محترم سراج الحق، امیر جماعت اسلامی پاکستان نے اسلام آباد میں بچوں کے غزہ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل غاصب اور ناجائز ریاست ہے۔ ہم اس کو نہیں مانتے۔ ہماری جدوجہد کا محور آزاد فلسطین کا قیام ہے، ہم ظلم کے مقابلے میں مل کر لڑیں گے۔ اسلام آباد میں بچوں کا اجتماع پیغام دے رہا ہے کہ وہ غزہ کے ساتھ ہیں۔فیصل مسجد کے سامنے ہزاروں کا اجتماع ظالموں کیلئے موت کا پیغام ہے۔اس وقت اسرائیل کی مجموعی آبادی71 لاکھ سے زائد ہے۔ اس میں یہودیوں کی تعداد 54 لاکھ ہے۔ جب کہ جولان اور القدس سمیت ہر چہار طرف وہ اپنی نوآبادیات قائم کررہا ہے۔ اسرائیل کو امریکہ سے ہر سال ایک ملین ڈالر سے زائد معاشی امداد مل رہی ہے۔ اربوں ڈالر پر مشتمل امریکی یہودیوں سے ملنے والے فنڈاس کے علاوہ ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطابق 2006میں اسرائیل کی خام قومی آمدنی 895 ارب ڈالر تھی۔ اسی ذریعے کے مطابق 2007 اسرائیل کی فی کس آمدنی 76731 ڈالر سالانہ تک بڑھ چکی تھی۔ دوسری طرف فلسطینی ہیں جن کی معیشت بدترین دور سے گذررہی ہے۔ مغربی کنارے کی نصف فلسطینی آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ جب کہ غزہ کی پوری80 فیصد آبادی خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ اسرائیل، فلسطینیوں کی نقل وحرکت روکنے کے لیے مسلسل چیک پوسٹیں قائم کررہا ہے۔ مارچ 2008تک مغربی کنارے میں 546 چیک پوسٹیں بن چکی تھیں۔ فلسطینیوں کو پانی جیسی بنیادی اور اہم چیز کا حصول مشکلات سے گھرا ہوا ہے۔ کیونکہ اسرائیل پانی کے نئے سرچشموں کے80 فیصد پر قابض ہے جو سالانہ تقریباً 650 ملین مربع میٹر ہوتا ہے اور20 فی صد کو ہر مربع میٹر ایک ڈالر کے بدلے فلسطینی عوام کو فروخت کرتا ہے، یعنی مغربی حصہ اور غزہ کے پانی کے اسٹاک پر اس کا قبضہ ہے۔ جناب سراج الحق کا کہنا تھا کہ آج اسرائیل کی وجہ سے پورا غزہ ملبے کا ڈھیر اور بچوں کا قبرستان بن گیا ہے۔ غزہ میں بغیر کفن کے نعشیں پڑی ہوئی ہیں۔ تمام ظالموں اور وحشی درندوں کو اس دنیا میں سزا ملنی چاہیے۔ ترکی اور استنبول کے عوام بھی اسرائیلی ظلم کے خلاف کھڑے ہیں۔ لندن، واشنگٹن اور دنیا کے باضمیر انسان اہل غزہ کے حق میں کھڑے ہیں، افسوس ہے کہ عوام غزہ کے ساتھ ہیں جبکہ حکمران بزدلی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔کیا حکمرانوں کو کفن کے بغیر نعشیں نظر نہیں آ رہیں؟ صدر نے تجویز دی ہے اسرائیل کو تسلیم کیا جائے جبکہ ہمارے نگران وزیراعظم نے کہا ہے کہ وہاں دو ریاستیں قائم ہوں، صدر اور نگران وزیراعظم کو یہ مینڈیٹ کس نے دیا کہ فلسطینیوں کی حمایت کے بغیر دو ریاستی حل کی بات کریں۔ صدر پاکستان، وزیراعظم یا کسی اور کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ پاکستان کی قومی پالیسی کو تسلیم کرے، اگر ساری دنیا بھی اسرائیل کو تسلیم کر لے تو پاکستان کبھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔انسانی حقوق کی بدترین پامالی اور فساد وتخریب کے سائے میں کہنے کو تو اسرائیل وجود میں آگیا اور اس نے اپنے لیے تمام وسائل مجتمع کرلیے۔ عالمی طاقتیں آج اس کی پشت پر کھڑی ہیں۔ تاہم غاصب صہیونی ریاست 60 سال گزرنے کے باوجود خوف وہراس کی نفسیات کی اس حد تک شکار ہے کہ سڑکوں اور گلیوں پر جگہ جگہ کلوز سرکٹ کیمرے اور میٹل ڈی ٹیکلز نصب ہیں۔2006 سے مغربی کنارے پر القدس کے ساتھ ساتھ دیوار برلن کے نمونے پر ایک دیوار بنائی جارہی ہے۔ دیوار برلن 155 کلومیٹر طویل تھی۔ جبکہ مغربی کنارے کی دیوار ایک ہزار کلو میٹر طویل اور8میٹر اونچی ہوگی۔ اس کے ساتھ ایک دفاعی سڑک اور دفاعی ٹاورز تعمیر ہوں گے۔ اس فصیل میں ایسے الیکٹرانک دروازوں کا انتظام کیاگیا ہے جو کسی معدنی چیز کی نشاندہی کردیتے ہیں۔ امریکا میں اس کا بھی اعلان کیاگیاکہ فصیل کے اوپری حصے میں ایسے آلات نصب کیے جائیں گے اور فوجی غبارے چھوڑے جائیں گے جن میں پوری فصیل کو چیک کرنے کے لیے کیمرے لگے ہوں گے۔ اس نگرانی میں وہ206 ہیلی کاپٹر جہاز بھی شامل ہیں جوامریکا،اسرائیل کو دے گا۔ اس کے نتیجے میں مسلمان ایک بڑے جیل میں بند ہوکر رہ جائیں گے۔آج 90 فیصد فلسطین پر اسرائیل کا ناجائز قبضہ ہے۔ وہ علاقے کی ایک بڑی ایٹمی طاقت بن چکا ہے (جیساکہ سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے اسرائیل کے پاس 150 ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی کا انکشاف کیا تھا) صحراءالنقب میں واقع اسرائیل کا ڈیمونہ جوہری ری ایکٹر، فرانس کے تکنیکی تعاون سے1963 میں مکمل ہوا تھا۔ ان میں وہ فرانسیسی، مفرور جرمن اوریہودی سائنس داں شامل تھے جو ایٹم بم بنانے والے امریکی مین ہٹن پروجیکٹ میں کام کرچکے تھے۔ اسرائیل ہزاروں ٹن مہلک جوہری فضلہ غزہ پٹی میں کم گہرائی پر دفن کرتا رہا ہے۔ ڈیمونہ ری ایکٹر چرنوبل پلانٹ کی طرح بوسیدہ ہوچکا ہے۔ ایک دستاویزی فلم کے مطابق اسرائیل کے جوہری ری ایکٹر میں دراڑیں پڑچکی ہیں جو کسی بھی وقت پھٹ کر مصر سے اردن تک تباہی پھیلاسکتا ہے۔امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کو دنیا کے کسی بھی دوسرے گروہ کی طرح خود ارادیت اورخود مختاری کا بنیادی حق حاصل ہے۔ ان کا اپنی زمین ، اپنی زبان ، اپنی ثقافت پر پوراپورا حق ہے ، اور یہ حق ان سے الگ نہیں کیاجاسکتا۔ فلسطینیوں کی امداد کےلئے پاکستان میں موجود فلسیطنی ایمبیسی نے اپنا اکاو¿نٹ نمبر دیا ہے جس پر اہل وطن فلسطینیوں کےلئے رقوم بھیج سکتے ہیں۔ وطن عزیز میں بہت سے فکر مند اور خیال رکھنے والے لوگ غزہ کے ان متاثرین کےلئے عطیات دینا چاہتے ہیں جو اسرائیل کی بے رحمانہ اور بے دریغ بمباری کا شکار ہوئے تھے۔ فلسطینی سفارت خانے نے اپنے ذیل میں دیے گئے اکاو¿نٹ نمبروں پر نقد عطیات وصول کرنا شروع کر دیے ہیں۔
اسرائیل ناجائز ریاست، فلسطین اصل ریاست

