انتخابات کے حوالے سے جاری جمود تو ٹوٹ چکا ہے اور اس حوالے سے پائے جانے والے مختلف ابہامات بھی ختم ہوچکے ہیں مگر اس کے باوجود نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ نے ایک بار پھر اس بات کا اظہار کیا ہے کہ آئین کے مطابق الیکشن کروانے کی ذمہ داری الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ہے اور اس حوالے سے بہت جلد باضابطہ طور پر تاریخ کا بھی اعلان کردے گا، اس کے ساتھ ساتھ جناب وزیر اعظم مسئلہ کشمیرکے حوالے سے ایک بڑی سنجیدہ اور گہری بات کی ہے کہ یہ مسئلہ دراصل دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ابھی تک حل طلب ہے اور اس کے حل کیلئے کوئی بھی بڑی طاقت سنجیدگی کا اظہا ر نہیں کررہی ، خدانخواستہ ایک ہلکی سی چنگاری اس پورے خطے کو ختم کرسکتی ہے اس لیے اسے جلد از جلد حل کیاجانا چاہیے ، اس کے علاوہ جناب وزیر اعظم نے یہ بھی بتایا ہے کہ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے بھارتی دہشتگردی کا شکار چلا آرہا ہے اور اندرون پاکستان ہونے والی دہشتگردی کی کارروائیوں میں بالواسطہ یا بلاواسطہ بھارت کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت ملے ہیں اور حال ہی میں کنیڈا میں سکھ رہنما کے قتل میں بھی بھارت کے ملوث ہونے ثبوت ملے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت بین الاقوامی سطح پر دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے ، جناب وزیر اعظم کا یہ اظہار خیال نہایت فکر انگیز ہے اس حوالے سے عالمی برادری کو وزیر اعظم کے فرمودات کی روشنی میں نوٹس لینا چاہیے ، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پڑوسی ملک افغانستان کی عبوری حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے میں تھوڑا وقت لگے گا اور خطے کے حوالے سے ہمارا نکتہ نظر وسیع ہے۔ نگران حکومت کو معاشی عدم استحکام کی صورت حال پر گہری تشویش ہے، جو اس وقت کافی حد تک قابو میں ہے لیکن ہم قانونی طور پر نگرانی کر رہے ہیں اور جب استحکام کی بات آتی ہے تو ہم اس حوالے سے اقدامات کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ ایک پاکستانی اور اس خطے سے آنے والے فرد کی حیثیت سے بہت حیرت ہوگی کہ خطے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے یا اگر امریکا کی کم توجہ کا مستحق ہے کیونکہ یہ وہ جگہ تھی جہاں اصل میں بہت اہمم چیزیں وقوع پذیر ہوئیں۔ جنوبی ایشیائی خطے کی تقریبا 3 سے 4 ارب کی آبادی ہے تو 4 ارب لوگوں کو کیسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے، تقریبا نصف انسانیت وہاں رہتی ہے۔ ان علاقوں میں ممکنہ تنازعات ہیں اور کشمیر کے تنازع کا ذکر نہ کرنا بہت بخل کی بات ہو گی کیونکہ یہ دو ایٹمی ریاستوں کے درمیان ایک سلگتا ہوا مسئلہ ہے۔یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ یورپی براعظم پر مسئلہ کشمیر کے کس قسم کے مضمرات ہوں گے، پورے کرہ ارض پر شمالی امریکا اور باقی حصوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ وزیر اعظم نے جنوبی چین کے گرد انڈوپیسفک پالیسی کے تحت ایک علاقائی طاقت کے گھیرا پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم اس حوالے سے ہونی والی تمام پیش رفت کی نگرانی کر رہے ہیں۔ نام نہاد انڈو پیسفک حکمت عملی ان مقاصد کےلگے کی گئی ہے جو مغربی طاقتوں کےلئے موزوں ہے، اس لیے تشویش کا عنصر ہے اور پاکستان کی جانب سے احتیاط کا احساس جائز ہے اور ہم اس کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں اور ہم اس طرح کے چیلنج کا جواب دینے کےلئے اپنی تیاری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کسی بھی سیاسی جماعت کو انتخابی عمل میں حصہ لینے سے نہیں روکا گیا تاہم 9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ پاکستان دو دہائیوں سے بھارت کی دہشت گردی کا نشانہ بن رہا ہے، کینیڈا میں سکھ رہنما کے قتل واقعے کے بعد بھارت پر سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔بھارت دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، کینیڈا میں سکھ رہنما کو بہیمانہ انداز میں قتل کیا گیا، کینیڈا میں بھارتی اقدامات سے مغربی دنیا کو جھٹکا لگا ہے، کینیڈا کے واقعے نے مغرب کی آنکھیں کھول دیں۔ نگران وزیراعظم کاکہناتھا کہ مختلف عالمی فورمز پر موسمیاتی تبدیلی کا معاملہ اٹھایا، پاکستان چاہتا ہے کہ مسئلہ فلسطین حل ہو، امن کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد ضروری ہے، ہم نے مسئلہ کشمیر، فلسطین اور ہندو توا سے متعلق دنیا کو آگاہ کیا ہے، ہمارے امریکا کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں، ہم اپنی سرزمین کا دفاع کرنا جانتے ہیں، پاکستان کے مفاد کے حوالے سے فیصلے کر رہے ہیں۔ الیکشن کی تاریخ کا اعلان جلد ہو جائے گا ، ملک میں انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، کسی بھی سیاسی جماعت کو انتخابی عمل میں حصہ لینے سے نہیں روکا گیا۔ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری پر آمادہ ہیں، ہم نے آٹا چینی مافیا کے خلاف کارروائیاں کی ہیں، ملک میں آٹے، چینی سمیت اناج کی کوئی قلت نہیں ہے، پاکستان میں ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بھی موثر کارروائیاں کی گئی ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کا کامیاب دورہ چین
پاک چین دوستی گزشتہ 75سالوں میں ہر آزمائش پر پور ی اتری ہے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے مابین تعاون بدستور جاری ہے ، دونوں ممالک کے بہت سارے شہروں کو آپس میں جڑواں قرار دیا جا چکا ہے اور دوستی کے سلسلوں کو مزید پھیلاجارہا ہے ، گزشتہ دنوں پنجاب کے وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے عوامی جمہوریہ چین کا دورہ کیا جو نہایت کامیابی سے مکمل ہوا۔وزیراعلیٰ محسن نقوی کا دورہ چین دوطرفہ تعلقات خصوصاً زراعت اور صنعت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کےلئے انتہائی سودمند رہا اور”محسن نقوی ان چائنہ“ ٹویٹر کا ٹاپ ٹرینڈ رہا۔دورے کو چین کے ذرائع ابلاغ نے خصوصی اہمیت اور نمایاں کوریج دی-وزیر اعلی محسن نقوی نے 18 سے زائد ممالک کے ننشیا انٹرنیشنل فرینڈ شپ سٹیزفورم کا افتتاح کیا- پاکستان کی تاریخ میں محسن نقوی پہلے وزیراعلیٰ ہیں جنہوں نے اس فورم کا افتتاح کیا۔وزیراعلی محسن نقوی نے ننشیا فرینڈ شپ سٹیز فورم سے کلیدی خطاب کیا-وزیراعلی محسن نقوی نے روشن مستقبل کےلئے خطے میں امن اور خوشحالی پر زور دیا-وزیراعلی نے اپنے خطاب میں پاک چین تعلقات کوامن کےلئے ناگزیر قرار دیا-وزیراعلی محسن نقوی کی کاوشوں سے ساہیوال اور بہاولپور کو چینی شہروں کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دینے کے معاہدوں کی دستاویزات پر دستخط ہوئے-ساہیوال اورووژونگ، بہاولپوراور زونگ وئی تمام شعبوں میں اشتراک کارکریں گے-سسٹر سٹیز معیشت اور تجارت، سائنس اور ٹیکنالوجی میں معاونت کریں گے-سسٹرسٹی تعلیم، زراعت، ہیلتھ، ثقافت اور سیاحت کے فروغ کے لئے تعاون کریں گے-سسٹرسٹی کے سرکردہ حکام اور متعلقہ محکمے باہمی وفود اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ کرینگے
سکھ رہنما کے قتل کی آزادانہ تحقیق کا امریکی مطالبہ
کینیڈا میںقتل ہونے والے سکھ رہنما دلیپ سنگھ کے قتل کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لئے اب دنیا بھر میں آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں اور مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اس کے صاف شفاف تحقیقات کرکے اس جرم کے مرتکب افراد کو کٹہرے میں لاکر عبرتناک سزا دی جائے ، یہ بات تو طے ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ بھارت مخالف شخصیات کو بیرون قتل کرانے کے لئے خصوصی آپریشن کرتی ہے ، اس سے پہلے بھی کئی افسوسناک واقعات کے ذریعے مختلف شخصیات کو قتل کیا جاچکا ہے ، ہمارے ذرائع کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ میں ایک خصوصی سکواڈ کام کررہا ہے جو بھارتی کمانڈوز کے دستے پر مشتمل ہے اور ان کاکام بھارت مخالف عناصر کو راستے سے ہٹانا ہے ، اسی حوالے سے امریکہ نے بھارت سے خالصتان تحریک کے رہنما دلیپ سنگھ نجر کے قتل کی تحقیقات میں تعاون کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے کہا کہ سکھ رہنما دلیپ سنگھ نجر قتل کیس پر بھارت اور کینیڈا کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ بھارت دلیپ سنگھ نجر قتل کیس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی اور قتل کی تحقیقات میں تعاون کرے۔ امریکہ بین الاقوامی جبر کو نہایت سنجیدگی سے لیتا ہے اور اہم بات یہ ہے کہ سکھ رہنما قتل کیس کی تحقیقات مکمل ہوں اور اس کا نتیجہ بھی نکلے۔قبل ازیں امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے واضح کیا تھا کہ بھارت پر کینیڈا کے سنگین الزامات باعث تشویش ہیں جبکہ امریکہ اور کینیڈا کے درمیان معاملے پر کوئی کشیدگی نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ چاہتا ہے تحقیقات آگے بڑھیں۔ اور قتل میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