Site icon Daily Pakistan

سائفر، اڈے اور عالمی شطرنج : وہ سوال جو ادھورا رہ گیا

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سائفر محض ایک خفیہ دستاویز نہیں بلکہ ایک ایسا استعارہ بن چکا ہے جس نے ریاست کے اندرونی اور بیرونی تعلقات کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ آج کل ایک سوال تواتر کے ساتھ دہرایا جاتا ہے،اگر سائفر سچ تھا اور امریکہ کو اڈے چاہیے تھے، تو حکومت کی تبدیلی کے بعد اڈے کیوں نہیں لیے گئے؟بظاہر یہ سوال بہت وزنی معلوم ہوتا ہے، لیکن بین الاقوامی سیاست کے طالب علم جانتے ہیں کہ عالمی طاقتیں اپنے اہداف کے حصول کے لئے ہمیشہ براہِ راست قبضے کے بجائے اثر و رسوخ کے نئے ڈھانچوں کا انتخاب کرتی ہیں۔پہلا نکتہ جو سمجھنے کی ضرورت ہے وہ اڈوں کی بدلی ہوئی تعریف ہے۔ سرد جنگ کے دور میں اڈے کا مطلب ہزاروں فوجیوں کی موجودگی اور بڑی تنصیبات ہوتی تھیں۔ آج کے ڈیجیٹل اور ڈرون دور میں امریکہ کو اپنی اوور دی ہورائزن صلاحیت کے لئے پاکستان کی زمین پر جسمانی موجودگی سے زیادہ اس کی فضائی حدود اور انٹیلی جنس تعاون کی ضرورت ہے۔ عمران خان کا ”ایبسولیوٹلی ناٹ”دراصل اس خاموش تعاون کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ تھا جو امریکہ کو افغانستان پر نظر رکھنے کے لیے درکار تھا۔ جب حکومت تبدیل ہوئی، تو وہ مزاحمت ختم ہوگئی۔ واشنگٹن کو اب کسی باقاعدہ اڈے کے نام پر عوامی احتجاج بھڑکانے کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ نئی انتظامیہ کے ساتھ وہ خاموش تفہیم پیدا ہو چکی تھی جو بغیر کسی شور شرابے کے امریکی مفادات کا تحفظ کر سکے۔دوسری اہم منطق کاسٹ بینیفٹ اینالیسس ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں جب کوئی طاقت اپنے مخالف کو راستے سے ہٹا دیتی ہے، تو اس کا مقصد لازمی نہیں کہ وہ فوری طور پر کسی متنازع عمل (جیسے اڈے لینا)کا آغاز کرے ۔ امریکہ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھا کہ عمران خان کی برطرفی کے بعد پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات عروج پر ہیں۔ ایسی صورتحال میں اڈے لینا نئی آنے والی دوستانہ حکومت کے لیے سیاسی خودکشی کے مترادف ہوتا۔ امریکہ نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اڈوں کے مطالبے کو پسِ پشت ڈالا تاکہ پاکستان کی نئی قیادت کو مستحکم ہونے کا موقع ملے اور ساتھ ہی ساتھ آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کے ذریعے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو دوبارہ واشنگٹن اتفاقِ رائے کے تابع کیا جا سکے۔تیسرا نکتہ جغرافیائی توازن اور چین کا عنصر ہے۔ پاکستان کیلئے باقاعدہ طور پر امریکی اڈے کھولنا چین کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات میں دراڑ ڈالنے کے مترادف ہوتا۔ امریکہ کا مقصد پاکستان کو چین سے مکمل توڑنا نہیں، بلکہ اسے ایک ایسی سطح پر رکھنا تھا جہاں وہ امریکی مفادات کے خلاف کسی بڑے بلاک جیسے روس، چین، ایران اتحادکا حصہ نہ بنے۔ سائفر کے ذریعے جو دباؤ ڈالا گیا، اس کا بڑا مقصد پاکستان کو یوکرین جنگ پر روس کی حمایت سے روکنا اور واشنگٹن کے مدار میں واپس لانا تھا۔ جب یہ مقصد حاصل ہو گیا، تو اڈے لینے کی تکنیکی ضرورت ثانوی ہو گئی۔آخری اور سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ طاقتور ریاستیں ہمیشہ کم سے کم مداخلت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ نتائج چاہتی ہیں۔ اگر ایک فون کال یا ایک سفارتی دھمکی (سائفر)سے ملک کی پالیسی سازی کا رخ بدلا جا سکتا ہے، تو پھر اربوں ڈالر خرچ کر کے اڈے بنانے اور وہاں اپنی فوجیں بٹھانے کی زحمت کون کرے گا؟لہذا، یہ استدلال کہ اڈے نہیں لیے تو سائفر جھوٹا تھا،عالمی سیاست کی باریکیوں سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اڈوں کی ضرورت ایک ذریعہ تھی، جبکہ اصل مقصد پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ایک مخصوص سمت میں موڑنا تھا۔ جب مقصد حاصل ہو جائے تو ذرائع کی بحث غیر ضروری ہو جاتی ہے۔ امریکہ نے پاکستان سے وہ سیاسی اور تزویراتی فوائد حاصل کر لیے جن کے لیے اسے شاید اڈوں کی ضرورت پڑتی، اور یہی وہ نکتہ ہے جسے اس سوال کے جواب میں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

Exit mobile version