اللہ رب العزت نے انسان کو خوبصورت شکل میں تخلیق فرمایا اور انسان کو سمجھ و عقل جیسی نعمتوں سے نوازا۔ انسانوںمیںوہ انسان خوش نصیب ہیں جو اللہ رب العزت اور ان کے نیک بندوں سے محبت کرتے ہیں۔ محبت کا جذبہ طاقت ور اور محبت کا رشتہ لازوال ہوتا ہے۔آپ کو جس سے الفت و محبت ہوگی تو آپ ان کے قریب رہنا پسند کریں گے ،ان کے نقش قدم پر چلنے کی سعی کریں گے اوران کی راہ کو اپنائیں گے۔جس سے اللہ رب العزت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محبت کریں گے،ان کا مقام کیا ہوگا؟وہ درجہ اور مقام اللہ رب العزت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی جانتے ہیں۔ان عظیم ہستیوں سے محبت کریں جن سے اللہ رب العزت اور ر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محبت کرتے ہیں ۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرماےا کہ”جس نے ان دونوں ( حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسےنؓ) سے محبت کی ،اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے عداوت کی اس نے مجھ سے عداوت کی۔©” اسی طرح اےک اور موقع پر آپ ﷺ نے فرماےا کہ” حسےن ؓ مجھ سے ہے اور میں حسےنؓ سے ، ےااللہ جو حسےنؓ کو محبوب رکھے تو اسے محبوب رکھ۔”حب حضرت امام حسےنؓ جزو اےمان ہے ۔ واقعہ کربلا قابل فراموش نہیں ۔ واقعہ کربلا ہر مسلمان کے دل میں ہونا چاہےے۔اس واقعہ سے سب مسلمان کو غم زادہ اور رنجےدہ ہونا چاہےے۔امام عالی مقام ؓنے جس مقصد کےلئے عظیم قربانی دی تھی، وہ آپ ؓ کے خط اور خطبہ کے اقتباسات سے عےاں ہوجاتا ہے۔حضرت امام حسےنؓ نے اشراف اہل بصرہ کو اےک خط تحرےر فرماےا تھا کہ”آپ لوگ دےکھ رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت مٹ رہی ہے اور بدعات پھےلائی جارہی ہیں۔میں تمہیں دعوت دےتا ہوں کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کی حفاظت کرو اور اس کے احکام کی تنفےذ کےلئے کوشش کرو۔” اور اب ملاحظہ فر مائےں کہ جب امام حسےن ؑ نے اپنے اہل بےت اور اصحاب کو جمع کرکے اےک خطبہ میں فرماےا تھاکہ”میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں، راحت میں بھی اور مصےبت میں بھی، ےااللہ میں آپ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ آپ نے ہمیںشرافت نبوت سے نوازا، اور ہمیں کان، آنکھ اور دل دئےے جن سے ہم آپ کی آےات سمجھےں اور ہمیں آپ نے قرآن سکھاےا اور دےن کی سمجھ عطا فرمائی۔ ہمیں آپ اپنے شکرگزار بندوں میں داخل فرمالیجئے ۔ ” حضرت امام حسےن ؓ نے اپنی زےست اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی رضا کےلئے بسر کی۔اللہ اور اس کے رسول ﷺ کےلئے اپنی زندگی وقف کی تھی۔اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے نام کی سر بلندی کےلئے اپنی جان اور سب کچھ نچھاور کیا۔اسلام کی عظمت کےلئے اپنے رفقاءسمےت جام شہادت نوش فر مائی۔ےزےد بے دےن، فاسق، بدکار، شرابی اور ظالم تھا۔حضرت امام حسےن ؓ نے سب کچھ قربان کردےا لیکن اس کی بےعت نہیں کی۔شہدائے کربلا نے دنےا کو ےہ درس دےا کہ فاسق ،بدکار، شرابی اور ظالم اسلام کا دشمن ہوتا ہے اور پوری انسانےت کا بھی دشمن ہوتا ہے۔جہاں تک ہوسکے اےسے فاسق ، بدکاروں، شر ابےوں اور ظالموں کا راستہ روکیں کیونکہ اےسے عناصر پوری دنےا کےلئے نقصان دہ ہوتے ہیں ۔ہر کمیونٹی اور ہر معاشرے کےلئے نقشِ باطل ہوتے ہیں۔کربلا کے مےدان میں حق اور باطل کی لڑائی تھی۔سچ اور جھوٹ کی لڑائی تھی۔نمازی اور بے نمازی کی لڑائی تھی ۔آج دنےا میںمحمد کے بعد سب سے زےادہ نام علی اور حسےن کے ہےں۔دنےا والے اپنے بچوں کے نام عظیم ہستےوں کی نسبت محمد ، علی اور حسےن رکھتے ہےں لیکن کوئی اپنے بچے کانام ےزےد نہیں رکھتا ہے۔ہر گھر میں امام عالی مقام ؓ کا تذکرہ ہوتا ہے اوران کی شان بےان کی جاتی ہے۔امام حسےنؓ نے اےسی عظےم قربانی دی کہ قےامت تک اس کو ےادرکھا جائے گا۔دنےا والو! دنےا میں دو ہی راستے ہیں، اےک امام حسےنؓ کا راستہ ہے اوردوسرا ےزےد کا راستہ ہے ۔ ےزےد کے راستے میں جھوٹ، فرےب ،دھوکا،شراب، بدکاری ، بے اےمانی اور ظلم ہے جبکہ امام حسےن ؓ کے راستے میں سچ،انصاف، مساوات، سےرت طیبہ ،پرہےز گاری ،اےمان اورامن ہے جس کو حسےن ؓ سے محبت ہے ، وہ حسےن ؓ کا راستہ اپنائے، وہ سچ بولیں،وہ نماز پڑھےں، وہ دوسروں کی مدد کرےں۔وہ قرآن اور سنت پر عمل کرےں۔حسےن ؓ کی راہ میں کامےابی اور کامرانی ہے۔حضرت امام حسےن ؓ کا راستہ حضرت علیؓ کا راستہ ہے۔ حضرت علیؓ کا راستہ رسول اللہ ﷺ کا راستہ ہے اور رسول اللہ ﷺ کا راستہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے۔اگر دنےا اور آخرت میں کامرانی چاہتے ہو تو ےہی راستہ ہے۔ےہی راستہ محبت کا ہے اور ےہی راستہ امن کا ہے۔ ےہی راستہ انصاف کا ہے اور ےہی راستہ مساوات کاہے۔ےہی راستہ انسانےت کا ہے اور ےہی راستہ جنت کا ہے۔قارئےن کرام!خاکسار نہ بڑا لکھاری ہے اور نہ ہی بڑا قاری ہے لیکن الحمد اللہ اہل بےت کا ادنیٰ سا غلام ہے۔اسی غلامی پر فخروناز ہے۔ خاکسار میںاتنی سکت کہاںہے کہ وہ مقام حضرت امام حسین ؑ اورشہداءکربلا تحرےر کرسکے لیکن سرور کونےن حضرت محمدﷺ اور آل محمدﷺسے محبت و الفت کی چنگاری ہے جو سلگتی رہتی ہے ۔ اگران چند الفاظ میں کوتاہی ہوئی ہو تومعافی کا طلب گار ہوں۔دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمارے سب کے دلوں میں اہل بےت سے محبت پےدا کردے اور ان کی راستے پر چلنے کی توفےق دے۔اللہ رب العزت دےن کی سمجھ عطا فرمائے اور صراط مستقےم پر چلادے۔(آمین)
حسینؓ کا راستہ۔۔۔۔!

