مبصرین کے مطابق برطانیہ کی عدالتِ عالیہ کا عدیل راجہ کے خلاف فیصلہ نہ صرف ایک قانونی کاروائی کا نتیجہ ہے بلکہ پاکستان کے لیے بھی ایک وسیع تر پیغام رکھتا ہے۔ ایسے وقت میں جب سوشل میڈیا کا استعمال پاکستان کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت، گمراہ کن بیانیوں اور بے بنیاد الزامات کے لیے تیزی سے بڑھ رہا ہے، یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ جھوٹے دعوے اور کردار کشی چاہے بیرونِ ملک سے ہی کیوں نہ کی جائے، اسے قانون کی نظر میں تحفظ حاصل نہیں۔سنجید ہ حلقوں کے مطابق اس فیصلے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ عدیل راجہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستانی سیاست، سیاسی قائدین، افسران اور مخصوص ریاستی معاملات کے بارے میں مسلسل متنازع بیانیے پیش کرتے رہے ہیں، جنہیں بعض حلقے ”ڈیجیٹل پراپیگنڈا” کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ اسی تناظر میں برطانوی ہائی کورٹ کی یہ سخت کارروائی ایک ایسے نظام میں مثال بن کر سامنے آئی ہے جہاں آزادیِ اظہار کے نام پر کسی کی ساکھ بازیچہ اطفال نہیں بننے دی جاتی۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق راجہ نے جون 2022 میں راشد نصیر کے خلاف ایسے سنگین الزامات عائد کیے جو پاکستان کے سیاسی ماحول سے براہِ راست جڑے ہوئے تھے، خصوصاً 2022 کے پنجاب انتخابات، مبینہ ملاقاتوں، دھاندلی اور اختیارات کے غلط استعمال کے دعوے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق اس طرح کے بیانات، جب بیرونِ ملک بیٹھ کر دیے جائیں، پاکستان کے سیاسی بیانیے میں مزید انتشار پیدا کرتے ہیں اور بیرونی میڈیا کو پاکستان کے خلاف پھیلائے گئے تاثر کو تقویت دیتے ہیں۔برطانوی عدالت نے ان تمام دعوؤں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے عدیل راجہ کو 50,000 پاونڈبطور ہرجا نہ اور260,000 پاونڈ بطور ” انٹرِم اخراجات 22 دسمبر 2025 تک ادا کرنے کا حکم دیا ہے، جب کہ مکمل قانونی اخراجات بھی انہیں ادا کرنا ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اتنی بھاری مالی ذمہ داری اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے کہ ڈیجیٹل کردار کشی کے اثرات محض سیاسی نہیں بلکہ قانونی اور مالی بھی ہو سکتے ہیں۔فیصلے کے ساتھ ایک سخت اور مکمل انجنکشن بھی جاری کیا گیا ہے جسکے تحت راجہ اب راشد نصیر کیخلاف کسی بھی الزام کو نہ دہرا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی اشارے، تاثر یا مبہم طریقے سے پیش کر سکتے ہیں۔ پاکستانی نقط نظر سے یہ پابندی اہم ہے، کیونکہ یہ بیرونِ ملک موجود اُن عناصر کے لیے ایک براہِ راست انتباہ ہے جو پاکستان کے سیاسی ماحول میں بے بنیاد یا جانبدارانہ بیانیوں کے ذریعے اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔عدالت نے مزید حکم دیا کہ عدیل راجہ اپنی تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 28 دن تک معافی اور فیصلے کا خلاصہ پن کیے رکھیں گے، تاکہ لوگوں تک واضح طور پر یہ معلومات پہنچ سکیں کہ انکے دعوے جھوٹے تھے۔ یہ فیصلہ خاص طور پر اس پس منظر میں اہم ہے کہ پاکستانی ناظرین اور سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد بیرونِ ملک بیٹھے افراد کی ویڈیوز کو سچ تصور کر لیتی ہے، جس سے قومی ساکھ گمراہ ہوتی ہے۔تازہ ترین پیش رفت کے مطابق راجہ نے اب باقاعدہ معافی شائع کر دی ہے اور عدالت کی منظوری کے مطابق اس میں انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ انکے تمام الزامات غلط تھے۔ تجزیہ کار اسے آن لائن پراپیگنڈا مہمات کیلئے ایک بڑاسبق قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر ذمہ دارانہ بیانات نہ صرف کسی کی شہرت بلکہ خود بیانیہ سازوں کے لیے بھی سنگین قانونی نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔عالمی میڈیا کے مطابق یہ معافی اس بات کا ثبوت ہے کہ برطانوی نظامِ قانون سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلانے کو ایک جرم سمجھتا ہے۔ پاکستان میں موجود اداروں اور شخصیات کیخلاف پھیلائے جانے والے جھوٹے بیرونی بیانیوں کو جب عدالتی سطح پر رد کیا جاتا ہے تو یہ پاکستان کے اس مؤقف کی بھی توثیق ہے کہ سوشل میڈیا کے کچھ حلقے مخصوص سیاسی مقاصد کے تحت کردار کشی کو ذریعہ بنا رہے ہیں۔یہ معاملہ پاکستان کیلئے اس لیے بھی اہم ہے کہ ایسے الزامات جنہیں پاکستان کے اندر سیاسی انتشار بڑھانے، اداروں کی ساکھ کو متاثر کرنے یا مخصوص بیانیہ تشکیل دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، بالآخر قانونی فورمز پر جھوٹ ثابت ہو جاتے ہیں۔ اس سے نہ صرف متاثرہ فریق کو انصاف ملتا ہے بلکہ پاکستان مخالف پروپیگنڈا بیانیوں کی بنیادیں بھی کمزور ہوتی ہیں۔پاکستانی نقہ نظر سے اس کیس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ فیصلہ ”ڈیجیٹل اکاؤنٹیبلٹی” کی ایک روشن مثال بن گیا ہے۔ مستقبل میں پاکستان سے متعلق غلط معلومات اور جانبدارانہ پراپیگنڈا پھیلانے والوں کیخلاف اسی طرز کی کارروائیوں کا راستہ کھل سکتا ہے۔ یہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ عدالت نے واضح کر دیا کہ اگر عدیل راجہ نے انجنکشن کی خلاف ورزی کی تو انہیںقید یا بھاری فائن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو کسی بھی ڈیجیٹل کانٹنٹ کریئیٹر کیلئے ایک سخت پیغام ہے۔آخر میں، عدیل راجہ کا فیصلہ اور اس کے بعد شائع کی گئی معافی پاکستان کے تناظر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ نہ صرف سوشل میڈیا کے ذریعہ پھیلائے جانے والے جھوٹے سیاسی بیانیوں کے خلاف ایک مضبوط قانونی مثال ہے بلکہ یہ پاکستان مخالف مبنیاتی پروپیگنڈا نیٹ ورکس، بلا تحقیق دعوے کرنے والے تبصرہ نگاروں اور اعتماد کی بنیاد پر چلنے والی پاکستانی ناظرین کی نفسیات کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے کہ قانون جھوٹے بیانیے کو معاف نہیں کرتا۔
ڈیجیٹل پروپیگنڈا بے نقاب

