لاہور راولپنڈی، راقم کے ضلع سےالکوٹ اور شائد پنجاب کے دےگر اضلاع مےں بھی بغےر ہےلمٹ موٹر سائےکل سواروں کو پٹرول نہ دےنے کا نوٹےفےکےشن جاری کر دےا گےا ہے ۔نوٹےفےکےشن مےں کہا گےا ہے کہ ہےلمٹ نہ پہننے کی وجہ سے حادثات مےں سر کی چوٹ کے واقعات مےں اضافہ ہو رہا ہے ۔ہےلمٹ استعمال کے حوالے سے شہروں مےں آگاہی بےنرز بھی آوےزاں کر دےے گئے ہےں اور سوشل مےڈےا پر بھی پولےس کی طرف سے آگاہی مہم بھرپور انداز مےں چلائی جا رہی ہے ۔شہرےوں نے ہےلمٹ کی خرےداری کےلئے مارکےٹوں کا رخ کر لےا ہے ۔معزز قارئےن ان دنوں وطن عزےز کے اےک بڑے صوبے کے تمام بڑے شہروں مےں جو اہم مسائل عوام کے رو برو ہےں ان مےں اےک اہم مسئلہ ہےلمٹ کی پابندی کا ہے ۔دوسرے درپےش مسائل و قوانےن تو محدود حلقوں پر اثر رکھتے ہےں لےکن ہےلمٹ کا اثر عام ہے ۔ےہ سب مسئلوں کے سر پر ہے اسی کا ہی ان دنوں راج ہے ۔ےوں تو پورے ملک مےں اس کی ضرورت ہے لےکن بڑے شہروں مےں اس کی بن آئی ہے ۔بڑے شہروں کے ناکوں پر ستم رسےدہ عوام مےں آنکھ مچولی کے دےدہ زےب مناظر دےکھنے کو مل رہے ہےں ۔وطن عزےز مےں ہےلمٹ کی پابندی کی تارےخ پر نظر ڈالےں تو ہےلمٹ کی دوامی حےثےت ہمےشہ مشکوک رہی ہے کےونکہ جنرل ضےاءالحق اور پھر جنرل پروےز مشرف کے ادوار حکومت مےں ہےلمٹ کی پابندی کا چند ماہ بڑا چرچا رہا ۔کہا جاتا ہے کہ ان دونوں ادوار حکومت مےں کسی اوپر والے ہاتھ نے اپنے ہےلمٹ فروخت کرنے کےلئے ےہ پابندی لگوائی اور جب غےر معےاری ہےلمٹ فروخت ہو گئے تو ےہ پابندی اٹھا لی گئی ۔چند ماہ بڑا ہنگامہ رہا ،پھر ےہ قانون اےسا غائب ہوا کہ آج پھر پنجاب مےں پٹاری سے نکل آےا ہے ۔آج بھی ےہی خےال کےا جا رہا ہے کہ ہےلمٹ کی پابندی لگوانے کے پس پردہ کسی بالائی طاقتور طبقے کا ہی ہاتھ ہے ۔سابقہ تجربہ کی روشنی مےں اکثرےت کا اب بھی ےہی خےال ہے کہ ےہ قانون چند ماہ کی حےات کے بعد دم توڑ دے گا اور بڑی بات نہےں کہ ہےلمٹ پہنانے کی ےہ تحرےک بھی قصہ ماضی بن جائے ۔ہےلمٹ کی افادےت و اہمےت سے انکار ممکن نہےں کم از کم ےہ سر کی چوٹ سے محفوظ رکھتا ہے ۔اس طرح حادثہ کی صورت مےں اس کے پہننے سے جان بچنے کے امکانات کافی روشن ہےں لےکن قوم جو پہلے ہی بجلی گےس اور دےگر لوازمات زندگی پورا کرنے مےں نڈھال و لاچار ہی نہےں بلکہ نےم جان ہو چکی ہے اسے بذرےعہ ہےلمٹ جان سے بچانے کی ارباب اختےار کی نوازش و سعی سمجھ سے بالا تر ہے ،مگر نظر ےہی آتا ہے کہ انتظامی مشےنری صرف انہی معاملات مےں ہاتھ ڈالتی ہے جہاں اس کا کچھ مفاد ہو ۔