Site icon Daily Pakistan

سرکاڈین ردھم کے اثرات۔۔۔!

نیند محض ایک غیرفعال کیفیت نہیں بلکہ ایک پیچیدہ حیاتیاتی عمل ہے جس کے دوران جسم خود کو دوبارہ ترتیب دیتا ہے، خلیات مرمت ہوتے ہیں، دماغ دن بھر کی معلومات کو چھانٹ کر محفوظ کرتا ہے اور قوتِ مدافعت مضبوط ہوتی ہے۔ اس پورے عمل کی رہنمائی سرکاڈین ردھم کرتا ہے۔ سرکاڈین کا مطلب ہے "چوبیس گھنٹے پر مشتمل تال”، اور یہی تال ہمارے سونے جاگنے کے اوقات کو فطرت کے مطابق رکھتی ہے۔ دن کی روشنی آنکھوں کے ذریعے دماغ کو پیغام دیتی ہے کہ جاگنے کا وقت ہے اور جیسے ہی اندھیرا چھاتا ہے تو جسم میلٹونن خارج کر کے ہمیں سونے کی طرف لے جاتا ہے ۔ یہ ایک نہایت باریک مگر حیرت انگیز نظام ہے لیکن جب کوئی شخص دیر تک جاگنے لگتا ہے، رات کے وقت روشنی کے سامنے بیٹھتا ہے یا اپنی نیند کا نظام الٹ دیتا ہے تو یہ قدرتی تال بگڑ جاتی ہے، جس کے نقصانات نہایت سنگین ہیں۔رات کو دیر تک جاگنے کا سب سے پہلا اثر دماغ پر پڑتا ہے۔ نیند کے دوران دماغ میں موجود گلائیمفٹک سسٹم متحرک ہوتا ہے جو دماغی خلیوں کے درمیان جمع ہونے والے زہریلے مادوں کو صاف کرتا ہے۔ ان مادوں میں بیٹا ایمائلائڈ بھی شامل ہے جو الزائمر جیسے امراض کا سبب بنتا ہے۔ اگر نیند پوری نہ ہو تو یہ زہریلے مادے دماغ میں جمع ہونے لگتے ہیں اور یادداشت و توجہ کو متاثر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلسل نیند کی کمی الزائمر اور دیگر نیورو ڈی جنریٹو امراض کے خطرے کو بڑھا دیتی ہے۔ اسی طرح نیند کے دوران دماغ ہپوکیمپس کے ذریعے نئی یادداشت کو طویل مدتی ذخیرے میں منتقل کرتا ہے۔ اگر یہ عمل ادھورا رہ جائے تو انسان معلومات کو یاد رکھنے میں ناکام ہو جاتا ہے۔ یہی نہیں، نیند کے دوران دماغ کے مختلف حصے آپس میں ہم آہنگ ہوتے ہیں اور جذباتی توازن قائم ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص دیر تک جاگے تو اس کا جذباتی ردِعمل غیر متوازن ہو جاتا ہے، وہ چھوٹی بات پر غصہ کرنے لگتا ہے، فیصلے غلط کرنے لگتا ہے اور اس کی معاشرتی زندگی متاثر ہونے لگتی ہے۔انسانی جسم کے ہارمونز بھی سرکاڈین ردھم کے تابع ہیں۔ رات کے اندھیرے میں میلٹونن کی پیداوار بڑھتی ہے جو نہ صرف نیند میں مدد دیتا ہے بلکہ جسم میں اینٹی آکسیڈنٹ کی طرح کام کر کے خلیات کو نقصان سے بچاتا ہے۔ جب دیر تک جاگا جائے تو میلٹونن کی پیداوار کم ہو جاتی ہے، اس کے نتیجے میں کینسر کے خلاف جسم کا قدرتی دفاع بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔ کئی سائنسی مطالعات میں یہ ثابت ہوا ہے کہ شفٹ میں کام کرنے والی خواتین میں بریسٹ کینسر کا خطرہ عام خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح مردوں میں پروسٹیٹ کینسر کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ہارمونل عدم توازن صرف کینسر تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ بلڈ پریشر، شوگر، موٹاپے اور دل کے امراض کو بھی جنم دیتا ہے۔نیند کی کمی اور میٹابولک نظام کا تعلق بھی بہت اہم ہے۔ جب سرکاڈین ردھم بگڑتا ہے تو جسم کا میٹابولزم بھی بے ترتیب ہو جاتا ہے۔ انسولین کی حساسیت کم ہو جاتی ہے اور خون میں شکر کی مقدار بڑھنے لگتی ہے۔ یہ عمل ذیابیطس ٹائپ ٹو کی بنیاد رکھتا ہے۔ مزید یہ کہ نیند کی کمی بھوک کے ہارمونز کو بھی متاثر کرتی ہے۔ لیپٹن، جو پیٹ بھرنے کا سگنل دیتا ہے، کم ہو جاتا ہے جبکہ گھریلن جو بھوک بڑھاتا ہے، زیادہ ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دیر تک جاگنے والا شخص زیادہ کھاتا ہے، خاص طور پر چکنائی اور میٹھے کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔ یہی عادت موٹاپے کی شکل اختیار کر لیتی ہے جو آگے چل کر دل کی بیماریوں، جگر کے امراض اور کینسر کے امکانات بڑھا دیتی ہے۔دل کے امراض کے حوالے سے بھی نیند کا کردار غیر معمولی ہے۔ نیند کے دوران بلڈ پریشر نیچے آ جاتا ہے اور دل کو آرام ملتا ہے۔ لیکن جب نیند کم ہو تو بلڈ پریشر مسلسل اونچا رہتا ہے اور شریانوں پر دبا بڑھتا ہے۔ یہ دبا وقت کے ساتھ شریانوں کو سخت کر دیتا ہے، دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو جاتی ہے اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ جو افراد رات کو پانچ گھنٹے سے کم سوتے ہیں ان میں دل کے امراض کا امکان سات گھنٹے سونے والوں کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہوتا ہے۔مدافعتی نظام پر بھی نیند کی کمی کا اثر نہایت واضح ہے۔ رات کو جاگنے والے افراد میں اینٹی باڈیز اور سفید خون کے خلیات کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ یہ وہ خلیے ہیں جو جسم کو جراثیم، وائرس اور کینسر کے خلاف محفوظ رکھتے ہیں۔ اسی لیے نیند سے محروم افراد زیادہ جلدی بیمار پڑتے ہیں، انفیکشن ان پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے اور صحت یابی کا عمل بھی سست ہو جاتا ہے۔ ویکسینیشن کے حوالے سے بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن لوگوں کی نیند پوری نہیں ہوتی ان کے جسم میں ویکسین کا اثر کم ہو جاتا ہے، یعنی وہ بیماری کے خلاف مضبوط مدافعت پیدا نہیں کر پاتے۔آنکھوں کی صحت کے لحاظ سے دیر تک جاگنا ایک بڑا خطرہ ہے۔ نیلی روشنی آنکھوں کی ریٹینا پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے اور آنکھوں کے خلیوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ عمل وقت کے ساتھ ساتھ بینائی کی کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ نیند کی کمی سے آنکھوں میں خشکی، سرخی اور درد پیدا ہوتا ہے۔ طویل عرصے تک یہی رویہ بینائی کی بیماریوں جیسے گلوکوما اور میکولر ڈجینیریشن کو جنم دے سکتا ہے۔نیند کی کمی کا ایک اور پہلو جگر کی صحت سے جڑا ہے۔ جگر وہ عضو ہے جو جسم کو زہریلے مادوں سے پاک کرتا ہے، ہارمونز کو متوازن کرتا ہے اور خوراک کو توانائی میں بدلتا ہے۔ یہ سارے عمل نیند کے دوران بہتر طریقے سے انجام پاتے ہیں لیکن جب نیند کا دورانیہ کم ہو تو جگر پر دبا بڑھتا ہے، اس کی کارکردگی کمزور ہو جاتی ہے اور فیٹی لیور ڈیزیز کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ سرکاڈین ردھم ہمارے ڈی این اے پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ کچھ جینز خاص طور پر نیند اور جاگنے کے نظام سے جڑے ہیں۔ جب یہ تال بگڑتی ہے تو ان جینز کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور بیماریوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ سرکاڈین ردھم کے خلاف چلنے سے عمر رسیدگی کا عمل تیز ہو جاتا ہے یعنی جو لوگ دیر تک جاگتے ہیں وہ وقت سے پہلے بوڑھے دکھائی دینے لگتے ہیں، ان کی جلد پر جھریاں آ جاتی ہیں اور توانائی کم ہو جاتی ہے۔سماجی اور نفسیاتی پہلو سے بھی دیر تک جاگنے کی عادت نقصان دہ ہے۔ یہ عادت انسان کو دن کے وقت سست اور غیر فعال بنا دیتی ہے۔ کام، تعلیم اور تعلقات سب متاثر ہوتے ہیں۔ مسلسل نیند کی کمی ڈپریشن، اینگزائٹی اور دیگر نفسیاتی امراض کو بڑھا دیتی ہے۔دنیا کی کئی یونیورسٹیوں نے یہ بات ثابت کی ہے کہ جو طلبہ راتوں کو جاگتے ہیں ان میں ڈپریشن کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔ اسی طرح جو لوگ دفاتر میں نیند پوری نہیں کرتے ان کی پروڈکٹیوٹی کم ہو جاتی ہے، وہ زیادہ غلطیاں کرتے ہیں اور حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔یہ تمام حقائق اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ سرکاڈین ردھم قدرتی نظام کا ایک لازمی حصہ ہے۔ انسان جب اس کے ساتھ چلتا ہے تو صحت مند رہتا ہے اور جب اس کے خلاف چلتا ہے تو بیمار ہو جاتا ہے۔ رات کو دیر تک جاگنا محض ایک عادت یا ذاتی پسند نہیں بلکہ ایک ایسا رویہ ہے جو دماغ، دل، جگر، آنکھوں، قوتِ مدافعت، ہارمونز اور نفسیات سب کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کا حل صرف یہی ہے کہ ہم اپنی حیاتیاتی گھڑی کو پہچانیں اور اس کی پابندی کریں۔ جلدی سونا اور جلدی جاگنا نہ صرف ہماری صحت کو بہتر بناتا ہے بلکہ ہماری زندگی میں سکون، توانائی اور کامیابی بھی لاتا ہے۔

Exit mobile version