Site icon Daily Pakistan

صاحب ،بیوی اور غلام

یہ بات قارئین کےلئے شاید کسی حد تک دلچسپی کا باعث ہو کہ 1962میں ایک بھارتی فلم ”صاحب ،بیوی اور غلام“ کے نام سے بنی تھی جس کے مرکزی کرداروں میں گرو دت،گیتا دت، مینا کماری، وحیدہ رحمان اور نذیر حسین شامل تھے۔یہ اپنے وقت کی مشہور فلم تھی ،اس ضمن میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس فلم کے ریلیز ہونے کے کچھ عرصہ بعد فلم کے ہیرو گرہ دت نے خودکشی کر لی تھی ۔ اس فلمی کہانی کے مطابق ہیرو اپنی بیوی کے ساتھ بے وفائی کا مرتکب ہو تا ہے ،کچھ سماجی حلقوں کے مطابق عمران خان، بشریٰ بی بی اور خاور مانیکا اس فلم کہانی کے کرداروں سے مشہابت رکھتے ہےں۔یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کے سابق شوہر نامدار خاور فرید مانیکا کے ایک انٹرویو میں عمران خان اور سابق اہلیہ سے متعلق باتوں پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں‘ گفتگو کرتے ہوئے خاور مانیکا کا کہنا تھا کہ عمران خان ان کی مرضی کے بغیر ان کے گھر آیا کرتے تھے جس پر وہ ناراض تھے اور ایک بار تو انہوں نے عمران کو اپنے نوکر کی مدد سے گھر سے نکلوا بھی دیا تھا ۔ موصوف کا اس سلسلے میں مزید کہنا تھا کہ شادی سے چھ ماہ قبل بشریٰ بی بی ان سے علیحدہ ہو کر اپنے گھر چلی گئیں۔ ’میں پاک پتن ان کے میکے گیا اور اپنے ساتھ چلنے کا کہا تو بشریٰ بی بی نے جواب دیا، میاں صاحبو¿ ابھی نہیں۔ پھر ایک دن فرح گوگی نے مجھے موبائل پر پیغام بھیجا کہ پنکی (بشریٰ بی بی) کو طلاق دے دیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں بشریٰ کے پاس گیا اور ان سے پوچھا کہ کیا تم طلاق چاہتی ہو؟ اس نے سر جھکا لیا اور کوئی جواب نہیں دیا۔ ان کے مطابق انہوں نے 14 نومبر 2017 کو طلاق نامہ فرح گوگی کے ہاتھ بشریٰ بی بی کو بھجوایا تاہم بعد میں فرح گوگی نے فون کر کے کہا کہ طلاق کی تاریخ تبدیل کر دیں۔ سبھی جانتے ہےں کہ بشریٰ بی بی کی طلاق اور عدت کا معاملہ ایک عدالت کے زیر غور ہے۔یہ بھی امر توجہ کا حامل ہے کہ خاور مانیکا نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے قریبی ساتھیوں زلفی بخاری اور فرح کے فون کا بھی ذکر کیا کہ عمران خان نے وزیراعظم بننا ہے لہٰذا آپ خاموش رہیں۔یاد رہے کہ مانیکا اور بشریٰ بی بی کی شادی 1989 میں ہوئی تھی اور یہ شادی 28 سال چلی۔واضح رہے عمران خان اور بشریٰ بی بی کا نکاح یکم جنوری 2018 کو ہوا تھا، تو مبصرین کے مطابق یہ بات خصوصی طور پر مدنظر رکھی جانی چاہےے کہ کیا یہ نکاح عدت کے دوران ہوا؟ اس سوال پر خاور مانیکا نے کہا کہ فرح گوگی نے ایک ماہ کے دوران انہیں کال کی اور طلاق کی تاریخ بدلنے کا مطالبہ کیا جس پر میں حیران ہوا کہ ’کبھی طلاق کی تاریخیں بھی بدلی جاتی ہیں؟ یہ تو شرعی عمل ہے اب یقینا جو تاریخ بدلنے کی بات کر رہی تھیں وہ اسی وجہ سے ہو گی۔‘ لیکن انٹرویو کے دوران وہ کئی بار 14 فروری کی تاریخ بھی یاد کرتے رہے ۔ خاور فرید مانیکا نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے اس پہلے انٹرویو میں الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی چیئرمین کو ان کی بیوی سے پیری مریدی کے ذریعے متعارف کروایا گیا۔ ’جب انہوں نے مرشد بنایا تو ان کا آنا جانا گھر میں لگا رہتا تھا، ان کی گفتگو او¿کثر رات کے آخری پہر میں لمبی لمبی ہوا کرتی تھیں۔ موصوف نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا اور جب ان کی پوسٹنگ کراچی میں تھی تو عمران خان ان کی اجازت کے بغیر گھنٹوں ان کے گھر میں بیٹھے رہا کرتے تھے۔ اس تمام پس منظر کا جائزہ لیتے ہوئے معاشرتی اور سیاسی حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ ماضی قریب میں سابق وزیر اعظم عمران خان تسلسل اور تواتر کے ساتھ یہ دلیل دیتے رہے ہےں کہ بشریٰ بی بی ایک گھریلو خاتون ہےں لہٰذا ان کی ذاتی زندگی پر تنقید کسی طور مناسب نہےں مگر سماجی حلقوں نے حالیہ انکشافات سامنے آنے کے بعد خاص طور بالخصوص خاورمانیکا کے انٹرویو کے بعد عمران خا ن کے اس موقف کو سرے سے رد کر دیاہے اور رائے ظاہر کی ہے کہ جو فرد اعلیٰ تر ین حکومتی منصب پر فائز رہا ہو اس کی ذاتی اور عوامی طرز زندگی کو الگ الگ خانوں میں نہےں بانٹا جا سکتاکیوں جو مرد یا خاتون مسلمہ اخلاقی روایات کی صریح خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہو وہ نہ تو اچھا باپ ہو سکتا ہے اور نہ ہی اچھا شوہر ۔اسی ضمن میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور ان کی آشنا” مونیکا لیونکسی“ کے باہمی تعلقات کا معاملہ سامنے آنے کے بعد پورا امریکہ ہل کر رہ گیا تھا اور کلنٹن نے اعلانیہ طور پر امریکی قوم سے معافی مانگی تھی ۔دوسری جانب خاور مانیکا بشریٰ بی بی کی پارسائی کے گن گاتے نہےں تھکتے تھے اور اب اچانک بشریٰ بی بی سے متعلق ان کے نئے انکشافات سامنے آئے ہےں حرف آخر کے طور پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس صورتحال پر کچھ نہ کہنا ہی بہتر تبصرہ ہوگا۔

Exit mobile version