Site icon Daily Pakistan

بھارت میں مودی کی غیر مقبولیت

مودی حکومت کی بڑی اتحادی شیوسینا پارٹی نے بھارتی وزیراعظم کے سب سے بڑے حلیف وزیر داخلہ امیت شاہ کا پاکستان کے خلاف جنگ میں ناقص کارکردگی پر فوری استعفی اور فوری طور پر کل جماعتی کانفرنس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔دہلی اور گجرات کے ارب پتیوں کی جائیدادیں پاکستان کے میزائلوں سے بچانے کیلئے مودی نے امریکا کے پاو¿ں پکڑے۔ شیوسینا کے رہنماو¿ں نے کہا ہے کہ نریندر مودی کو اب وزارت عظمی پر رہنے کا حق حاصل نہیں رہا۔ شیوسینا نے جس کی مسلمان اور پاکستان دشمنی مسلم الثبوت ہے دعوی کیاہے کہ مودی نے پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کے لئے امریکا سے اس وقت درخواست کی جب اسے علم ہوا کہ پاکستان کے میزائل نئی دہلی کے بعد اب گجرات /احمد آباد کو ہدف بنائیں گے جو مودی کا حلقہ انتخاب اور اس کی ریاست ہے۔ بھارت میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے پوری صورتحال پر غور کے لئے پوری حزب اختلاف کی طرف سے پارلیمنٹ کا فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ کردیا ہے اور اس مقصد کےلئے انہوں نے مودی کو خط ارسال کردیا ہے۔ بھارتی دارالحکومت کے حد درجہ قابل اعتماد ذرائع نے بتایا ہے کہ پورے بھارت میں پاکستان کے ساتھ لڑائی میں جنگ بندی کی دھائی دینے اور پورے ملک کو پاکستانی حملوں کے سامنے عریاں کرکے رکھ دینے پر وضاحتیں دینے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے بعض حلقے اس بات پر اعتراض کررہے ہیں کہ ایک طرف کامیابیوں کے دعوے کئے جارہے تھے۔دوسری جانب مودی حکومت نے امریکا سے جاکرمنت سماجت کرکے مداخلت کرائی اور صدر ٹرمپ کی ایک ٹویٹ پر ہی بھارت ڈھیر ہوگیا اور اس نے جنگ بندی قبول کرنے میں تاخیرنہیں کی۔ شیوسینا کے رہنماوں نے کہا ہے کہ نریندر مودی کو اب وزارت عظمی پر رہنے کا حق حاصل نہیں رہا ان کا کہنا ہے کہ مودی نے ہمارے جوانوں کے حوصلہ زمین بوس کردیئے ہیں جو کراچی اور لاہور تک کو اپنا نشانہ بناسکتے تھے ممبئی سے تعلق رکھنے والے اس کے رہنما نے کہا کہ ہریانہ میں پاکستان سے آئے میزائل گرے تو پھر دھمکی ملی کہ اب وہ مودی کی ریاست گجرات اور دہلی کو نشانہ بنائیں گے تو یہاں ارب پتیوں کی جائیدادوں اور مفادات کو تحفظ دینے کی خاطر جنگ بندی کے لئے امریکا کے پاوں پکڑے گئے۔ شیوسینا کے رہنما نے اسے غداری قرار دیا ہے جو ارب پتیوں کے مفادات کی حفاظت کے لئے کی گئی ہے اس کا کہنا ہے کہ سرینگر میں ہورہے دھماکے ر وکنے میں وزیرداخلہ امیت شاہ ناکام رہا ہے اس سے استعفیٰ فوری طور پر لیا جائے۔سربراہ جمعیت علمائے اسلام ( ف ) مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ مودی بھارت میں غیرمقبول ہوچکا ہے، اس کی ہندوتوا کارڈ استعمال کرنے کی کوشش ناکام ہوگئی، مستعفی ہوجانا چاہیے۔ بھارت نے پہلگام کا واقعہ ہونے کے دس منٹ کے اندر اندر ملبہ پاکستان پر ڈال دیا، اور پھر ہمارے دینی مراکز پر راکٹ برسا دیے، جس کے نتیجے میں ہمارے عام شہری، خواتین اور بچے شہید ہوئے، اور پھر ہمارے ایئربیسز پر حملے کردیے، اور پورے خطے میں تناو¿ پیدا کردیا ہے۔ مودی نے یہ اس لیے کیا کیونکہ وہ بھارت میں غیرمقبول ہوچکا ہے، اس نے ہندو کارڈ استعمال کرکے ووٹ تو لیے مگر اس کی مقبولیت میں کمی آئی اور ماضی کی طرح ووٹ نہیں ملے، پھر کشمیر میں ہونے والے الیکشن میں وہاں کے عوام نے بھی مودی کو مسترد کردیا۔ پہلگام واقعے کے بعد مودی نے ہندوتوا کارڈ استعمال کرنے کی کوشش کی مگر بھارت میں اپوزیشن، مسلمان اور سکھوں نے اس کا ساتھ نہیں دیا، اور اس کی یہ کوشش ناکام ہوگئی، دوسری جانب پاکستان میں عوام ملکی دفاع کے لیے فوج کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور یک صف ہوگئے جس کے نتیجے میں ہماری افواج نے بھارت کو جنگ میں بری طرح شکست دی۔ پاک بھارت جنگ بندی میں سعودی عرب نے قابل تحسین کردار ادا کیا ہے، بھارت دراصل چین اور پاکستان کا رابطہ توڑنا چاہتا ہے، وہ تو مظفر آباد سے بھی آگے گلگت بلتستان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے۔سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر دونوں ممالک میں سے کوئی ختم نہیں کرسکتا، بھارت کے لیے ممکن نہیں کہ وہ پانی روکنے کی ضد پر قائم رہ سکے، اس طرح اسے خود بھی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بھارت کو اپنی دفاعی طاقت پر غرور تھا، اسے امریکا اور مغربی دنیا کی حمایت بھی حاصل تھی، پاکستان نے بھارتی ٹیکنالوجی کو ناکام بنایا اور اس کے جہازوں کو گرایا، اس میں اللہ تعالیٰ کی مدد شامل تھی، ہماری فوج نے بڑی جرات سے بھارت کو شکست سے دوچار کیا اور قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔ نریندر نہیں بلکہ سرینڈر، مودی شکست تسلیم کرچکا ہے، اب اس کا زوال طے ہے اور میری رائے میں مودی کو استعفیٰ دیکر الیکشن کروا دینے چاہئیں۔ بھارتی فوج دباو¿ میں ہے، اور صرف جنگ بندی ہوئی ہے، ان حالات میں ہماری فوج کو ہمہ وقت چوکس رہنا چاہیے، اور اگر بھارت جنگ بندی توڑتا ہے تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے۔

Exit mobile version