Site icon Daily Pakistan

پیسہ پھینک تماشا دیکھ

rohail akbar

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور آجکل سکینڈلز کی زد میں اور ہر سکینڈل کے پیچھے کوئی نہ کوئی کہانی ہوتی ہے کچھ لوگ سادگی میں استعمال ہوجاتے ہیں اور کچھ کو استعمال کیا جاتا ہے تھانہ کچہری کی سیاست اور صحافت کرنے والوں سمیت وکالت کرنے والوں کو بھی بخوبی علم ہے کہ پیسہ پھینک تماشا دیکھ کا اصول ہمارے ہاں کتنا زیادہ رائج ہے کچہری میں ہر وقت جھوٹا اور سچا گواہ دستیاب ہوتا ہے کسی نے ضمانت دینی ہے اور ضمانتی نہیں مل رہا تو کچہری میں ہی رجسٹری اور کاغذات لیے گواہ موجود ہوتے ہیں جن سے معاملات طے ہونے کے بعد وہ شخص ضمانتی بن جاتا ہے اسی طرح ہماری پولیس کے پاس بھی ایک سے بڑھ کر ایک فنکار ہوتا ہے جسکو آپ مسجد میں بھی لے جائیں تو وہ وہاں پر بھی جھوٹی گواہی دینے کو تیار ہوجاتا ہے یہ وہ حقیقتیں ہیں جسکا ہر اس شخص کو بخوبی اندازہ ہوتا ہے جو تھانہ کچہری کے ماحول کو سمجھتا ہے اس سے ہٹ کر دوسری بات یہ ہے کہ منافقت ایک ایسا لفظ ہے جس کو سمجھنے کے لیے تھانہ کچہری کی سیاست کو سمجھنے کی بھی قطعا کوئی ضرورت نہیں یہ وہ لفظ ہے جو ہمارے ہاں ہر دوسرا بندہ کرتا ہوا نظر آتا ہے ہمارے دیہاتی بھائی شریکے کو بخوبی سمجھتے اور جانتے بھی ہیں شہروں کے رہنے والے شریکا برادری کی سیاست سے زرا دور رہتے ہیں کیونکہ انہیں کام کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اگر نہ کریں تو روٹی پوری نہیں ہوتی لیکن اسکے باوجود ہم ایک دوسرے سے منافقت ضرور رکھتے ہیں اور بغض بھی اسی کا حصہ ہے اسی لیے تو ہم ترقی کرتے کرتے یک دم نیچے دھڑام سے آگرتے ہیں جو ماحول ہم نے پاکستان کا بنا دیا ہے اس سے نکلنا اب ناممکن ہوتا جارہا ہے کیونکہ ہمارے نزدیک کامیابی کا یہی واحد اور اکلوتا راستہ رہ گیا ہے اس گھٹن زدہ ماحول میں جو منافقت نہیںکرتا وہ بہت پیچھے رہ جاتا ہے لیکن پھر بھی امید کی کرن والے کچھ لوگ ہمارے ہاں موجود ہیں جنہیں دیکھے اور ملے بغیر ہی دل کو تسلی رہتی ہے کہ شائد انہی لوگوں کی وجہ ہمارا معاشرہ قائم ہے اور یہی امید زندگی کے چراغ کو ٹمٹمانے نہیںدیتی جو مایوس ہوجاتے ہیں وہ بہتے پانی میں چھلانگ لگا کر زندگی کا خاتمہ کرلیتے ہیں میں انہیں بھی بہادر سمجھتا ہوں جو رسہ لٹکا کر بچوں سمیت موت کے ان پھندوں میں جھول جاتے ہیں مرنا کتنی بڑی بہادری کا کام ہے یہ وہی جانتے ہیں ہم لوگ تو ایک کانٹے کی چھبن بھی برداشت نہیں کرتے اور خود کشی کرنے والے وہ بھی بچوں کے ساتھ بزدل ،منافق ،چور ،ڈاکو اور لٹیرے نہیں ہوتے یہی وہ لوگ ہوتے ہیںجو کسی کو دکھ دیے بغیر اپنی زندگی کا خاتمہ کرجاتے ہیں وہ بھی اس لیے کہ شائد انکی ملاقات کسی درد دل رکھنے والے اعجاز قریشی، طاہر رضا ہمدانی ،بابر