Site icon Daily Pakistan

چین کے نائب وزیراعظم کی پاکستان آمد

idaria

پاکستان کی خصوصی دعوت پر چین کے نائب وزیر اعظم تین روزہ دورے پر پاکستان پہن گئے ہیں،یہ دورہ یکم اگست 2023 تک جاری رہے گا۔چین کے نائب وزیر اعظم اور کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن ہی لیفینگ اس دوران پاک چین اقتصادی راہداری کے 10 سال مکمل ہونے پر ہونے والی تقریب میں شرکت کریں گے۔دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وہ صدر اور وزیراعظم سے ملاقات بھی کریں گے، وہ اس سلسلے میں تقریب میں مہمان خصوصی بھی ہوں گے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیر اعظم ہی لیفینگ نے چین کے بین الاقوامی اقتصادی تعلقات اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے نفاذ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے جن میں سے سی پیک ایک اہم منصوبہ ہے۔ نیشنل ڈیولپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن 23-2017 کے چیئرمین کے حیثیت سے انہوں نے پاکستان میں سی پیک کے متعدد پروجیکٹس کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان باقاعدہ اعلی سطح کے تبادلوں اور مذاکرات کا حصہ ہے جو پاکستان اور چین کی طرف سے آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو مزید گہرا کرنے کی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کے مسائل پر حمایت کی توثیق میں اقتصادی اور مالی تعاون کو بڑھانا سی پیک کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو آگے بڑھانا اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے نئی راہیں تلاش کرنا شامل ہے۔ رواں ماہ جولائی میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے سی پیک کی 10 سالہ تقریبات کے سلسلے میں چین کا چار روزہ سرکاری دورہ کیا تھا۔احسن اقبال کے دورے کے دوران پاکستان اور چین نے سی پیک کے 10 سال مکمل ہونے پر ایم ایل۔ون اور خصوصی اقتصادی زونزکے نفاذ پر عمل درآمد تیز کرنے پر اتفاق کیا تھا تاکہ منصوبے بروقت مکمل کیے جا سکیں۔ دونوں فریقین نے سی پیک کے فریم ورک کے تحت جاری تعاون کا جائزہ لینے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس کے باقاعدہ اجلاس منعقد کروانے اور اگلے مرحلے کے لیے تمام منصوبوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کا فیصلہ بھی کیا تھا، جس کا دائرہ کار بہت وسیع ہے، جن میں صنعت کاری، زراعت، سائنس اور ٹیکنالوجی اور سماجی شعبے پر زیادہ توجہ مرکوز ہے۔ قبل ازیں مئی کے اوائل میں چینی وزیر خارجہ چن گانگ نے بھی پاکستان کا دورہ کیا تھا، اس دوران پاکستان، چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو(بی آر آئی)کے تحت سہ فریقی تعاون کو مضبوط بنانے اور پاک چین اقتصادی راہداری کو مشترکہ طور پر افغانستان تک توسیع دینے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔ علاوہ ازین اجلاس کے دوران تینوں وزرائے خارجہ نے کاسا(سینٹرل ایشیا ساتھ ایشیا) 1000 منصوبے، (تاپی)گیس پائپ لائن منصوبے اور ٹرانس افغان ریلوے جیسے جاری منصوبوں کی اہمیت پر زور دیا تھا اور علاقائی رابطوں اور خطے میں اقتصادی ترقی و خوشحالی کو فروغ دینے میں ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔ تینوں فریقین نے لوگوں کی نقل و حرکت اور تجارتی سرگرمیوں کو آسان بنانے کے لیے اقدامات پر غور پر اتفاق کیا، انہوں نے گوادر پورٹ کے ذریعے راہداری تجارت کو فروغ دینے کا بھی فیصلہ کیا، انہوں نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان خطے کے بہترین مفاد میں ہے، انہوں نے اس مقصد کے فروغ میں سہ فریقی تعاون کے اہم کردار پر زور دیا تھا۔سی پیک پورے پاکستان میں زیر تعمیر انفراسٹرکچر اور دیگر منصوبوں کا مجموعہ ہے،جس کے تحت فہرست میں شامل ہونے والے منصوبوں کے لیے اہم معاہدے پر 2013 میں دستخط کیے گئے تھے اور ان منصوبوں کے لیے ٹرم شیٹس پر 2015 میں صدر شی جن پنگ کے دورہ پاکستان کے دوران دستخط کیے گئے تھے۔ اس میگا منصوبے کا مقصد پاکستان کے مطلوبہ بنیادی انفرا ءسٹرکچر کو تیزی سے اپ گریڈ کرنا، جدید نقل و حمل کے نیٹ ورکس، توانائی کے متعدد منصوبوں اور خصوصی اقتصادی زونز کی تعمیر کے ذریعے ملک کی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔ نومبر 2016 میں سی پیک جزوی طور پر فعال ہو گیا تھا اور چینی کارگو کو سمندری راستے سے افریقہ اور مغربی ایشیا بھیجنے کے لیے گوادر کی بندرگاہ لایا گیا تھا۔ٹرانسپورٹ، توانائی اور انفرا سٹرکچر سمیت مختلف منصوبوں میں پاکستان میں اب تک 25 ارب 40کروڑ بلین ڈالر کی براہ راست چینی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے، فلیگ شپ کنیکٹیویٹی اور سرمایہ کاری راہداری منصوبہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا حصہ ہے۔چین کے نائب وزیر اعظم ہی لیفینگ کے دورے سے اس منصوبے میں مزید تیزی آئے گی اور تمام پروپیگنڈا بھی دم توڑجائے گا جو اس خلاف مختلف لابیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بھارتی حکام دنیا کی آنکھوں میں دھول نہ جھونکیں
مقبوضہ کشمیر میں محرم کے موقع پر قابض بھارتی حکام دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں مصروف رہی، بھارت انسانی حقوق سلب کرنے کےساتھ ساتھ اقلیتوں کے مذہبی حقوق بھی سلب کرنے کا وطیرہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ایک جانب منی پور میں عیسائیوں کی نسل کشی جاری ہے جبکہ دوسری جانب سکھوں اور نچلی ذات کے ہندوو¿ں کے حقوق کی پامالی بھی بلا روک ٹوک جاری ہے۔ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انتہائی محدود پیمانے پر چند افراد پر مشتمل محرم کے جلوس کی اجازت دی ہے تاکہ دنیا کو یہ غلط پیغام دیا جا سکے کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات امن کی جانب لوٹ رہے ہیں۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی مظالم کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں لاوا ابل رہا ہے اور نئی نسل میں نفرت کا بیج بویا جا چکا ہے۔بھارت کے دوغلے معیار کی یہ حالت ہے کہ نہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو عیدین کی نمازوں کی اجازت دی جاتی ہے او رنہ ہی مقبوضہ وادی میں مبصرین کو داخلے کی اجازت ہے۔ ایسے بھارتی اقدامات سراسر متعصبانہ اور مسلمانوں کے دینی امور میں صریح مداخلت ہے۔ بھارتی حکومت ہندوو¿ں کی امرناتھ یاترا کےلئے تو تمام وسائل اور سہولیات فراہم کرتی ہے لیکن کشمیری مسلمانوں کی عبادات پر پابندی عائد ہے۔قبل ازیں کشمیری نہیں بھولے کہ کس طرح محرم کے جلوس نکالنے پر اعزاداروں کو وحشانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا جاتا تھا۔ان بھارتی اقدامات کی وجہ سے مقبوضہ کشمیری اپنے ہی علاقے میں دوسرے درجے کے شہری بن کر رہ گئے ہیں۔طاغوتی سوچ کا حامل بھارت کشمیریوں کو حق پر مبنی جدوجہدآزادی سے دور کرنے کیلئے ایسے گھناﺅنے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے جس کی نظیر دنیا میں کہیں ملتی۔
سیلابی صورتحال ۔۔۔۔امدادی کارروائیاں تیز کی جائیں
محکمہ موسمیات کے مطابق ملک بھر میں طوفانی بارشوں کے بعد دریاو¿ں میں سیلابی صورتِ حال برقرار ہے، دریائے سندھ میں گڈو اور سکھر کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہوگئی ہے۔دریائے ستلج میں بورے والا کے مقام پر کئی بستیاں سیلابی ریلے سے متاثر ہوئی ہیں اور ہزاروں ایکڑ فصلیں ڈوب گئیں جبکہ حفاظتی بند بھی ٹوٹ چکے ہیں۔ سڑک میں شگاف پڑنے سے ساہوکا کا چشتیاں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے جبکہ سیلاب میں گھرے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔ کوہِ سلیمان کے پہاڑی علاقوں میں بارشوں سے سیلابی ریلوں نے راجن پور کے میدانی علاقوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ سیلابی پانی چک شہید کے شہر میں داخل ہوگیا جس سے فصلیں زیرِ آب آگئیں، سیلابی پانی کا رخ سیم نالے میں کرنے سے متاثرہ علاقے میں پانی کی سطح میں کمی آئی ہے۔ ادھر بلوچستان میں پنجرہ کے مقام پر صوبے کو سندھ سے ملانے والی قومی شاہراہ کی بحالی کا کام جاری ہے۔ دوسری جانب راول ڈیم بھی بھر جانے کے بعد اس کے سپیل وے کھولے گئے ہیں، پانی کی سطح سترہ سو پچاس فٹ ہوگئی ہے جبکہ مزید پانی کی آمد جاری ہے ۔ دوسری جانب سندھ کے بیراجوں میں پانی کی سطح مزید بلند ہونے کے بعد دریا کے ساتھ کچے کے رہائشیوں نے محفوظ مقامات پر منتقل ہونا شروع کر دیا گیا ہے۔ سکھر بیراج سے درمیانے درجے کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے۔بہاولنگر میں سیلابی پانی کے باعث عارف والا، ساہیوال اور لاہور جانے والے ہائی وے کو نقصان پہنچا ہے۔ پانی کے تیز بہا سے متعدد عارضی حفاظتی بند ٹوٹ گئے ہیں اور دریائی بیلٹ سے ملحقہ متعدد آبادیوں میں سیلابی پانی داخل ہو گیا ہے۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں تیزی لائی جائے اور عوام بھی محفوظ مقامات کی طرف بروقت نکل جائیں تاکہ بھاری جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

Exit mobile version