آئی ایم ایف کے وفد نے پاکستان میں قیام کے دوران مختلف ملاقاتیں کی ہیں۔ ان میں اہم ملاقات چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی سے سپریم کورٹ میں ہوئی ۔ اس کے بعد ایک ملاقات پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ممبران سے مشترکہ ملاقات بھی ہوئی۔ یہ خبر سب کیلئے حیران کن تھی کہ آئی ایم ایف کے وفد کی ملاقاتیں چیف جسٹس آف پاکستان، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار سے ہی کرنا کیوں ضروری سمجھا گیا۔ عوام سمجھ رہے تھے کہ چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات کا مقصد ان کی پرکشش تنخواہوں کے بارے میں جاننا ہوگا لیکن اس پر یہ خاموش رہے ۔ان کی ملاقات کرنا بنتی تھی تو سپیکر قومی اسمبلی سے کرتے اور پوچھتے کہ ممبران اسمبلی کی تنخواہیں کیوں زیادہ ہو گئی ہیں۔ مگر ان کی ملاقاتوں کا سلسلہ سپریم کورٹ کے گرد ہی رہا آئی ایم ایف سے چیف جسٹس کی ملاقات کے بعد کا سلسلہ افٹر شاک کہا جارہا ہے ۔کیونکہ اس ملاقات کے بعد ہی چیف جسٹس نے وزیراعظم سے ملاقات کی پھر سپریم کورٹ بار کے صدر اور اپوزیشن کے لیڈران سے ملاقاتیں کیں جب کہ کہا جاتا ہے چیف جسٹس صاحب کےساتھ ان ملاقاتوں کا کوئی پہلے سے ذکر نہیں تھا۔ وزیراعظم اور اپوزیشن کے ساتھ ملاقاتوں کی بالکل ضرورت نہ تھی۔ یہ ملاقاتیں ججز کے درمیان رہتی تو کچھ سوال نہ اٹھتے فائدہ ہوتا۔ کہا جاتا ہے آئی ایم ایف نے چیف جسٹس سے ملاقات میں ایک خاص سیاسی قیدی کے کیس کے مطلق پوچھا۔ اب کہا جارہا ہے چیف جسٹس کی ملاقاتیں آئی ایم ایف کی ملاقات کا نتیجہ ہے۔ سپریم کورٹ بار اور پاکستان بار کونسل سے آئی ایم ایف کی ملاقات کے کیا مقاصد تھے کسی کو کچھ پتہ نہیں۔مشترکہ ملاقات کرنا بھی سمجھ سے باہر ہے۔ ایک ہی ٹیبل پر ان نمائندوں کے ساتھ ملاقات کرنا شلجم سے مٹی جھاڑنے کے مترادف لگتا ہے۔ سوال ہے کہ یہ ملاقات سپریم کورٹ بار کے آفس میں الگ الگ ملاقاتیں کیوں نہ کی گئی۔ بار کونسل اور بار ایسوسی ایشن کی ملاقات اور چیف جسٹس کی ملاقات میں فرق کیوں تھا ۔ جس آئی ایم ایف کی رہنما خاتون نے چیف جسٹس سے ملاقات کی تھی۔ اس نے پاکستان بار کونسل اور بار ایسوسی ایشن کی میٹنگ میں شرکت کیوں نہیں کی اس کی جگہ کوئی دوسری خاتون جو کہ اس سے کم عہدے کی مالکہ تھی اس نے میٹنگ کیوں کی۔ کہا جاتا ہے اس کے عہدے اور رنگت میں بھی فرق تھا۔ بار کونسل اور بار سے پوچھا گیا آپ نے کس زبان میں آئی ایم ایف کے وفد سے بات کی تو بتا گیا کہ پاکستان بار کونسل کے ممبر نے انگلش میں اور ۔صدر سپریم کورٹ بار نے اردو میں بات کی لیکن انکے ٹرانسلیٹر کے چلے جانے کے بعد انگریزی میں بات چیت چیت جاری رکھیں۔ میٹنگ کی فوٹوز دیکھ کر اس دوران مجھے کراچی کا وہ نوجوان یاد آگیا جس کو ایک امریکن خاتون نے اپنی خوابوں کا شہزادہ سمجھ کر اپنے پاکستانی محبوب سے ملنے اور اس سے شادی رچانے کیلئے کراچی پاکستان چلی آئی تھی۔اس کے محبوب نے اس سے ملنے سے انکار کر دیا تھا کہ میں کسی کالو سے نہیں گوری سے بات کرتا رہا ہوں ۔ میری جس خاتون سے بات ہوتی تھی وہ گوری تھی یہ توکالو ہے۔ داد دیتے ہیں اس جوان کو جس نے امریکی ڈالر اور امریکی خاتون سے آنکھیں بند کر کے ملنا گوارا نہ کیا ۔ مگر وکلا کے نمائندوں نے ہر بات انکی مان کر ملاقات کی۔ اس ملاقات پر بار کے وکلا کہتے ہیں کہ یہ انڈر پریشر تھے ورنہ کراچی کے نوجوان نے تو جینا سکھا دیا تھا وکلا کے نمائندے اسی سے ملاقات کرتے جس سے چیف جسٹس کی ملاقات ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے سپریم کورٹ بار اور بار کونسل کے ممبران نے اپنا لیول کم کرکے اس وفد سے ملاقات کی۔ ہو سکتا ہے آئی ایم ایف کو کسی نے بتا دیا ہو کہ یہ کمزور ادارے کے کمزور عہدے دار ہیں جن کے ہوسٹل کے راستے اکثر بند رہتے ہیں اور یہ خاموش رہتے ہیں۔اچھا ہوتا ان کو کہتے کہ ہوسٹل کا راستہ کلیر کروا دیں تو ہم ان پر فخر کرتے۔قوم جانتی ہے ہماری قومی زبان اردو ہے مگر عہدوں پر بیٹھنے والے قومی زبان کی پرواہ نہیں کرتے ۔ پھر ہم انگریزی بولتے نہیں اس کی ٹانگیں توڑتے ہیں۔ صدر سپریم کورٹ بارمیاں رو¿ف عطا نے ان سے اردو میں مذاکرات کا آغاز کرکے وکلا کا کچھ سر فخر سے بلند کرنے کی کوشش کی مگر جو ہی ان کا ٹرانسلیٹر گیا تھا یہ بھی اٹھ جاتے تو پورا سر فخر سے بلند ہو جاتا۔ ہمیں آئی ایم ایف کا کچھ پتہ نہیں یہ آئی ایم ایف ہے کیا،کب اورکیوں بنا ؟ بابا کرمو نے بتایا کہ آئی ایم ایف 1944 میں امریکہ میں ہونے والی بریٹن ووڈ کانفرنس کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا۔اس کانفرنس میں دنیا بھر سے دوسری عالمی جنگ کے دوران 44 ممالک نے شرکت کی تھی جن میں برطانیہ، امریکہ اور سوویت یونین شامل تھے۔ اس کانفرنس میں عالمی معاشی معاملات کے ساتھ ساتھ ایک مستحکم ایکسچینج ریٹ کا نظام بنانے اور جنگ سے متاثرہ یورپی ممالک کی معیشت کو بحال کرنے پر بات چیت ہوئی تھی۔ان مقاصد کو پورا کرنے کے لیے عالمی بینک اور آئی ایم ایف معرض وجود میں آئے۔آئی ایم ایف کے اراکین ایک فکسڈ ایکسچینج ریٹ کے نظام پر متفق ہوئے تھے جس کے بارے میں طے ہوا تھا کہ اسے 1970 تک قائم رکھا جائے گا۔پاکستان کی آئی ایم ایف پروگراموں میں شمولیت کے بارے عالمی ادارے کی ویب سائٹ پر موجود تفصیلات کے مطابق پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ ابھی تک23پروگرام ہوئے ہیں اور پہلا پروگرام دسمبر 1958 میں طے پایا جس کے تحت پاکستان کو ڈھائی کروڑ ڈالر دینے کا معاہدہ طے ہوا۔