Site icon Daily Pakistan

حج 2026 ء خدمت، سہولت اور احتساب کا پیغام

"لبیک اللہم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک کی صداؤں سے گونجتی ہوئی وادیاں، دنیا کے ہر رنگ، نسل اور زبان سے تعلق رکھنے والے لاکھوں فرزندانِ اسلام، اور ان سب کے درمیان ایک ایسی روحانی فضا جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں۔ حج صرف ایک عبادت نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد، مساوات اور بندگیِ رب کا عظیم ترین مظہر ہے۔حج 2026 ء اپنے اختتام کی طرف بڑھ چکا ہے اور لاکھوں حجاجِ کرام اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے ہیں۔ اس موقع پر دل سے یہ احساس ابھرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان مہمانوں کی خدمت میں جس محنت، منصوبہ بندی اور انتظامی صلاحیت کا مظاہرہ کیا گیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ سعودی عرب کی حکومت، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے عوام، سیکورٹی اداروں، طبی عملے، رضاکاروں اور تمام متعلقہ محکموں کو مبارکباد دی جانی چاہیے کہ انہوں نے ایک بار پھر حج کو محفوظ، منظم اور آسان بنانے کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کیں۔ میں نے 1977 میں حج کیا تھا۔ میرے والدین نے 1981 میں حج کی سعادت حاصل کی۔ اس زمانے کے حج کی یادیں آج بھی ذہن میں تازہ ہیں۔ سفر کی مشکلات الگ تھیں، رہائش کے مسائل الگ، اور حجاج کی رہنمائی کے لیے جدید ذرائع تو سرے سے موجود ہی نہیں تھے۔ لاکھوں لوگوں کے ہجوم میں گم ہو جانا، طبی سہولیات تک فوری رسائی نہ ہونا اور معلومات کی کمی جیسے مسائل عام تھے۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ حالات بدلتے گئے۔ آج جدید ٹیکنالوجی، وسیع سڑکوں، تیز رفتار ٹرانسپورٹ، ڈیجیٹل سروسز، موبائل ایپلی کیشنز، جدید ہسپتالوں اور تربیت یافتہ عملے نے حج کے انتظامات کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حج 2026 کو بہت سے لوگ کامیاب ترین حجوں میں شمار کر رہے ہیں۔چند روز قبل میری گفتگو ترکی میں موجود اپنے دوست یوسف خان سے ہوئی جو اہلِ خانہ کے ساتھ حج پر تھے۔ ان سے پوچھا کہ اس سال حج کے انتظامات کیسے رہے؟ انہوں نے بلا تردد کہا کہ الحمدللہ بہترین۔انکے مطابق رہنمائی، ٹرانسپورٹ، صفائی، طبی امداد اور سیکورٹی کے انتظامات ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر تھے۔یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حج کا معاملہ سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے ۔ اگر انتظامات اچھے ہیں تو ان کی تعریف ہونی چاہیے اور اگر کہیں کوتاہی ہے تو اس کی نشاندہی بھی ہونی چاہیے۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اگر کوئی حکومت ہماری پسند کی ہے تو ہر خامی کو نظرانداز کر دیا جائے اور اگر مخالف ہے تو ہر اچھے کام کو بھی تسلیم نہ کیا جائے۔پاکستان میں بھی مختلف ادوار میں حج انتظامات مختلف حکومتوں کے تحت ہوتے رہے ہیں بعض اوقات بہترین انتظامات ہوئے اور بعض اوقات سنگین شکایات سامنے آئیں۔ ہم نے وہ دور بھی دیکھے ہیں جب حج کو بعض لوگوں نے عبادت کے بجائے کمائی کا ذریعہ بنا لیا تھا۔ معلموں سے تعلقات، رہائش کے ٹھیکے، سفری معاملات اور دیگر انتظامی امور میں بدعنوانی کی کہانیاں زبان زدِ عام رہیں۔کئی بار ایسا ہوا کہ حاجیوں کی خدمت کے نام پر ایسے عناصر آگے آگئے جن کا مقصد صرف مالی فائدہ حاصل کرنا تھا۔ یہ لوگ نہ حاجیوں کی مشکلات سے دلچسپی رکھتے تھے اور نہ ہی اس مقدس فریضے کے تقدس سے۔ ان کی تمام توجہ اپنے مفادات کے حصول پر مرکوز رہتی تھی۔