Site icon Daily Pakistan

عوامی اسمبلی اور داخلہ بند

حکومت کسی کی بھی یا کوئی بھی حکومت میں ہو مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ عوام کو مشکلات سے نکال کر ملک کو خوشحالی کی طرف لیکر جانا ہے اور اگرخوش قسمتی سے حکومت عوامی نمائندوں کی ہو تو پھرکیا ہی کہنے ایم پی اے اور ایم این اے حضرات خود لوگوں کے پاس جاکر انکے مسائل معلوم کرتے ہیں بلکہ عوامی نمائندوں کو تو عوام کے مسائل عوام سے زیادہ معلوم ہوتے ہیں جن ممالک میں حقیقی جمہوریت یا عوام نمائندے اقتدار میں ہوں وہ ملک آج ترقی اور خوشحالی میں اتنے آگے ہیں کہ ہم جیسے ممالک کے لوگ اپنا سب کچھ بیچ کر وہاں جانے کو بے قرار ہیں جبکہ ہمارے ہاں ہمارے عوامی نمائندے عوام سے اتنے خوفزدہ ہیں کہ انہوں نے عوام سے دوری اختیار کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنا شروع کردیا ہے جینت والے اپنے حلقوں میں نہیں جاتے اور لاہور میں آکر ان سے ملنا ناممکن ہے اور تو اور عوام کے ووٹوں سے آنے کے دعویدار جب پنجاب اسمبلی میں اجلاس پر آتے ہیں تو عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کردیتے ہیں ایوان اقبال چوک سے لکشمی چوک کی طرف جانے والی سڑک جس جو عرصہ دراز سے کھڈوں سے بھر پور ہے جہاں سے ایم پی اے اور وزیروں سمیت تمام انتظامیہ گذرتی ہے اور کسی کی کوئی توجہ نہیں ہے لیکن اجلاس شروع ہوتے ہی اسے عام عوام کے لیے بند کردیا جاتا ہے کہ وہاں سے عوامی نمائندوں نے گذرنا ہے اگر یہ سڑک کھلی بھی رہے تو کیا فرق پڑتا ہے اور اوپر سے اس حکومت نے ایک کام یہ بھی کیا ہوا ہے کہ عوام نمائندوں اخباری نمائندوں کی پہنچ سے دور رکھنے کے لیے انکا اسمبلی کے اندر داخلہ بڑی سختی سے بند کررکھا ہے اور اسمبلی پریس گیلری کے عہدیداران کبھی کبھی سپیکر کے ساتھ بیٹھ کر تصویر بنوا کر خوش ہوجاتے ہیں اس نئی اسمبلی سے پہلے پرانی اسمبلی میں صحافی بلا روک ٹوک اپوزیشن لیڈر کے چیمبر سمیت ہر جگہ آجا سکتے تھے جہاں سے خبریں بھی ملتی رہتی تھی لیکن اب سوائے پریس گیلری کے اور کسی جگہ جانے پر پابندی ہے اسمبلی اجلاس کے دوران جو کچھ گیلری سے دیکھا بس وہی رپورٹ کردی اس کے بعد یا پہلے کیا ہوتا رہا کسی کو کچھ معلوم نہیں شائد یہی وجہ ہے کہ اس وقت کانٹے دار سیاست کا ماحول اپنے عروج پر ہے اسمبلیوں کے اندر تلخی بڑھتی جارہی ہے اور باہر عوام کا جینا مشکل ہو رہا ہے 1947سے چلنے والے لوگ ابھی تک اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکے جبکہ فارم47والے اپنی اپنی منزلوں تک پہنچ چکے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے عوام کی راہوں میں پھول بچھانے کا جھانسہ دیکر کانٹے بچھا دیے مفت بجلی دینے کا لالی پاپ دیکر بجلی مزید مہنگی کردی خیر یہ تو اب پرانی باتیں ہیں اب اس عوامی حکومت کو چاہیے کہ عوام کی آسانی کے لیے کام کریں۔
سڑک بند کرنے کے بجائے اسے کھلی رکھیں صحافیوں کا نئی اسمبلی کے اندر داخلہ کھولیں کیونکہ یہ عوامی ایوان نمائندگان ہے جو پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 106 کے تحت قائم کیا گیا تھا جس میں کل 371 نشستیں ہیں جن میں 297 جنرل نشستیں 66 نشستیں خواتین کے لیے اور 8 غیر مسلموں کے لیے مخصوص ہیں یہ اسمبلی 16 ایکڑ پر محیط ہیں جو 1935 میں مکمل ہوئی تھی پنجاب کی تقسیم اور پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد یہ عمارت پنجاب کا انتظامی مرکز بن گئی جبکہ نیا اسمبلی ہال پرانی اور نئی اسمبلی کی عمارتوں کے درمیان تعمیر کیا گیا ہے اس میں مرکزی ہال میں 500 نشستیں اور مہمانوں کے لیے گیلریوں میں 600 نشستیں اور ایوان کی کارروائی کی کوریج کرنے والے میڈیا پرسنز کے لیے پریس گیلری میں 300 نشستیں ہیں نئے ہال سے متصل اسپیکر چیمبر، ریکارڈ روم، ریکارڈنگ روم، میڈیا روم، سیکیورٹی روم اور آئیز اور نوز کے لیے لابی ہے نئی عمارت میں تین کمیٹی روم، ایک کانفرنس روم، لائبریری، کیفے اور 400 کی گنجائش والی پارکنگ بھی شامل ہے اس کے علاوہ وزیراعلیٰ، سپیکر، ڈپٹی سپیکر، وزراءاور اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے نئے دفاتر سیکرٹریٹ کی نئی عمارت میں قائم کئے گئے جس کا افتتاح 2 جنوری 2023 کو ہوا تھااگر ہم پرانی اسمبلی کی بات کریں اس کا اسمبلی کو آرکیٹیکچر سرکل کے چیف آرکیٹیکٹ بازل ایم سالون نے ڈیزائن کیا تھا اسمبلی چیمبر کا سنگ بنیاد 17 نومبر 1935 کو وزیر زراعت سر جوگندر سنگھ نے برطانوی راج کے دوران رکھا تھا اس کی تعمیر 1938 میں مکمل ہوئی۔پہلی منزل میں اسمبلی ہال ہے جو ہندوستانی اور رومن فن تعمیر کو یکجا کرتا ہے اس کاہال ایک پبلک ایڈریس سسٹم اور کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن سسٹم سے لیس ہے اسمبلی کی کارروائی دیکھنے کے لیے گیلری میں 200 افراد کے بیٹھنے کی جگہ تھی بعد میں اس گیلری کو اراکین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ممبران کے لیے مختص کردیا گیا تھااسمبلی کا ممبر بننے کے لیے آئین کے آرٹیکل 62 میں بیان کردہ قومی اسمبلی کی رکنیت کی اہلیت صوبائی اسمبلی کی رکنیت کے لیے بھی لاگو ہوتی ہے۔
چنانچہ ایک رکن صوبائی اسمبلی بننے کے لیے ضروری ہے کہ وہ پاکستان کا شہری ہو اس کی عمر کم از کم پچیس سال ہونی چاہیے اور کسی بھی انتخابی فہرست میں بطور ووٹر اندراج ہونا ضروری ہے اسکے ساتھ ساتھ ایک امیدوار کو اچھے کردار کا ہونا چاہیے اور عام طور پر اسلامی احکام کی خلاف ورزی کرنے والے کے طور پر جانا نہیں جانا چاہیے اسلامی تعلیمات کا علم ہونا چاہیے اور اسلام کی طرف سے متعین فرض فرائض پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرنے والا ہونا چاہیے جبکہ سمجھدار، نیک، غیرت مند، اور ایماندار ہونا بھی ضروری ہے اورامیدوار کو اخلاقی پستی یا جھوٹی گواہی دینے کے جرم میں کبھی بھی سزا نہ ہوئی ہو قیام پاکستان کے بعد کبھی بھی ملک کی سالمیت کے خلاف یا نظریہ پاکستان کی مخالفت بھی نہ کی ہویہ ہیں وہ سادہ سی شرائط جن پر کاربند رہتے ہوئے ایک عام انسان بھی ممبر اسمبلی بن سکتا ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں الیکن ایمانداری اور شفاف انداز میں ہو پیسے ،دھونس اور دھاندلی سے جیتنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے ایسے امیدواروں کو منتخب کیا جائے جو عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے کام کریں نہ کہ وہ اسمبلی ممبر بننے کے بعد عام لوگوں کا جینا مشکل کردیں انتقام کی سیاست کرنے والوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ وقتی طور پر آپ پولیس کی زریعے کسی کی ماں بہن ،بیٹی اور بچوں کو رسوا کروگے تو کل کو آپ کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو سکتا ہے اس لیے کسی کو انتقام کا نشانہ بنانے سے پہلے ایک بار ضرور سوچ لیں کہ ملک میں بادشاہت ہے اور نہ ہی اقتدار سدا رہنے والا ہے رہی بات پولیس کی وہ تو کسی کام کی نہیں رہی سوائے حکمرانوں کے دروازے کھولنے اور بند کرنے کے یا پھر غریب لوگوں پر تشدد کرنے کے اور کوئی کام نہیں رہا ۔

Exit mobile version