Site icon Daily Pakistan

رانی پور میں قتل کی جانے والی بچی کے لیے "انصاف” کیا جائے، نمائندگان برائے حقوق

رانی پور میں قتل کی جانے والی بچی کے لیے "انصاف" کیا جائے، نمائندگان برائے حقوق

رانی پور میں قتل کی جانے والی بچی کے لیے "انصاف" کیا جائے، نمائندگان برائے حقوق

تھائی لینڈ کے شہر چیانگ مائی میں منعقد ہونے والے ایک انٹرنیشنل پروگرام میں رانی پور کیس میں انصاف کے لیے مختلف ممالک کے نمائندگان نے مل کر آواز بلند کی ہے۔

انسانی حقوق اور حقوقِ نسواں پر کام کرنے والی شخصیات نے رانی پور میں قتل کی جانے والی بچی کے لیے فوری انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

سندھ کے پسماندہ علاقے رانی پور میں قتل کی جانے والی بچی کی فیملی سے اظہارِیکجہتی کرتے ہوئے، پروگرام میں شریک شخصیات نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اُٹھائے ہوئے تھے جس پر قتل کی جانے والی بچی کے لیے انصاف مانگے جانے کے الفاظ درج تھے، انسانی حقوق کے علمبرداروں نے "ہم آواز” ہو کر بھی اپنے جذبات کا اظہار کیا۔

تھائی لینڈ میں منعقد ہونے والے پروگرام میں پاکستان، انڈیا ، ملائیشیا، فلپائن، سری لنکا، نیپال، بنگلہ دیش، میانمار اور دیگر ممالک بشمول تھائی لینڈ کے مقامی نمائندگان شریک تھے ۔ پاکستان سے ایڈووکیٹ صفیہ لاکھو ، اُمِ لیلی اظہر، اور ثمرین خان غوری نے انٹرنیشنل ایونٹ میں شرکت کی۔

دوسری جانب پاکستان میں بھی مقتول بچی کے حق میں آوازیں بلند کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے، پاکستانی عوام کا مطالبہ ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے قاتلوں کو فوری طور پر ان کے کیے کی سزا دی جائے تاکہ مقتول بچی کی روح کو قرار ملِ سکے، اور زندہ درگور والدین کی سانسیں بھی بحال ہو سکیں۔

واضح رہے کہ رانی پور کیس کے حوالے سے پاکستانی عوام کی سندھ کے عبوری وزیرِ قانون، وزیر داخلہ اور وزیر صحت سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں اور عوام کو امید ہے کہ تینوں عبوری وزیر اُن کی توقعات پر پورا اتریں گے۔

Exit mobile version