اس کے بعد آئی ایم ایف پروگراموں کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا۔ آخری بار آئی ایم ایف بورڈ نے اگست 2022 میں فنڈ دئے۔ آئی ایم ایف پروگرام کی تاریخ کے مطابق فوجی صدر ایوب خان میں پاکستان کے آئی ایم ایف سے تین پروگرام ہوئے۔پاکستان پیپلز پارٹی کی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سربراہی میں بننے والی پہلی حکومت کے دور میں پاکستان کے آئی ایم ایف سے چار پروگرام ہوئے۔فوجی صدر جنرل ضیاالحق کے دور میں پاکستان نے آئی ایم ایف کے دو پروگراموں میں شرکت کی۔ آئی ایم ایف کسی ملک کو قرض کیسے دیتا ہے؟سب سے پہلے ایک رکن ملک آئی ایم ایف سے مالی مدد کی درخواست کرتا ہے اس ملک کی حکومت اور آئی ایم ایف کا عملہ معاشی و مالی صورتحال اور قرض کی رقم پر بات چیت کرتے ہیں ۔ملک کی حکومت اور آئی ایم ایف معاشی پالیسیوں پر اتفاق کرتے ہیں جس کے بعد آئی ایم ایف اس ملک کو قرض دینے پر راضی ہوجاتا ہے۔آئی ایم ایف کی شرائط سے مراد پالیسی اقدامات ہیں جو قرض لینے کے لیے ایک ملک کو کرنے ہوتے ہیں۔ پالیسی پروگرام آئی ایم ایف کے بورڈ کو پیش کیا جاتا ہے تاہم ایمرجنسی فنانسنگ کے تحت اس نظام کو تیز کیا جاسکتا ہے ایگزیکٹیو بورڈ قرض کی منظوری دیتا ہے جس کے بعد آئی ایم ایف پالیسی اقدامات کی نگرانی کرتا ہے ۔ملک کی معاشی اور مالی صورتحال بہتر ہونے پر آئی ایم ایف کو قرض کی رقم واپس کی جاتی ہے تاکہ اسے دوسرے رکن ممالک کے لیے دستیاب بنایا جاسکی ترقیاتی بینکوں کے برعکس آئی ایم ایف کسی مخصوص پراجیکٹ کے لیے قرض نہیں دیتا۔ اس کا مقصد ملکوں کو معاشی بحران میں مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔ایسے میں معاشی استحکام اور پیداوار کےلئے پالیسیوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جاتا ہے۔کسی ملک میں معاشی بحران کی وجہ بیلنس آف پے منٹ کرائسس (یعنی ادائیگیوں میں عدم توازن )ہوسکتی ہے جس میں ایک ملک کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ وہ اپنا غیر ملکی قرض ادا کر سکے یا درآمدات حاصل کرسکے۔یا پھر اس کی آمدن اور اخراجات میں بڑے خسارے کی وجہ سے مالی بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق ان بحرانوں سے پیداوار میں کمی آسکتی ہے، بے روزگاری بڑھ سکتی ہے، آمدن میں کمی آ سکتی ہے اور غیر یقینی کی فضا پیدا ہوسکتی ہے۔ شدید بحران کی صورت میں ڈیفالٹ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور قرضوں کی تنظیم نو ناگزیر ہو جاتی ہے۔امید ہے اب آپ سمجھ گئے ہونگے کہ آئی ایم ایف ہے کیا اورکیا کام کرتا ہے؟ان معلومات کی روشنی میں چیف صاحب اور بارکے نمائندوں سے ملنا کیا مناسب بنتا تھا۔
آئی ایم ایف کی ملاقاتیں
