Site icon Daily Pakistan

ہسپتالوں میں جدید طبی سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ

عوام کو صحت و تعلیم کی سہولیات کی فراہمی حکومت کا اولین فرض ہے لیکن صحت کا معاملہ زیادہ حساس ہوتا ہے کیونکہ تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لئے صحت کا ہونا ضروری ہے۔ ملک اورمعاشرے کی ترقی کے لئے عوام کا صحت مند ہونا بنیادی شرط ہے کیونکہ ایک صحت مند انسان ہی ذاتی اور معاشرتی ذمہ داریوں کو پورا کرکے ملکی ترقی میں حصہ لے سکتا ہے۔ تندرست بچے ہی تعلیمی اداروں میں اچھی قابلیت کا مظاہرہ کرسکتے ہیں اور صحت مند مائیں ہی اپنے بچوں کی دیکھ بھال اچھے انداز میں کرنے کے قابل ہوسکتی ہیں۔غرض اگر یہ کہا جائے کہ تندرستی ہزار نعمت ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ اس بنیادی ضرورت کو نگران وزیراعلی پنجاب محسن نقوی نے جس ویژن کے ساتھ سمجھا ہے وہ انہی کا طرہ امتیاز ہے
محسن نقوی سروسزہسپتال کے 3 گھنٹے طویل دورے کے بعد ہسپتال کی حالت زار دیکھ کر شدید برہم ہوئے۔وارڈز میں خراب بیڈز، بدبودارمیٹرس، اے سی بند، مریضوں کا حبس سے برا حال، ناقص صفائی، آپریشن تھیٹرزکی ابترصورتحال اور طبی سہولتوں کے فقدان تھا۔ڈائیلسزیونٹ، پاپولیشن ویلفیئر کے سنٹر،پولیس چوکی، پارکنگ، میڈیسن سٹوربھی دیکھا ۔ سرجیکل یونٹ، آپریشن تھیٹرز، آئی سی یو، نیورو وارڈ، گیسٹرالوجی و لیور یونٹ، میڈیکل یونٹ اور آئی وارڈ کے معائنہ میںزیر علاج مریضوں سے علاج معالجہ کی سہولتوں کے بارے پوچھا تو مریضوں اور تیماردارو ں نے طبی سہولتو ں کے فقدان، صفائی کے ناقص انتظامات اور اے سی کی بندش کے بارے شکایات کیں۔
اے سی کی دیکھ بھال کے کنٹریکٹرکو 7 ماہ سے ادائیگی نہ ہونے پر ڈائریکٹر فنانس کی سرزنش کرتے ہوئے عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا۔ ہسپتال کی پارکنگ کے حوالے سے اوورچارجنگ کی شکایات پر پارکنگ کا ٹھیکہ منسوخ کرتے ہوئے لاہور پارکنگ کمپنی کو سروسز ہسپتال کی پارکنگ کا انتظام سنبھالنے کی ہدایت کی اور فوری طور پر ہسپتال کی اپ گریڈیشن کا ماسٹر پلان طلب کرتے ہوئے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی پنجاب کو سروسز ہسپتال کا ماسٹر پلان تیارکرنے کی ہدایت کی۔
محسن نقوی نے کہا کہ نئی ایمرجنسی کی جلد تکمیل کے لئے تعطیلات کے دوران بھی کام جاری رکھا جائے اورنئی ایمرجنسی میں معیاری کام کو یقینی بنایا جائے ۔ میڈیکل ایمرجنسی میں سیوریج اور نکاسی کے نظام کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ لاہور کے مرکز میں واقع سروسز ہسپتال کی حالت دیکھ کر بہت افسوس ہوا ۔ میں نے درجنوں ہسپتالوں کے وزٹ کئے ہیں سب سے بری اور بدترین حالت سروسز ہسپتال کی ہے ۔ کسی دشمن کو بھی اس ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں نہ بھیجوں جو حالت ان آپریشن تھیٹرز کی میں نے دیکھی ہے ۔ ہمیں روز آنا پڑا تو روز آئیں گے اور اس ہسپتال کو بہتربنائیں گے۔جتنا بھی وقت ہے سروسز ہسپتال کو بہترین ہسپتال بنانے کیلئے صرف کرینگے۔
نگران وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں نقد آورفصلوں کی زیادہ پیداوار اور زراعت کے فروغ کیلئے پائیدار اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ فصلوں کی زیادہ پیداوار حاصل کرنے کیلئے اعلیٰ معیار کے بیج اور معیاری زرعی ادویات کے حوالے سے تجاویز پر غور کیا گیا اور سپیشل اکنامک زونز میں زراعت کیلئے خصوصی زون مختص کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ پنجاب میں چنے اور دالوں کی پیداوار بڑھانے کیلئے قابل عمل پلان طلب کرتے ہوئے کہا کہ دالوں کی پیداوار بڑھا کر ہر سال قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکتا ہے۔ غذائی خودکفالت کے ساتھ زرعی ایکسپورٹ کا فروغ ہمارا مشترکہ مشن ہے۔ شعبہ زراعت میں سرمایہ کاری کیلئے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں اور سرمایہ کاروں کو ون ونڈو کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ کارپوریٹ فارمنگ کے فروغ کیلئے پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ کسانوں کی خوشحالی اور زراعت کی ترقی کیلئے بڑے پیمانے پر اصلاحات لائی جا رہی ہیں۔ کسان ترقی کرے گا تو پاکستان ترقی کرےگا۔
توانائی پر قابو پانے کےلئے وطن عزیز میں زیادہ سے زیادہ پن بجلی کے منصوبے لگانے چاہئیں۔ اس کےلئے یورپی ٹیکنالوجی سے بھی فائدہ اٹھایا جائے۔ یہ پنجاب حکومت کا انتہائی مستحسن عمل ہے جس کے ذریعے نہ صرف توانائی کا بحران کم ہوگا بلکہ ہمیں سردیوں میں فصلوں کےلئے وافر پانی بھی دستیاب ہوگا۔ بارشوں کے موسم سے میں سیلاب کے خطرات سے بھی بچ سکیں گے۔
یہ کفران نعمت ہے کہ زراعت کیلئے مطلوبہ سارے اسباب ہونے کے باوجود ہم زراعت میں خودکفیل نہیں ۔ہمارے کسان کاشتکاری چھوڑ کر متبادل ذرائع معاش تلاش کر رہے ہیں۔زرعی زمینوں پر گھر بنائے جا رہے ہیں۔ یوں شائد گھروں کی کمی تو پوری ہو جائے مگر ان گھروں میں رہنے والوں کو روٹی کہاں سے ملے گی۔ زرعی زمینیں ختم ہونے سے زرعی اجناس بھی بتدریج ختم ہوتی جائیں گی۔دیہی آبادی شہروں میںمنتقل ہو رہی ہے۔ اس سے شہروں کی آبادی میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے ۔ شہروں میں ٹریفک اور بے چینی بڑھ رہی ہے۔ یوں معاشرے میں بے راہ روی اور سماجی جرائم بڑھ رہے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کےلئے سب سے بہتر حل یہ ہے کہ کہ بلا تاخیر اپنی زراعت کو سنبھالا دیا جائے۔ وسیع پیمانے پرقلیل المدتی اور طویل المدتی منصوبے بنائیں جائیں۔

Exit mobile version