بھارتی میڈیا پر پاکستان کو مٹی میں ملا دینے کی کھلم کھلا دھمکی دی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ بھارت جنگ کیلئے تیار ہے۔بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف آپریشن بدلہ شروع ہو جانے کا بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے۔بھارت کی جنگی تیاریوں پر پاکستان حکومت اور افواج نے کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری مکمل کر لی۔ بھارت کی پاکستان دشمن پالیسیوں پر عالمی طاقتیں خاموش، کیا دنیا نئی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔اسلام آباد نے بھارتی وزیر اعظم کے بیانات کو ‘گمراہ کن’ قرار دیا اور کہا کہ جنوبی ایشیا کا امن و استحکام ‘بھارت کی ہٹ دھرمی اور تسلط پسندانہ عزائم کا یرغمال’ ہے۔ اس نے مودی پر تنازع کشمیر کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے بیان میں پاکستان پر حسب معمول دہشت گردی کی سرپرستی کرنے کا الزام لگایا۔ نریندر مودی نے امریکی پوڈ کاسٹر لیکس فریڈمین کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ امن کے قیام کی بھارتی کوششوں کا جواب دشمنی اور دھوکہ دہی سے ملا۔ پوڈکاسٹ میں مودی سے سوال کیا گیا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان سرد تعلقات ہیں اور اس کے مستقبل کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ تقسیم کے المناک واقعات کے بعد دونوں طرف خونریزی دیکھی گئی، لیکن اس کے باوجود، "ہم نے ان (پاکستان) سے جیو اور جینے دو کی توقع کی، تاہم انہوں نے ہمارے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ نہ رہنے کا فیصلہ کیا اور ہمارے خلاف پراکسی جنگ چھیڑ دی۔”بھارتی وزیر اعظم نے اپنے بیان میں پاکستان پر حسب معمول دہشت گردی کی سرپرستی کرنے کا بھی الزام لگایا اور کہا کہ شاید ہی کبھی اسلام آباد میں دوطرفہ تعلقات کی بہتری کا خیال غالب آئے۔پاکستان نے مودی کے ان تبصروں کو مسترد کرتے ہوئے بھارت پر الزام لگایا کہ وہ پاکستانی سرزمین پر عسکریت پسندی کو ہوا دینے اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اختلاف رائے کو دبانے میں ملوث ہونے کے ساتھ ہی خود کو "متاثر بتانے کی فرضی داستان” فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
بھارت خود "متاثرہ ہونے کی فرضی داستان” گھڑ کر پاکستانی سرزمین پر دہشت گردی کو ہوا دینے اور بھارت کے زیر قبضہ (زیر انتظام) کشمیر میں ریاست کی سرپرستی میں ہونے والے جبر کو چھپا نہیں سکتا ہے۔”پاکستانی دفتر خارجہ نے جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو تعمیری مشغولیت اور بامعنی بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دوسروں پر الزام لگانے کے بجائے، بھارت کو غیر ملکی سرزمینوں پر ٹارگٹڈ قتل، تخریب کاری اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے اپنے ریکارڈ پر غور کرنا چاہیے ۔ پاکستان نے جموں و کشمیر کے بنیادی تنازعے سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو حل کرنے کے لیے ہمیشہ تعمیری مشغولیت اور نتیجہ خیز مذاکرات کی وکالت کی ہے، تاہم، جنوبی ایشیا میں امن و استحکام بھارت کے سخت رویے اور تسلط پسندانہ عزائم کا یرغمال بنا ہوا ہے۔ بھارت کی طرف سے پاکستان مخالف بیانیے نے دوطرفہ ماحول کو نہ صرف خراب کیا ہے بلکہ "امن اور تعاون کے امکانات کو بھی متاثر کیا، "جسے رکنا چاہیے۔اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان تاریخی طور پر تعلقات بہت اچھے نہیں رہے ہیں اور جب سے بھارت میں نریندر مودی کی قیادت والی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے تب سے تو تعلقات نچلی ترین سطح پر ہیں۔بھارت اکثر پاکستان کے خلاف بیانات جاری کرتا رہتا ہے اور پھر بعد میں اسلام آباد کی جانب سے تردیدی بیان جاری ہوتا ہے۔بھارت کی پہلگام حملے کو جواز بنا کر خطے میںدوبارہ جنگی ماحول پیدا کرنے کی سازش کی جا رہی اور اسے سلسلے میں مودی نے افواج کو کسی بھی وقت، کسی بھی ہدف کو نشانہ بنانے کی مکمل آزادی دے دی۔ بھارتی کابینہ کی سیکیورٹی کمیٹی کے مسلسل اجلاس میں پاکستان کے خلاف فوری اور اسٹریٹیجک اقدامات پر مشاورت کی جا رہی ہے۔
بھارت نے پہلے بھی سندھ طاس معاہدے کو معطل کر کے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کھلی دھمکی دی جبکہ پاکستان کے شہریوں کو ملک بدر کرنے اور سفارتی تعلقات محدود کرنے کا بھارتی فیصلہ، نفرت انگیز پالیسیوں کا تسلسل ہے۔بھارت کی جانب سے دوبارہ سرجیکل اسٹرائیک یا بالاکوٹ جیسے حملے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ بھارتی فوج، فضائیہ اور بحریہ کو مکمل تیار باشی کا حکم، ایک اور مسلح تصادم کا خدشہ بڑھ گیا۔بھارت دہشتگردی کے جھوٹے بیانیے کو بنیاد بنا کر پاکستان پر الزام تراشی اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے دریا خشک ہونے کی بھارتی پروپیگنڈا مہم بھی جاری ہے۔ بھارت پانی کی قلت کو سیاسی ہتھیار بنا رہا ہے۔بھارتی وزراء کا جنگی بیانیہ، خود ساختہ خطرہ بنا کر عوامی توجہ اصل مسائل سے ہٹائی جا رہی ہے۔ مودی حکومت کی جارحانہ سوچ نے پورے خطے کو خطرے میں ڈال دیا، امن کی ہر کوشش سبوتاژ کرنے کا منصوبہ بھی تیار کر لیا گیا۔
بھارتی میڈیاکی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی

