ایک ایکسپریس ٹرین میں گائے کا گوشت لے جانے کے شبے میں ساتھی مسافروں نے ایک معمر مسلمان شخص پر حملہ کر دیا۔ اس سے قبل ایک نوجوان کو گوشت کھانے کے شبے میں پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا۔پہلا واقعہ بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹر کے ناسک ضلع کا ہے جبکہ دوسرا واقعہ ریاست ہریانہ میں رونما ہوا جس میں مغربی بنگال کے ایک نوجوان کی ہلاکت ہوئی۔ بھارت میں مسلم مخالف واقعات اس کثرت سے رونما ہو رہے ہیں کہ دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام نے اسی جمعے کو اس پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی نفرت تقسیم ہند کے بعد کبھی نہیں دیکھی گئی۔ اس وقت ملک میں عجیب صورت حال ہے کہ اگر ایک جانب درجنوں گائے کو دریا برد کرنے کے الزامات کی تحقیق ہورہی ہے تو دوسری جانب مسلمانوں کی گائے کے گوشت کے نام پر جان لی جا رہی ہے۔بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کو بہت تیزی کے ساتھ نارمل یا معمول کی چیز بنایا جا رہا ہے تاکہ حکومت اور یہاں کے شہری بھی مسلمانوں کے خلاف تشدد کو ایک روٹین کے طور پر قبول کرنے لگیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں کبھی اضافہ ہوتا ہے اور کبھی کمی نظر آتی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس میں اضافہ ہونے والا کیونکہ اس کا براہ راست تعلق انتخابات سے ہے۔کئی دہایوں سے یہ دیکھا جا رہا ہے کہ بھارت نے ایک جمہوری ملک ہونے کے ناطے اقلیت پر بولنے کا اخلاقی گراو¿نڈ کھو دیا ہے کیونکہ جس طرح سے مسلمانوں کے خلاف تشدد کیا گیا، بابری مسجد کو مسمار کیا گیا اور انصاف کو ذبح کیا گیا اور یہ سب کام جمہوریت کو ذبح کرکے انجام دیا گیا۔ تو ایسے میں بھارت کا کوئی اخلاقی گراو¿نڈ نہیں کہ وہ دنیا بھر میں اقلیت پر بولے۔بھارت کی سول سوسائٹی کےلئے یہ بہترین موقع ہے جب وہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے حق میں آواز بلند کرے۔ 2014 میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے گائے کے گوشت کیخلاف جنگ تیز ہو گئی ہے۔ ان کی پارٹی نے ایسی ریاستوں جہاں ان کا مضبوط ووٹ بینک ہے، وہاں مذبح خانوں کو بند کر دیا ہے اور دائیں بازو کے ہندو گروپوں نے یہ مویشی پالنے والے کسانوں کے ساتھ تشدد بھی لیا ہے۔اگرچہ اونچی ذات کے اکثر ہندو گائے کا گوشت نہیں کھاتے مگربھارت بھر میں لاکھوں دلت (جنھیں پہلے اچھوت سمجھا جاتا تھا)، مسلمان اور مسیحی گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔گائے کا گوشت جنوبی ریاست کیرالہ کی کمیونٹیز میں بھی شوق سے کھایا جاتا ہے۔ کیرالہ میں صرف ایک اقلیتی گروہ مذہبی وجوہات کی بنا پر گوشت سے پرہیز کرتی ہے جبکہ شمال مشرقی ریاستوں میں یہ عام ہے جبکہ اسی علاقے سے آنے والے بی جے پی کے ایک رہنما اور وزیر کابینہ کرن ریجیجو نے علی العلان کہا ہے کہ وہ گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔ بھارت میں ہندوو¿ں کی کھانے پینے کی عادت سبزی خوری کے فلسفے سے منضبط نہیں ہوتی ہے۔ جتنا مسلمان گوشت کھاتے ہیں اس سے کہیں زیادہ ہندو گوشت کھاتے ہیں۔ صرف کھانے اور بنانے کا طریقہ الگ ہو سکتا۔ بہت سے سروے بتاتے ہیں کہ بھارت میں سبزی خور سے کہیں زیادہ گوشت خور ہیں۔ گائے کے گوشت کے معاملے میں واضح طور پر ایک دوغلی پالیسی نظر آتی ہے کیونکہ بھارت دنیا کا سب سے بڑا بیف سپلائی کرنے والا ملک ہے لیکن دوسری طرف بیف کے نام پر مسلمانوں کے قتل کو نارملائز کیا جاتا ہے جو کہ ہماری سمجھ سے باہر ہے۔بین الاقوامی تجارت پر حکومت کا پورا کنٹرول ہوتا ہے اور حکومت اگر خود گو رکشک (گائے کی محافظ) ہے تو وہ بیف کا ایکسپورٹ بند کرے اور اپنی سچی نیت کا مظاہرہ کرے۔ایک جمہوری ملک ہونے کے ناطے کسی کو کیا کھانا ہے کیا پینا ہے یہ طے کرنا نہ حکومت کا کام ہے اور نہ کسی دوسرو کو اس کا حق ہے۔ یونیورسل کوڈ آف کنڈکٹ کے طور پر اس اصول کی پیروی ہونی چاہیے۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے نریندر مودی کے زیر قیادت بھارت کو تبدیل کرنے کا سفر تیز تر انداز میں جاری ہے۔اصل تبدیلی کی مودی مہم میں تیزی بھارت کے اندرونی محاذ پر ہے۔ اس کے تحت ہر بھارتی کو بالعموم اور بھارتی اقلیتوں بشمول دلتوں کو بالخصوص ‘گاو¿ ماتا’ سے بھی نیچے کے درجے کی مخلوق اب ریاستی طور پر منوانا ہو گا۔ ظاہر ہے جس گائے کا پیشاب ہندو صرف پاکیزہ اور پوترہی نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک پوتر اور صحت افزاءمشروب سمجھتے ہوں، اس کو ان غیر ہندوو¿ں پر اولیت ہی ملے گی جنہیں چھونے یا جن کے چھو لینے سے ہندو خود کو ‘بھرشٹ’ یعنی ناپاک ہو جانا تصور کرتے ہوں۔ ‘ہندوتوا’ میں دلت اچھوت ہیں جبکہ گائے متبرک اور مقدس ہے۔ حتیٰ کہ گائے کا پیشاب اور گوبر بھی۔بھارت میں سماجی سطح یہ چیز پہلے سے بھی رائج ہے۔ نصف بھارتی ریاستوں میں قانون سازی بھی ہو چکی ہے۔ البتہ بعض ریاستوں میں اس بارے میں ابھی قانون سازی ہونا باقی ہے ۔ اسی طرح بھارت میں مرکزی سطح پر بھی گائے کےلئے خصوصی ‘سٹیٹس’ کی ضرورت اجاگر کی جارہی ہے۔نریندر مودی کی اگلے اپریل اور مئی میں متوقع انتخابات میں اگر ایک بار پھر کامیاب ہو گئے تو گائے اور اس کے مقام و مرتبے کے تحفظ کو اسی طرح تقدس اور حرمت ملنے کا امکان ہے جس طرح یہودیوں کے حوالے سے ‘ہولو کاسٹ’ کا ہے۔ اب اس ہندو کاسٹ سسٹم سے بھی زیادہ معتبری ‘گاو¿ ماتا’ کے درجے پر پہلے سے فائز گائے پہلے اسرائیل کا ‘ہولو کاسٹ’ سسٹم تھا اور بھارت میں ‘ہندو کاسٹ’ سسٹم تھا۔ اب وشنو دباد ایسے ‘گاو¿ رکھشک’ مودی سرکار کے تعاون اور سرپرستی میں ‘گاو¿ ماتا’ کو اس سے بھی اونچا مقام دلوانے کی تحریک چلا رہے ہیں۔
مسلمان پرانتہا پسندہندوو¿ںکا تشدد

