Site icon Daily Pakistan

اسلام آباد میں آوارہ کتوں کو زہر دینے،گولی مارنے یا تلف کرنے پرمستقل پابندی عائد

اسلام آباد میں آوارہ کتوں کو زہر دینے،گولی مارنے یا تلف کرنے پرمستقل پابندی عائد

اسلام آباد میں آوارہ کتوں کو زہر دینے،گولی مارنے یا تلف کرنے پرمستقل پابندی عائد

اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں آوارہ کتوں کو زہر دینے،گولی مارنے یا تلف کرنے پر مستقل پابندی عائد کردی۔جسٹس خادم حسین سومرو نے اسلام آباد میں آوارہ کتوں کی آبادی کنٹرول کرنے اور ان پر تشدد کےخلاف درخواست کا 24 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے اسلام آباد میں آوارہ کتوں کو زہر دینے،گولی مارنے یا تلف کرنے پرمستقل پابندی عائد کرنے اور آوارہ کتوں کی آبادی پر قابو پانے کے لیے ٹریپ، اسٹریلائز اور ویکسین اپنانے کی ہدایت کی۔ہائیکورٹ نے وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ، سی ڈی اے اور دیگر فریقین کو پالیسی پر عمل درآمد کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ویٹرنری ڈاکٹر ہی کتےکےباؤلے یا لاعلاج ہونےکی تصدیق اورطبی طریقےسےنجات دےسکتاہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے کتوں کےکاٹنے کے واقعات اور ویکسی نیشن کا ڈیٹا بیس بنانے کا حکم دیتے ہوئے جانوروں پر ظلم کی رجسٹری قائم کرنے کا بھی حکم دیا۔
عدالت نے ترلائی میں قائم آوارہ کتوں کے آبادی کنٹرول سینٹر کے ریکارڈ اور ایس او پیز شفاف بنانےکا حکم دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں آوارہ جانوروں کے انتظام کا کوئی یکساں قومی قانون موجود نہیں ہے، پاکستان میں آوارہ جانوروں سے متعلق صوبائی سطح پربھی نظام بکھرا ہوا ہے ۔ہائیکورٹ کا کہنا ہے کہ جانوروں پرظلم کی روک تھام کا ایکٹ 1890 پرانا ہو چکا ہے، جانوروں پرظلم کی روک تھام کےایکٹ میں اصلاحات اور سخت سزاؤں کی ضرورت ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے کی گاڑی میں مردہ کتوں کی تصاویر سامنے آنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا، اور کہا کہ فریقین کتوں کو مبینہ طور پر مارنے کی کوئی قانونی یا معقول وجہ پیش نہ کرسکے، آوارہ اور جنگلی کتے بھی جاندار اور حساس مخلوق ہیں، ان سے بےرحمانہ سلوک نہیں کیا جاسکتا ، آئین میں زندگی کے حق میں ماحولیاتی توازن اور حیاتیاتی تحفظ بھی شامل ہے۔فیصلے میں لکھا ہے کہ اسلامی تعلیمات، قرآن و سنت کی روشنی میں جانوروں پر ظلم کی سخت ممانعت ہے، اسلام میں تو جانوروں کے ساتھ رحمدلی کا حکم ہے ۔عدالت کو بتایا گیا کہ آوارہ کتوں کی نس بندی اور ویکسینیشن پر فی کتا 19ہزارروپے لگتے ہیں۔ دوران سماعت ملائیشیا، ترکی، انڈونیشیا اور بھارت سمیت مختلف ممالک میں آوارہ کتوں کی آبادی کے انتظام کے قوانین کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا۔

 

Exit mobile version