بدقسمتی سے ماضی میں بعض ایسے واقعات بھی سامنے آئے جنہوں نے پاکستانی حجاج کو مشکلات میں مبتلا کیا۔ رہائش کے ناقص انتظامات، غیر معیاری سہولیات اور شکایات کے انبار اس بات کا ثبوت تھے کہ صرف دعوؤں سے کام نہیں چلتا بلکہ دیانت داری اور نگرانی بھی ضروری ہے۔ اسی لیے میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ احتساب ہر دور میں ہونا چاہیے۔ اگر کوئی شخص کسی بھی حکومت کے دور میں حاجیوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالے تو اس کا تعلق خواہ کسی سیاسی جماعت سے ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔ غلط کام غلط ہی رہتا ہے۔حج 2026 کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس میں جدید انتظامی سوچ اور انسانی خدمت کا حسین امتزاج نظر آیا۔ لاکھوں افراد کی نقل و حرکت، خوراک، رہائش، صحت اور سیکورٹی جیسے معاملات کو سنبھالنا دنیا کے کسی بھی بڑے ایونٹ سے کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔ مگر سعودی حکام نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ مسلسل بہتری کے ذریعے اس چیلنج سے نمٹا جا سکتا ہے۔خصوصا سیکورٹی اہلکار خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ شدید گرمی، طویل ڈیوٹیاں اور مسلسل ہجوم کے باوجود انہوں نے جس صبر اور پیشہ ورانہ انداز کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تعریف ہے۔ اسی طرح طبی عملے نے ہزاروں مریضوں کو بروقت امداد فراہم کی اور کئی جانیں بچائیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ حج صرف انتظامات کا نام نہیں بلکہ روحانیت کا سفر ہے۔ عرفات میں کھڑے ہو کر بہنے والے آنسو، مزدلفہ کی رات، منی کے ایام اور بیت اللہ کا دیدار انسان کی زندگی بدل دیتے ہیں۔ دنیا بھر سے آنے والے مسلمان ایک ہی لباس میں یہ پیغام دیتے ہیں کہ اللہ کے سامنے کوئی بڑا اور چھوٹا نہیں، کوئی امیر اور غریب نہیں، کوئی حکمران اور محکوم نہیں۔باقی سرکاری حج کرنے والے وہ اللہ سے پائیں گے ان کی سیر سیاحت ہو جائے گی لیکن حج نہیں ہوگا کہ غریب لوگوں کے پیسوں کے اوپر جو حج کریں گے البتہ ان کا جواب اس موجودہ حکومت کو دینا پڑے گا کون کون سے وہ کالی بھیڑیں تھی جنہوں نے غریب عوام کے پیسے سے حج کیاآج جب حجاجِ کرام اپنے وطنوں کو لوٹ رہے ہیں تو ان کے ساتھ دعائیں، یادیں اور روحانی تجربات بھی واپس جا رہے ہیں۔ ان کے چہروں پر اطمینان اور دلوں میں شکرگزاری کا احساس اس بات کی علامت ہے کہ حج کا مقصد صرف مناسک ادا کرنا نہیں بلکہ اپنے اندر ایک نئی تبدیلی پیدا کرنا بھی ہے۔ہمیں چاہیے کہ حج کے موقع پر پیدا ہونے والے اتحاد، نظم و ضبط، برداشت اور بھائی چارے کے جذبے کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ اگر مسلمان حج کے اسباق کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کر لیں تو بہت سے معاشرتی اور سیاسی مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔آخر میں سعودی حکومت، خادم الحرمین الشریفین، انتظامیہ، سیکورٹی اداروں، طبی عملے، رضاکاروں اور مکہ و مدینہ کے باسیوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اللہ کے مہمانوں کی خدمت کا حق ادا کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ ساتھ ہی یہ امید بھی کرتا ہوں کہ آئندہ برسوں میں مزید سہولیات اور بہتری کے اقدامات جاری رہیں گے۔اللہ تعالیٰ تمام حجاجِ کرام کا حج قبول فرمائے ان کی عبادات کو شرفِ قبولیت بخشے، انہیں اپنے اہلِ خانہ میں خیریت کیساتھ واپس پہنچائے اور پوری امتِ مسلمہ کو اتحاد، امن اور استحکام کی نعمت عطا فرمائے۔

Exit mobile version