امان بابر،ثاقب علیم ،طاہر انوار پاشا ،علی عمار،شوکت جاوید،ڈاکٹر انعام الحق جاوید ، میاں ظفر اقبال ، ڈاکٹر نظام الدین ،علی عمران اور الطاف ایزد خان جیسے شخص سے نہیں ہوئی ہوتی ورنہ خود کشی کرنے والے کبھی خود کشی نہ کرتے بلکہ وہ اپنی طاقت کو ان افراد کے زریعے ایسا استعمال کرتے جیسے آجکل وی سی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ڈاکٹر اطہر محبوب کررہے ہیں صرف حوصلے ،ہمت اور جرئات کی بات ہوتی ہے جو انہی جیسے خوبصورت انسانوں سے مل سکتی ہے اور ہماری منافقت دیکھیں ہم انہی لوگوں کے خلاف محاذ بنا لیتے ہیںجو نہ صرف ہمارے لیے مخلص ہوتے ہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کی بھی بھلائی کررہے ہوتے ہیں ہم انہی کی ٹانگیں کھینچنا شروع کردیتے ہیں کہ وہ ہماری بھلائی کیوں کررہے ہیں آج ملک میں تعلیم کا نظام اتنا مہنگا اور مشکل ہے کہ غریب کا بچہ پڑھنے کا سوچ بھی لے تو حالات اسکے آڑے آجاتے ہیں پرائیوٹ اداروں میں بچے کی ایک ماہ کی فیس میںانکے گھر کا راشن آجاتا ہے اگر وہ بچے کو اعلی تعلیم دلوانا چاہیں تو پھر انہیں خود کشی کرنا پڑتی ہے لیکن خوش قسمتی سے جنوبی پنجاب والوں کو حوصلے دینے والا ڈاکٹر اطہر جیسا باصلاحیت شخص ملا ہوا ہے جس نے نہ صرف بہاولپور والوں کے لیے علم کی شمع روشن کررکھی ہے بلکہ اب چانسلر اور گورنر پنجاب انجینئر بلیغ الرحمن کی بدولت اسلامیہ یونیورسٹی پورے پنجاب میں اپنے کیمپس بنانے جارہی ہے شائد اسی بات کا کسی نہ کسی کو دکھ اور رنج پہنچا ہوکہ اس یونیورسٹی کو بدنام کرنے کی مذموم کوششیں ایک بار پھر شروع کردی گئی ہیں بہاولپورسے تقریبا ایک گھنٹے کی مسافت پر ہیڈ راجکاں کیساتھ ہی 36/DNB میرا گاﺅں ہے جہاںبچپن کا کچھ حصہ گذرا ایک دن وہاں مذاق ہی مذاق میں چوہدری غلام رسول نے کہا کہ اسلامیہ یونیورسٹی کے وی سی ڈاکٹر اطہر محبوب کو یونیورسٹی کے دیوار سے کوئی لڑکا جھانکتا ہوا بھی نظر آئے تو وہ اسے فورا داخلہ دے دیتے ہیں بات آئی گئی ہوگئی ایک دن میری ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں کہا کہ سر جی ہیڈ راجکاں سے یونیورسٹی پڑھنے کےلئے طلبہ آتے ہیں پلیز وہاں سے بس شروع کروادیں انہوں نے طلبہ کا نام سنا اور فورا اپنے ٹرانسپورٹ کے شعبہ کو حکم جاری کردیا کہ ہیڈ راجکان سے بس شروع کردیں آج وہاں کے سینکڑوں نہیں تو درجنوں طلبہ اور طالبات یونیورسٹی کی بس میں فخر سے آتے اور جاتے ہیں ورنہ ہماری پبلک ٹرانسپورٹ کا جو حشر ہے اس پر لڑکیوںکا سفر کرنا وہ بھی اکیلے ناممکن ہے اوراکثر والدین اسی وجہ سے اپنی بچیوں کو تعلیم کے زیور سے دور رکھتے تھے یہ صرف ایک مثال ہے جسکا میں خود گواہ ہوں اسی طرح انہوں نے بے شمارچھوٹے چھوٹے کام کیے جو کسی کھاتہ میں ہی نہیں اگر انکے بڑے کارناموں پر جائیں