر اور پاکستان کے درمیان معاشی شراکت داری کا ایک اہم میدان ہے ۔ نیلم ویلی، لیپہ، پیر چناسی، راولاکوٹ، باغ، حویلی اور دیگر علاقوں کی قدرتی خوبصورتی ملکی سیاحت کیلئے بڑی صلاحیت رکھتی ہے لیکن سیاحت کو مستقل صنعت بنانے کیلئے بہتر سڑکیں، ہوٹلنگ، صفائی، ریسکیو سروسز، انٹرنیٹ، مقامی مصنوعات اور تربیت یافتہ افرادی قوت ضروری ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے درمیان تعاون کو صرف مالی امداد کے تصور تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ اصل ضرورت طویل المدتی ترقیاتی شراکت داری کی ہے۔ وفاقی حکومت انفراسٹرکچر، توانائی، صحت، تعلیم، ڈیجیٹل رابطہ کاری اور سرمایہ کاری میں معاونت فراہم کرے، جبکہ آزاد کشمیر حکومت مقامی ضروریات کے مطابق منصوبوں کی ترجیح، شفافیت، نگرانی اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنائے ۔ مبصرین کے مطابق اسی تناظر میں وفاقی اور ریاستی اداروں کے درمیان بہتر رابطہ بھی ضروری ہے۔ مشترکہ منصوبوں کیلئے واضح اہداف، باقاعدہ نگرانی اور عوامی سطح پر پیشرفت کی معلومات فراہم کی جائیں تو وسائل کے استعمال میں اعتماد بڑھے گا۔ یہ ضروری ہے کہ آزاد کشمیر کی مقامی ترجیحات، جغرافیائی ضروریات اور عوامی توقعات کو ترقیاتی فیصلوں میں مناسب جگہ دی جائے۔ ایسی شراکت داری امداد کے بجائے باہمی ذمہ داری، اعتماد اور دیرپا معاشی تعاون کی بنیاد بن سکتی ہے ۔ اصل سوال یہ ہے کہ کتنے اسکول بہتر ہوئے، کتنے ہسپتال فعال ہوئے، کتنی سڑکیں مکمل ہوئیں، کتنے نوجوانوں کو ہنر اور روزگار ملا، کتنے علاقوں تک تیز رفتار انٹرنیٹ پہنچا اور کتنے نئے کاروبار پیدا ہوئے۔ اسی طرح وفاقی وسائل کے استعمال میں شفافیت، منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوامی نگرانی ضروری ہے ۔ حرف آخر کے طور پر آزاد کشمیر کی ترقی کو پاکستان کے ساتھ مشترکہ خوشحالی کے وسیع تصور میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔پاکستان کی مالی معاونت، بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، صحت و تعلیم کے پروگرام، توانائی کے منصوبے، ڈیجیٹل رابطہ کاری اور نوجوانوں کیلئے ہنر مندی کے مواقع اس شراکت داری کی بنیاد بن سکتے ہیں تو دوسری طرف آزاد کشمیر کے قدرتی وسائل، انسانی سرمایہ اور سیاحتی صلاحیت اس تعاون کو عملی کامیابی میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اصل کامیابی کسی سیاسی بیانیے کی فتح نہیں بلکہ ایسے قابلِ تصدیق نتائج ہیں جو عام شہری کی زندگی بہتر بنائیں۔ آنیوالے برسوں میں پاکستان اور آزاد کشمیر باہمی تعاون کو مزید منظم کرتے ہوئے تعلیم، صحت، روزگار، توانائی، سیاحت اور ٹیکنالوجی کو مشترکہ ترقی کی نئی بلندیوں تک لے کر جائیں گے۔امیدکی جانی چاہیے کہ دو فریقین اس ضمن میں اپنا کردار احسن ڈھنگ سے نبھائیں گے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *