بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات تاریخ میں ہمیشہ ایک نازک توازن کے تحت آگے بڑھتے رہے ہیں۔ جغرافیائی قربت، تاریخی وابستگی، مشترکہ ثقافتی رشتے اور معاشی انحصار کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات میں وقفے وقفے سے ایسے موڑ آتے رہے ہیں جہاں باہمی اعتماد کمزور پڑتا دکھائی دیتا ہے۔ گزشتہ ایک برس کے دوران یہی کمزوری ایک کھلی کشیدگی میں ڈھلتی نظر آ رہی ہے جو ابتدا میں سیاسی الزامات تک محدود تھی مگر اب سفارت کاری، تجارت اور کھیلوں جیسے حساس میدان تک پھیل چکی ہے۔ یہ صورت حال اس امر کی غماز ہے کہ جنوبی ایشیا میں سیاست اور کھیل کے درمیان فاصلہ تیزی سے سمٹ رہا ہے اور ریاستی مفادات کھیلوں کی روح پر حاوی ہوتے جا رہے ہیں۔بنگلہ دیش میں 2024 کے دوران پیش آنے والی سیاسی تبدیلیوں نے اس کشیدگی کومذید شدت میں بدل دیا۔ شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ محض ایک داخلی سیاسی واقعہ نہیں تھا بلکہ اس کے اثرات نے خطے کی سیاست کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ حسینہ واجد کا بھارت روانہ ہونا اور وہاں قیام اختیار کرنا بنگلہ دیش کی عبوری حکومت اور عوام کے ایک بڑے طبقے کیلئے شدید اضطراب کا باعث بنا۔ ڈھاکا میں یہ تاثر مضبوط ہوا کہ بھارت ایک بار پھر بنگلہ دیش کی داخلی سیاست میں فریق بن کر سامنے آیا ہے اور ایک ایسے رہنما کو تحفظ فراہم کر رہا ہے جسے عوامی احتجاج کے نتیجے میں اقتدار چھوڑنا پڑا۔ عبوری حکومت کی جانب سے بارہا یہ مطالبہ سامنے آیا کہ حسینہ واجد کو واپس بھیجا جائے تاکہ وہ اپنے ملک میں قانونی عمل کا سامنا کر سکیں مگر نئی دہلی نے اس پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔ یہی خاموشی رفتہ رفتہ بداعتمادی میں تبدیل ہوتی گئی۔سیاسی کشیدگی کا دائرہ اس وقت مزید وسیع ہو گیا جب بھارت نے چٹاگانگ میں اپنے سفارتخانے کی سروسز معطل کر دیں۔ اس اقدام کو بنگلہ دیش میں ایک منفی پیغام کے طور پر دیکھا گیا جس کے جواب میں ڈھاکا نے بھی بھارت کیلئے ویزا سہولیات محدود کر دیں۔ یوں ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس میں سفارتی اقدامات جوابی ردعمل کی صورت اختیار کرتے چلے گئے۔ ان فیصلوں نے عام شہریوں، تاجروں، طلبہ اور علاج کی غرض سے سفر کرنے والوں کو بھی متاثر کیا اور یہ احساس گہرا ہوا کہ ریاستی تنازعات کا بوجھ بالآخر عوام ہی کے کندھوں پر آتا ہے۔اسی دوران بھارت میں سرگرم ہندو دائیں بازو کے گروہوں کی جانب سے بنگلہ دیش کے خلاف احتجاج نے معاملات کو ایک نیا رخ دے دیا۔ ان مظاہروں کا اثر کھیلوں تک بھی پہنچا جب بھارتی کرکٹ بورڈ نے بنگلہ دیش کے کھلاڑیوں کی آئی پی ایل میں شرکت سے متعلق سخت رویہ اختیار کیا۔ اگرچہ اس فیصلے کو باضابطہ طور پر سیکیورٹی یا انتظامی وجوہات سے جوڑنے کی کوشش کی گئی مگر بنگلہ دیش میں اسے سیاسی دباؤ اور تعصب کا شاخسانہ سمجھا گیا۔ کرکٹ جو دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر سب سے مضبوط رشتہ سمجھی جاتی تھی اب کشیدگی کی علامت بنتی دکھائی دی۔اس کے ردعمل میں بنگلہ دیش کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا کہ وہ کرکٹ ورلڈ کپ کیلئے بھارت نہیں جائے گا اور عالمی کرکٹ حکام سے درخواست کی جائے گی کہ میچز کسی غیر جانبدار مقام پر منتقل کیے جائیں۔ یہ اعلان محض ایک کھیل سے متعلق فیصلہ نہیں تھا بلکہ اس کے پس پردہ وہی سیاسی ناراضگی کارفرما تھی جو گزشتہ برس سے بڑھتی جا رہی ہے۔ کھیلوں کا بائیکاٹ دراصل ایک علامتی پیغام تھا کہ بنگلہ دیش اب اپنے احتجاج کو ہر ممکن سطح پر اجاگر کرنے کیلئے تیار ہے۔یہ ساری صورت حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بنگلہ دیش میں 2026 کے پارلیمانی انتخابات کی تیاریوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ بھارت مخالف جذبات کو بعض سیاسی حلقے ایک مؤثر انتخابی نعرے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس کی جانب سے بھارت پر تنقید اور حسینہ واجد کی واپسی کا مطالبہ اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ بھارتی میڈیا کے بعض حصوں نے محمد یونس کو انتہاپسندی کے حامی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جس سے دونوں ممالک کے درمیان بیانیے کی جنگ مزید شدت اختیار کر گئی۔ یہ میڈیا بیانیہ نہ صرف بنگلہ دیش میں منفی ردعمل کا باعث بنا بلکہ بھارت کے اندر بھی اس پر سوالات اٹھائے گئے۔بھارت کے اندر یہ کشیدگی خاص طور پر مغربی بنگال اور آسام جیسے علاقوں میں ایک انتخابی مسئلے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ہندو حقوق کے نام پر ہونے والے مظاہروں نے سیاسی درجہ حرارت کو بڑھا دیا ہے اور بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کو داخلی سیاست میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خارجہ پالیسی کے معاملات بھی انتخابی مفادات کے تابع ہوتے دکھائی دینے لگے ہیں۔ ایسے میں دور اندیشی اور تحمل کی جگہ وقتی سیاسی فائدے کو ترجیح ملنا ایک خطرناک رجحان ہے۔تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دونوں حکومتیں اس کشیدگی کے اثرات کو مکمل طور پر بے قابو ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ بھارت کی جانب سے بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے ساتھ رابطے بڑھانے کی خبریں اسی حکمت عملی کا حصہ سمجھی جا رہی ہیں۔ نئی دہلی اس امر سے بخوبی آگاہ ہے کہ بنگلہ دیش کی سیاست میں طاقت کے توازن میں تبدیلی اس کے طویل المدتی مفادات کو متاثر کر سکتی ہے۔ اسی تناظر میں جماعت اسلامی کا ابھرتا ہوا کردار بھی بھارت کیلئے ایک پیچیدہ چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ جماعت نہ صرف بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک مضبوط ووٹ بینک رکھتی ہے بلکہ اس کے نظریاتی مؤقف کو بھارت میں تشویش کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔بھارت کی خارجہ پالیسی کے ماہر کانسٹنٹینو زیویئر کا یہ تجزیہ خاصا اہم ہے کہ نئی دہلی کی تشویش محض آئندہ انتخابات تک محدود نہیں بلکہ وہ بنگلہ دیش کے جاری سیاسی بحران اور مستقبل کی حکمت عملی پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق اگر پانچ یا چھ برس کے اندر جماعت اسلامی اقتدار میں آتی ہے تو بھارت کو اپنی پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظرثانی کرنا پڑے گی۔ یہ تجزیہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ موجودہ کشیدگی وقتی نہیں بلکہ اس کے اثرات دیرپا ہو سکتے ہیں۔ان تمام سیاسی اور سفارتی پیچیدگیوں کے بیچ کھیلوں کا میدان سب سے زیادہ افسوسناک انداز میں متاثر ہو رہا ہے۔ کھیلوں کا مقصد قوموں کو قریب لانا، عوامی سطح پر رابطے بڑھانا اور مثبت مسابقت کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ جب کھیلوں کو انا، ہٹ دھرمی یا انتخابی مہم کا ہتھیار بنا لیا جائے تو نہ صرف کھلاڑیوں کی محنت پامال ہوتی ہے بلکہ شائقین کے جذبات بھی مجروح ہوتے ہیں۔ بھارت اور بنگلہ دیش دونوں ہی کرکٹ کے دیوانے ممالک ہیں جہاں ایک میچ کروڑوں دلوں کو جوڑ دیتا ہے۔ ایسے میں بائیکاٹ اور پابندیوں کا راستہ اختیار کرنا کھیل کی روح کے منافی ہے۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بھارتی حکومتی رویے میں سختی اور لچک کی کمی کھیلوں کے حوالے سے بھی نمایاں دکھائی دے رہی ہے۔ اگر سیاسی اختلافات کو کھیلوں تک لے آیا جائے تو اس کا نقصان کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ جنوبی ایشیا پہلے ہی بے شمار سیاسی تنازعات، معاشی مسائل اور سماجی چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے میں کھیلوں جیسے مثبت پلیٹ فارم کو بھی متنازع بنا دینا حالات کو مزید بگاڑ سکتا ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا بھارت اور بنگلہ دیش اس کشیدگی سے سبق سیکھ کر آگے بڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟تاریخ گواہ ہے کہ دونوں ممالک نے ماضی میں بھی اختلافات کے باوجود تعاون کی راہیں نکالی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی قیادت وقتی فائدے سے بلند ہو کر خطے کے مجموعی مفاد کو مدنظر رکھے۔ سفارت کاری، مکالمہ اور باہمی احترام ہی وہ راستے ہیں جو اس تناؤ کو کم کر سکتے ہیں۔ کھیلوں کو سیاست سے الگ رکھنا اس سمت میں ایک اہم قدم ہو سکتا ہے کیونکہ یہی وہ میدان ہے جہاں نفرت کے بجائے دوستی کے بیج بوئے جا سکتے ہیں۔اگر موجودہ کشیدگی اسی طرح بڑھتی رہی تو اس کا نقصان صرف بھارت یا بنگلہ دیش کو نہیں ہوگا بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کے خدشات میں اضافہ ہو جائے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ دونوں ممالک جذبات سے نہیں بلکہ تدبر سے کام لیں۔ کھیل کو کھیل رہنے دیا جائے اور سیاست کو مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے۔ یہی رویہ خطے کے امن، استحکام اور عوامی فلاح کا ضامن بن سکتا ہے۔
کرکٹ۔۔۔بھارت بنگلہ دیش کشیدگی کا نیا باب