موٹر سائےکل غرےب کی سواری ہے ۔چند ہفتے قبل ہونے والے اےک سروے کے مطابق جب سے پٹرول مہنگا ہوا ہے ،اس کی فروخت مےں نماےا ں کمی دےکھنے مےں آ رہی ہے ،اب بے چارہ غرےب پہلے دو ہزار کا ہےلمٹ خرےدے ،پھر کم از کم اےک ہزار کا پٹرول موٹر سائےکل مےں ڈلوائے ۔پھر وہ موٹر سائےکل کی سواری کرنے کے قابل ہو گا مگر سوال ےہ ہے کہ ےہ 3ہزار روپے آئےں گے کہاں سے ؟جو شخص چھ سات سو روپے کماتا ہو ،بے چارہ موٹر سائےکل چلائے گا ےا اپنا گھر ؟دےدہ وروں کے پا س اس کا کوئی جواب نہےں ۔عےد الفطر کے نزدےک عےد بنانے کےلئے گاڑےوں ،رکشوں اور موٹر سائےکلوں کے چالان کرنا ہماری پولےس کا دےرےنہ شےوہ ہے جس سے وطن عزےز کے کسی باسی کو انکار نہےں کےونکہ آج تک پولےس اسی وطےرہ پر بڑی جانفشانی اور لگن سے عمل پےرا ہے ۔جب بھی ملک خدا داد مےں پولےس کےلئے کوئی مک مکا کا نےا قانون لاگو ہوتا ہے خواہ ےہ رمضان المبارک مےں روزہ خوروں کی گرفت کا قانون ہو ،ڈبل سواری کا معاملہ ہو ،کاروں سے کالے شےشے اتروانے کا ٹارگٹ ہو ،بسوں سے ڈےک و ٹےلی وےژن اتروانے کی مساعی ہو ےا کرپشن کے خاتمے کےلئے اےنٹی کرپشن تشکےل دی جائے ،ہر صورت مےں فےض ےاب ہونے والا طبقہ صرف پولےس کا ہی ہوتا ہے اور اسی کے وارے نےارے ہوتے ہےں ۔پروفےسر انور مقصود نے اسی مک مکا کے بارے مےں کےا خوب کہا ہے ۔
آپ بے جرم ےقےناً ہےں مگر ےہ فدوی
اس کام پہ مجبور بھی ہے مامور بھی ہے
کچھ نہ کچھ توآپ کو دےنا ہو گا
رسم دنےا بھی موقع بھی ہے دستور بھی ہے
پنجاب کے بڑے شہروں مےں ہےلمٹ کے قانون کے عمل کا نفاذ ہوتے ہی اےسا دکھائی دےا کہ ٹرےفک کے دوسرے تمام قوانےن ےکلخت موقوف کر دئےے گئے ےا پس پردہ چلے گئے ۔ڈی آئی جی ٹرےفک پنجاب نے ”ہےلمٹ نہےں تو سفر نہےں “ مہم کے اعدادوشمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہےلمٹ سب کو پہننا پڑے گا خواہ وہ کسی بھی محکمے کا ملازم ہو ۔والدےن اساتذہ اور ٹرےفک پولےس مل کر نوجوان نسل کو ہےلمٹ کی افادےت کے بارے مےں بتائےں ۔ان کا کہنا تھا کہ دو دنوں مےں پورے صوبے مےں 64ہزار سے زائد افراد کو جرمانہ اور7ہزار سے زائد موٹر سائےکلوں کو بند کےا گےا ۔اس عمل سے ےقےناً لاکھوں روپے رےونےو حاصل ہوا ہو گا ۔سےنکڑوں جو مک مکا پر چھوڑے گئے ہوں گے اور جن کی پولےس کے ہاتھوں عزت نفس مجروح ہوئی ہو گی ،وےسے بھی وطن عزےز کے شرفا کی پولےس کی نظر مےں کبھی کوئی عزت رہی ہے جو مجروح ہو ۔