پاکستان کے طویل توانائی بحران، بڑھتے ہوئے بجلی کے نرخوں اور بار بار لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کو سستی اور قابلِ اعتماد بجلی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور کر دیا۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران چھتوں پر لگنے والے سولر سسٹمز متوسط طبقے،چھوٹے کاروباروں اور تجارتی صارفین کیلئے ایک عملی سہارا بن کر سامنے آئے۔ مسلسل بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں سے بچنے کیلئے لاکھوں پاکستانیوں نے اپنی جمع پونجی سولر پینلز، انورٹرز اور بیٹریوں کی خریداری پر خرچ کی۔ ان سولر سسٹمز کی لاگت عام طور پر 8 لاکھ سے 30 لاکھ روپے تک ہوتی ہے، جس کا انحصار سسٹم کے سائز اور بیٹری کی گنجائش پر ہوتا ہے۔ صارفین نے یہ بھاری سرمایہ کاری حکومت کی نیٹ میٹرنگ پالیسی پر اعتماد کرتے ہوئے کی، جس نے طویل مدتی مالی بچت اور بجلی کے بڑھتے نرخوں سے تحفظ کی امید دی تھی۔نیٹ میٹرنگ نظام 2015میں متعارف کرایا گیا تھا، جس کے تحت سولر صارفین اضافی بجلی قومی گرڈ میں شامل کر کے اس کے بدلے کریڈٹ حاصل کر سکتے تھے۔ اس نظام کے تحت برآمد کی گئی بجلی کو درآمد کی گئی بجلی کے ساتھ ایڈجسٹ کیا جاتا تھا، جس سے صارفین کے بجلی کے بل نمایاں حد تک کم ہو جاتے تھے یا بعض صورتوں میں مکمل طور پر ختم ہو جاتے تھے ۔ اس پالیسی نے مالی طور پر مضبوط ترغیبات فراہم کیں اور پورے پاکستان میں سولر توانائی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ دسمبر 2024تک نیٹ میٹرنگ صارفین کی تعداد 2 لاکھ 83ہزار سے تجاوز کر گئی، جبکہ نیٹ میٹرنگ کے تحت نصب سولر صلاحیت 4,124 میگاواٹ تک پہنچ گئی، جو 2021 میں صرف 321 میگاواٹ تھی۔ مجموعی طور پر، نیٹ میٹرنگ اور دیگر سولر سسٹمز سمیت ملک بھر میں سولر صارفین کی تعداد 4 لاکھ 66 ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔ یہ اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام نے مہنگی بجلی سے بچنے اور متبادل توانائی کے حصول کیلئے سنجیدہ اقدامات کیے۔تاہم حالیہ نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلیوں نے سولر صارفین اور توانائی ماہرین میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ سب سے متنازع تبدیلی اضافی بجلی کے خریداری نرخ میں نمایاں کمی ہے۔ پہلے سولر صارفین کو گرڈ میں فراہم کی گئی بجلی کے بدلے تقریبا 27 روپے فی یونٹ ادا کیے جاتے تھے ۔ تاہم 2025میں اس شرح کو کم کر کے 10 روپے فی یونٹ کر دیا گیا، جبکہ نئے نیٹ بلنگ نظام کے تحت یہ شرح مزید کم ہو کر تقریبا 8.13 روپے فی یونٹ رہ گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ خریداری نرخ میں تقریبا 70 فیصد تک کمی کی گئی ہے، جس سے سولر توانائی کے مالی فوائد نمایاں طور پر کم ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب صارفین کو گرڈ سے بجلی اب بھی بہت زیادہ نرخوں پر خریدنا پڑتی ہے۔ گھریلو صارفین کیلئے اوسط بجلی ٹیرف 42 سے 48 روپے فی یونٹ یا اس سے بھی زیادہ ہے، جس میں ٹیکس، فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز اور دیگر سرچارجز شامل نہیں ہوتے۔ اس طرح بجلی خریدنے اور فروخت کرنے کی قیمت میں بہت بڑا فرق پیدا ہو گیا ہے۔ اس فرق کے باعث اب سولر صارفین اپنی سرمایہ کاری پہلے کی طرح 3 سے 5 سال میں واپس حاصل نہیں کر سکیں گے، بلکہ اب اس میں 7 سے 10 سال یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ایک اور اہم تبدیلی نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ نظام کی طرف منتقلی ہے۔ پہلے نیٹ میٹرنگ نظام کے تحت برآمد کی گئی بجلی کو درآمد کی گئی بجلی کے برابر ایڈجسٹ کیا جاتا تھا، جس سے صارفین کو زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ حاصل ہوتا تھا۔ تاہم نئے نیٹ بلنگ نظام میں برآمد شدہ بجلی کو کم نرخ پر فروخت کیا جاتا ہے جبکہ درآمد شدہ بجلی مکمل ٹیرف پر چارج کی جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ صارفین کو زیادہ بل ادا کرنا پڑے گا، چاہے وہ کافی مقدار میں سولر بجلی پیدا کیوں نہ کر رہے ہوں۔ اس تبدیلی نے سولر سرمایہ کاری کے بنیادی مالی فائدے کو کمزور کر دیا ہے۔یہ تبدیلیاں موجودہ اور نئے دونوں قسم کے سولر صارفین کو متاثر کریں گی۔ موجودہ صارفین اپنے موجودہ معاہدوں کی مدت تک پرانے نظام کے تحت فائدہ حاصل کر سکتے ہیں، تاہم مستقبل میں معاہدوں کی تجدید نئے نیٹ بلنگ نظام کے تحت ہو سکتی ہے۔ نئے صارفین کو فوری طور پر کم خریداری نرخ اور کم مالی فوائد کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے نتیجے میں نئے سولر سسٹمز کی تنصیب کی رفتار کم ہو سکتی ہے، جو پاکستان کے توانائی کے مستقبل کیلئے تشویشناک ہے۔عام شہریوں پر اس پالیسی کے مالی اثرات انتہائی سنگین ہیں۔ پاکستان میں بجلی کے نرخ پہلے ہی فیول کی قیمتوں، گردشی قرضے، استعداد ادائیگیوں اور آئی ایم ایف کی شرائط کے باعث مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ بہت سے صارفین نے صرف اس لیے سولر سسٹمز نصب کیے تاکہ وہ مہنگی بجلی سے بچ سکیں اور مالی استحکام حاصل کر سکیں۔ تاہم نئی پالیسی نے ان کی متوقع بچت کو کم کر دیا ہے اور سرمایہ کاری کی واپسی کو مزید طویل بنا دیا ہے ۔ اس پالیسی کا سب سے زیادہ بوجھ متوسط طبقے پر پڑے گاجس نے سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔ حکومتی حکام کا موقف ہے کہ سولر توانائی کے تیزی سے پھیلا نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی آمدنی کو متاثر کیا اور گرڈ کے اخراجات کا بوجھ دیگر صارفین پر منتقل ہو گیا۔ حکام کے مطابق پاور سیکٹر کے مالی استحکام کیلئے نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی ضروری تھی۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ بار بار پالیسی میں تبدیلیاں عوامی اعتماد کو مجروح کرتی ہیں اور قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں۔اس پالیسی کے وسیع اقتصادی اور سماجی اثرات بھی سامنے آئیں گے۔ کم مالی فوائد کے باعث قابلِ تجدید توانائی کی ترقی سست ہو سکتی ہے اور ملک مہنگے درآمدی ایندھن پر مزید انحصار کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ کچھ صارفین مکمل طور پر بیٹری سسٹمز کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں تاکہ وہ گرڈ پر انحصار کم سے کم کر سکیں، جو پاور سیکٹر کیلئے مزید چیلنجز پیدا کریگا ۔ پاکستانی شہریوں نے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کر کے نہ صرف اپنے مالی مفادات کا تحفظ کیا بلکہ قومی گرڈ پر بوجھ بھی کم کیا اور ماحول دوست توانائی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم نیٹ بلنگ نظام اور کم خریداری نرخوں کے باعث یہ صارفین ایک بار پھر مالی دبا کا شکار ہو رہے ہیں، جس سے توانائی پالیسی کے استحکام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔پاکستان کی نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی ملک کے توانائی شعبے میں ایک اہم موڑ ثابت ہو رہی ہے۔ اگرچہ حکومت پاور سیکٹر کے مالی مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم اس کا بوجھ ان صارفین پر منتقل ہو رہا ہے جنہوں نے حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کی۔ خریداری نرخوں میں کمی، نیٹ بلنگ نظام اور بڑھتے ہوئے بجلی کے نرخ سولر توانائی کے مالی فوائد کو نمایاں طور پر کم کر دیں گے۔ توانائی کے محفوظ اور پائیدار مستقبل کیلئے ضروری ہے کہ حکومت مستحکم، شفاف اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کرے تاکہ صارفین کا اعتماد بحال رہے اور پاکستان سستی اور پائیدار توانائی کی طرف کامیابی سے بڑھ سکے۔
پاکستان کی نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی

