جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام ہونے والی کانفرنس میں یاسین ملک سمیت دیگر کشمیری اسیران کیساتھ بھارت کی جانب سے ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں اور ناانصافیوں کے خلاف سیز فائر لائن کے دونوں اطراف کشمیر میں 5 ستمبر بروز جمعتہ المبارک کو بھارت کیخلاف مکمل ہڑتال اور پرامن عوامی مظاہروں کااعلان کردیا گیا ہے۔کانفرنس میں تہاڑ جیل میں قید یاسین ملک کو پھانسی کی سزا سے بچانے کے لئے مختلف تجاوزیر پر غور کیا گیا۔اسلام آباد میں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام ” سیو یاسین ملک ‘ کے عنوان سے ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں دو اطراف کی کشمیری قیادت، سول سوسائٹی، انسانی حقوق سے وابستہ اشخاص اور پاکستان کے نامور دانشور وں، صحافیوںو طلبائ تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت جے کے ایل ایف کے وائس چیرمین سلیم ہارون نے کی جبکہ اس کے مہمان خصوصی آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر چوہدری لطیف اکبر تھے۔چیئر پرسن پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن اورحریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ یاسین ملک نے ہمیشہ امن کا پیغام دیا ہے ،انہیں صحت کے مسائل کا سامنا ہے،انتخابی مہم کی آڑ میں کشمیریوں پر ظلم ڈھائے جا تے ہیں،نریندر مودی اپنی سیاست کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ یاسین ملک کی رہائی کیلئے مہم پر کشمیری برادری کی مشکور ہوں،یاسین ملک کو صحت کے مسائل کا سامنا ہے،یاسین ملک نے ہمیشہ امن کا پیغام دیا ہے۔ انتخابی مہم کی آڑ میں کشمیریوں پر ظلم ڈھائے جاتے ہیں،عالمی برادری کب تک کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و ستم پرخاموش رہے گی؟ نریندر مودی اپنی سیاست کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے،کشمیری حق خود ارادیت کیلئے پر امن جدوجہد کر رہے ہیں،یاسین ملک پر ہونے والے ظلم پرعالمی سطح پر بھرپور طریقہ سے آواز اٹھانا ہو گی۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یاسین ملک کی بیٹی رضیہ سلطانہ نے کہا کہ بھارت نے میرے والد یاسین ملک کو کئی سال سے غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا ہے،والد کے پابند سلاسل ہونے سے پورا خاندان شدید قرب سے گزر رہا ہے۔ بھارتی حکومت ان کے والد کو صرف کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کرنے کی سزا دے رہی ہے اور کچھ دنوں میں انہیں پھانسی دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔انہوں نے امریکا، چین، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر عالمی برادری نے خاموشی اختیار کی تو بھارت ان کے والد کو سزائے موت دے دے گا۔یاسین ملک اس وقت بھارت کی جیل میں قید ہیں جہاں وہ 34 سال پرانے ایک مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔انہیں 2019 میں سری نگر سے گرفتار کیا گیا تھا اور دورانِ قید ان پر کئی بار تشدد بھی کیا گیا جس کے باعث ان کی صحت بگڑ گئی اور انہیں ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔کل جماعتی حریت کانفرنس کی سینئر رہنما فریدہ بہن جی نے کشمیر اور بھارت کی جیلوں میں نظر بند کشمیری رہنماؤں اور کارکنوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نظر بند کشمیری قیادت کی زندگیاں خطرے میں ہیں جو علاج معالجے سمیت دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ یاسین ملک تہاڑ جیل میں علیل ہیں ۔ عدالتی احکام کے باوجود انہیں مناسب علاج معالجہ اور دیگر سہولیات نہیں مل رہیں۔ غیر مناسب رویہ اختیار کرنے سے ان کی حالت تشویشناک حد تک بگڑ چکی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ بھارتی سرکار کشمیری قیادت کو عدالتی فیصلوں کی آڑ میں قتل کرنا چاہتی ہے۔ متحدہ جہاد کو نسل کے چیرمین سید صلاح الدین نے کہا ہے کہ سیاسی اور عسکری مزاحمت کے سامنے ناکام ہونے کے بعد بھارتی حکو مت نے کشمیری قائدین کو جان سے مارنے کی مکروہ منصوبہ بندی کی ہے۔ آر ایس ایس کی موجودہ سرکار نے ایک طرف نہتے کشمیریوں کو بلٹ اور پیلٹ کے ستعمال سے قتل اور نا بینا کرنے کا سلسلہ تیز کیا ہے وہیںدوسری طرف مسلمہ قیادت کی کردار کشی کرنے کے ساتھ ساتھ انکو صفحہ ہستی سے مٹا نے کی بھی سازش رچائی ہے۔اس کا زندہ ثبوت یہ ہے کہ ممتاز تحریکی قائد شبیر احمد شاہ کو پابہ زنجیر کرکے گندی اور تنگ و تاریک ٹارچر سیل میں مسلسل تعذیب کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور زندگی کی بنیادی سہولیتوں سے ان کو مکمل طور پر محروم رکھا جارہا ہے۔اس طرح ان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ اسی طرح علیل خاتون رہنما آسیہ اندرابی ،الطاف احمد شاہ ،نعیم احمد خان ،شاہد الاسلام ،پیر سیف اللہ ،ایاز اکبر اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ بھی ناروا سلوک کیا جارہا ہے،جو انتہائی قابل مذمت ہے۔ اسی طرح کشمیری خاتون لیڈر آسیہ اندرابی 15 برس سے زائد عرصے سے جعلی الزامات پر غیر قانونی اور غیر انسانی طور پر قید میںرہیں اور جن آمرانہ قوانین کے تحت قید ہیں ان کا مقصد کشمیریوں پر ظلم و بربریت کے ذریعے بھارت کے قبضے کو مستقل کرنا ہے۔ اب بھارتی حکام من گھڑت الزامات پر آسیہ اندرابی پر مقدمہ چلا رہے ہیں اور طریقہ کار سے ہٹ کر جان بوجھ کر اس مقدمے کی کارروائی کو تیز کیا گیا جو بدنیتی پر مبنی ارادوں کے ساتھ عدالتی قتل کی جانب واضح اشارہ ہے۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق اور انسانی حقوق کی دیگر تمام بین الاقوامی تنظیموں پر لازم ہے کہ وہ بھارت کی جہنم جیسی جیلوں کا فوری دورہ کریں اور کشمیریوں کی نسل کشی ،جبری گرفتاریوں ، شہری آزادی پر پابندیوں، خواتین کی بے حرمتی ، ماورائے عدالت قتل ،املاک کی توڑ پھوڑ اور جموں و کشمیر کے متنازعہ علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لیے کالے قوانین کے نفاذ کور وکیں۔
حریت رہنما یاسین ملک کو پھانسی کی سزا