ذمہ داران نے ہمےشہ کی طرح ہےلمٹ کی پابندی کا عملی نفاذ کرنے سے قبل ےہ اندازہ ہی نہ لگاےا کہ بڑے شہروں کی سڑکوں پر کتنی موٹر سائےکلےں چلتی ہےں اور کتنی تعداد کے پاس ہےلمٹ موجود ہےں اور ہےلمٹوں کا کتنا سٹاک ےہاں موجود ہے ،آےا ےہ ذخےرہ کم پڑنے کا احتمال تو نہےں ۔سرکاری سطح پر ہےلمٹوں کی دستےابی ،قےمتوں پر کنٹرول جےسے معاملات کو نظر انداز کےا گےا ۔ہےلمٹ کی خرےد کا طوفانی انداز اختےار کرنے سے قبل ارباب اختےار کو اندازہ کر لےنا چاہےے تھا ۔ہےلمٹ کی پابندی کے قانون کی پابندی کے عملی نفاذ کے ساتھ ہی دکانوں سے ہےلمٹ غائب کر دئےے گئے ۔دکاندار بلےک مےں ہےلمٹ فروخت کر کے بہتی گنگا سے خوب مستفےض ہو رہے ہےں ۔کوئی پوچھنے والا نہےں ۔دوسری جانب شہری قےمتےں بڑھنے کے بعد محفوظ ہےلمٹ کی بجائے صرف جرمانے سے بچنے کےلئے انتہائی ناقص مےٹےرےل سے بنے ہوئے ہےلمٹ خرےدنے کو ترجےح دے رہے ہےں ۔چالان سے بچاﺅ کی خاطر بعض نوجوانوں نے کھلاڑےوں اور ،صنعتی اداروں اور کان مےں کام کرنے والے ملازمےن کے زےر استعمال سےفٹی ہےلمٹ پہننے شروع کر دئےے ہےں ۔کےا ہی بہتر ہوتا کہ ستم رسےدہ عوام کو بلےک مےں ہےلمٹ کی خرےد سے بچانے کےلئے بڑے شہروں مےں ہر ناکے پر پولےس کے پاس ہےلمٹوں کا ذخےرہ ہوتا اور بغےر ہےلمٹ کے موٹر سائےکل سوار بجائے جرمانہ کروانے کے اسی جرمانے کی رقم مےں کچھ اضافی رقم ملا کر ان سے معقول اورو مقررہ نرخ پر ہےلمٹ خرےد کر اپنی جےبےں کٹنے سے بچا سکتے ۔جہاں تک ہےلمٹ کی پابندی مےں سود و زےاں کا تعلق ہے ےہ حادثے کی صورت مےں چوٹ سے بچاتا ہے ۔گرمی و سردی کی شدت و حدت سے اور گردو غبار اور دھوےں جےسی کثافتوں کے منفی اثرات سے بچانے مےں بھی ممد و معاون ہے ۔بچے جو سکولوں اور کالجوں مےں موٹر سائےکلوں پر جاتے ہےں ےہ ہےلمٹ سنبھالےں ےا بھاری بھرکم بستے ۔سےنکڑوں کی تعداد مےں بچوں کا ہےلمٹوں کو تعلےمی اداروں مےں سنبھالنا اور الگ الگ ان کی پہچان رکھنا بھی اےک مشکل مرحلہ ہے ۔ اےک ماہر امراض جلد کی رائے مےں سر پر مسلسل ہےلمٹ پہننے سے جلد کی بےماری ہو سکتی ہے جو سر سے پھےل کر چہرے اور دوسرے حصوں تک بھی وسےع ہو سکتی ہے ۔عمامہ پہننے والے حضرات کےلئے بھی ہےلمٹ اےک سخت چےلنج کی حےثےت رکھتا ہے عمامہ اتنی معتبر چےز ہے جو ہمارے معاشرے مےں کسی بزرگ و زاہد کے ساتھ ہی آتا ہے ۔مولوےت کا تو جزو لازم ہے ےہ شرفا تو کبھی بھی اس سے دست بردار ہونا گوارا نہےں کرتے ۔ہےلمٹ کے سبب موٹر سائےکل سوار کی پہچان بہت مشکل ہوتی ہے ۔جرائم پےشہ اور دہشت گردوں کےلئے واردتوں کےلئے ہےلمٹ مدد گار ہے ۔
ہےلمٹ کی پابندی کا قانون