توانہوں نے ایسے کام کردیے جو ملکی تاریخ میں آج تک کسی بھی یونیورسٹی میں نہیں ہوئے سب سے برا کارنامہ یہی ہے کہ انہوں نے یونیورسٹی کے دروازے مزدور ، کسان اور محنت کش کےلئے بھی ویسے ہی کھول دیے جیسے کسی سرمایہ دار کےلئے کھلے ہوتے ہیں بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہے ہی انکا جرم بن گیا وہ خود تو سگریٹ تک نہیں پیتے اورالزام کیا سے کیا لگادیے گئے اچھے برے انسان ہر جگہ ہوتے ہیں بلکہ برے زیادہ ہیں اچھے لوگ کم ہیں اسلامیہ یونیورسٹی کو بدنامی سے دوچار کرنےوالے مدعی پولیس والے ہیں کیا پولیس میں سب حاجی ثناءاللہ ہیں جتنا گند ہماری پولیس میں ہے شائد کسی اور محکمے میں نہیں آج ملک بھر میں منشیات فروشی عام ہے تو اسکی وجہ پولیس ہے آج جرائم بڑھتے جارہے ہیں تو اسکی وجہ پولیس ہے آج خواتین پر گھروں میں تشدد ہوتا ہے تو اسکی وجہ پولیس ہے آج ملک میں لاقانونیت ہے تو اسکی وجہ پولیس ہے آج حلال حرام کی تمیز ختم ہوچکی ہے تواسکی وجہ پولیس ہے مظلوم پر ظلم کی انتہا ہورہی ہے تو اسکی وجہ پولیس ہے آج جہالت ننگا مجرا کررہی ہے تواسکی وجہ پولیس ہے آج ظالم طاقتور ہے تو اسکی وجہ پولیس ہے آج معاشرہ بے راہ روی کا شکار ہے تو اسکی وجہ پولیس ہے آج کرائے کے ٹٹو اور بھاڑے کے گواہ سرعام گھوم رہے ہیں تو اسکی وجہ پولیس ہے اور آج اگر خودکشیاں ہورہی ہیں تو اسکی وجہ پولیس ہے نہیں یقین تو ایک چھوٹی سی مثال ملاحظہ فرمالیں تھانہ کسووال ساہیوال کا آخری تھانہ ہے وہاں کے سابق ایس ایچ او سب انسپکٹر عمر درازنے مبینہ طور پر دو من کے قریب چرس پکڑی قریبی پیٹرول پمپ پر ڈیل ہوئی لاکھوں روپے رشوت میںوصول کیے آدھی ڈرائیور پر ڈال کر اصل ملزم کو چھوڑ دیا جو عرصہ دراز سے اسی علاقہ میں منشیات فروشی کررہا ہے دوسری مثال تھانہ نیو ٹاﺅن راولپنڈی کے سب انسپکٹر خلیق کی بھی پڑھ لیں جو تھانے میں زمینی خدا بنا ہوا ہے سائل کو درخواست ہی واپس لینے کا حکم جاری کردیتا ہے تاکہ نہ درخواست ہو اور نہ ہی جرم ختم ہواگر ہماری پولیس ٹھیک ہوگئی تو ملک جنت کا ٹکڑا بن جائیگا ورنہ مرنے کے بعد والی جہنم کا تو اندازہ نہیں پولیس نے اس ملک کو ویسے ہی جہنم بنارکھا ہے جسکے گھر میں چاہیں بے دھڑک داخل ہومردوں کو تو چھوڑیں خواتین کو بے عزت کرنا فرض سمجھتے ہیں آج اگر پولیس والا کا ٹیسٹ کروایا جائے تو نہ جانے انکے خون میں سے کیا کیا نکل آئے رہی بات اسلامیہ یونیورسٹی کی اب وہاں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائیگا کیونکہ پنجاب کے محسن نگران وزیر اعلی محسن نقوی نے اسکی انکوائری سیکرٹری معدنیات بابر امان بابر کے سپرد کردی ہے جو ایک بہادر باپ کا قابل فخر سپوت ہے ہمیں ایسے ہی چند اور لوگ مل جائیں توملک کی تقدیر بدلنے میں دیر نہیںلگے گی ۔

Exit mobile version