Site icon Daily Pakistan

استقامت کے وارث: ایک بے مثال داستان

زمانہ ہر دور میں ایک ہی سوال دہراتا ہے، جو انسان کی اخلاقی اور روحانی بنیادوں کو پرکھتا ہے: کیا حق کی راہ پر چلنے والے جھک جائیں یا سر بلند رکھیں؟ یہ سوال نہ صرف فرد کی آزمائش ہے بلکہ پوری قوم کے کردار کا تعین کرتا ہے۔ تاریخ کے صفحات پلٹ کر دیکھیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ جب بھی ظلم کا دور دورہ ہوا، دو طرح کے رویے سامنے آئے۔ ایک وہ جو مسندِ اقتدار کے سامنے سر بسجود ہو گئے، اور دوسرا وہ جو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے، جنہوں نے اپنی ذات سے بڑھ کر اصولوں کو ترجیح دی۔ انہی کی عظمت کا قصیدہ قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہے: یعنی ”کمزور نہ پڑو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم ایمان والے ہو”۔ یہ وہ ابدی پیغام ہے جو ہر دور میں مردانِ حق کے لیے ایک روشن مینار ثابت ہوا ہے۔استقامت کی یہ روایت صرف کتابوں میں نہیں بلکہ زندہ کرداروں میں نظر آتی ہے۔ تاریخ میں جھانکیں تو ٹیپو سلطان کا نام روشن نظر آئے گا۔ وہ جھک سکتا تھا، اپنی بادشاہت بچا سکتا تھا، لیکن اس نے غلامی کی زنجیر کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔اس نے میدانِ جنگ میں شجاعت کے ساتھ لڑتے ہوئے شہادت کو ترجیح دی تاکہ آنے والی نسلیں غلامی کی ذلت سے بچ سکیں۔اسی طرح، نیلسن منڈیلا نے جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے خلاف آواز اٹھائی۔ اس کے جسم کو قید کی کال کوٹھڑی میں ڈال دیا گیا، جہاں اس نے چھبیس برس گزار دیے، لیکن اس کی روح آزاد رہی۔ جب وہ جیل سے باہر آیا تو اس کا وقار اور عزم پہلے سے زیادہ مضبوط تھا۔ اس نے ثابت کیا کہ زنجیریں جسم کو تو قید کر سکتی ہیں، مگر روح کو نہیں۔ ہمارے اپنے دیس میں جب ایک رہنما تختہ دار پر کھڑا تھا تو اس نے بکھری داڑھی کے ساتھ موت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے آخری لمحے تک اپنے وقار کو قائم رکھا اور یہ دکھا دیا کہ موت بھی استقامت کے سامنے چھوٹی ہے۔استقامت کی یہ روایت آج بھی زندہ ہے۔ یہ وہی حوصلہ ہے جو ہمیں جاوید ہاشمی کے کردار میں نظر آیا، جو شاہی قلعے کی یخ بستہ سلاخوں کے پیچھے بھی ڈٹا رہا۔ اس نے ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے اپنے نظریات پر قائم رہنے کو ترجیح دی۔ یہی حوصلہ میاں طفیل محمد کے خون میں تھا جب ان پر غنڈے چھوڑے گئے، مگر انہوں نے نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ حق کی آواز کو بلند رکھا۔ گوجرانوالہ کی بیٹیوں نے جب عوامی جلوس نکالا تو ان پر بدنام بازاروں سے عورتوں کو چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کے کردار پر انگلی اٹھائی جا سکے، لیکن وہ اپنی حیا اور استقامت کی دیوار بن گئیں اور اس گھناؤنے ہتھکنڈے کو ناکام کر دیا۔ سعد رفیق کے والد، ایک حق پرست سیاست دان، کو اسمبلی ہال کے باہر شہید کیا گیا صرف اس لیے کہ وہ اپنے اصولوں پر کھڑے تھے۔ ان کی شہادت نے درحقیقت حق کی راہ میں قربانی کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔حال ہی میں، ہماری اپنی آنکھوں کے سامنے ایک نیا باب لکھا گیا۔ جدہ کی جیلوں میں انجینئر افتخار چوہدری ، مسعود پوری، ارشد خان، نعیم بٹ، قاری شکیل، وسیم صدیقی اور دیگر کارکنوں کو قید کیا گیا اور ان کی اذیتوں کا ذکر کسی نے نہ کیا۔ ان کے زخموں کو خاموشی سے نظر انداز کر دیا گیا، لیکن ان کے دلوں میں حق کی شمع کبھی بجھ نہیں پائی۔ یہ وہ کردار ہیں جن کے زخم تاریخ کے اوراق پر خون سے لکھے گئے ہیں اور آنے والی نسلوں کیلئے استقامت کی داستان بن گئے ہیں۔ اسی طرح، صحافت کی دنیا میں بھی استقامت کے مینار نظر آئے۔ جب سینیئر صحافیوںنے سچ لکھا تو انکے بھائیوں کو اٹھا لیا گیا۔ ان کی یہ قربانی صرف ان کی ذاتی نہیں بلکہ پورے آزاد میڈیا کی آزادی کی جدوجہد کا حصہ بن گئی۔ ارشد شریف کو جنگلوں میں شہید کیا گیا۔ ان کی شہادت ایک قلم کار کی نہیں بلکہ حق کی آواز کی شہادت تھی۔ یہ شہادت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سچ کی قیمت کتنی زیادہ ہو سکتی ہے، اور کچھ لوگ اس قیمت کو ادا کرنے سے بھی نہیں ڈرتے ۔ یہ قافلہ صرف چند ناموں تک محدود نہیں رہا۔ اس کی وسعت میں یاسمین راشد، عمر چیمہ، اعجاز چوہدری، محمود الرشید اور درجنوں دیگر کارکن شامل ہیں۔ ان سب نے جیلوں کی اذیتیں برداشت کیں، عدالتوں کے چکر لگائے، اور اپنے گھروں سے دور رہے۔ انکی قربانی نے ثابت کیا کہ اصولوں پر قائم رہنے والے کبھی جھکتے نہیں۔ کئی ان جیسے نوجوان رہنما آج کے دور کے زندہ کردار ہیں، جنہوں نے اپنے وجود سے یہ ثابت کر دیا کہ ٹیپو سلطان کا خون آج بھی زندہ ہے۔اس سارے منظرنامے میں ایک تلخ مگر اہم سوال باقی رہ جاتا ہے: جب یہ سب ظلم اور اذیتیں برداشت کر رہے تھے تو کچھ قلم خاموش کیوں تھے؟

Exit mobile version