Site icon Daily Pakistan

یہ فکسڈ میچ ہے، میں جا رہا ہوں!

میرا تھن ریس تو سنی تھی، میرا تھن انصاف کبھی سنا نہ دیکھا تھا، لیکن اڈیالہ جیل کی بلند و بالا فصیلوں کے پیچھے چھوٹے چھوٹے بند کمروں میںمیرا تھن انصاف آج اپنی پوری رفتار سے چلتا ہوا نظر آیا۔ میں نے انصاف کو چلتا ہوا جان بوجھ کر لکھا ہے کیونکہ اسکی رفتار ہی کچھ اتنی غیر معمولی تھی کہ اندھے کو بھی نظر آ رہا تھا کہ یہ انصاف نہیں بلکہ یہاں انصاف کا قتل ہونے جا رہا ہے، عدالت نہیں یہ شاید کسی ظالم و جابر شہنشاہ کا کوئی دربار ہے جو ملزموں کی کھڑے کھڑے کھالیں کھینچوا دیتا، جو ملزمان کو بھوکے شیروں کے آگے ڈلوا کر جشن مناتا۔ آج خان کی توشہ خانہ اور سائبر کیسسز میں اڈیالہ جیل میں پھر سے عدالتیں لگیں۔ ہفتہ کو بھی انصاف کا ترازو اڈیالہ جیل کے اندر جھولتا رہا اور اسی کے سائے میں دو درجن گواہ قلمبند کئے گئے، ملزمان مسلسل احتجاج کرتے رہے لیکن انکو انکی مرضی کا وکیل کرنے دیا گیا نہ کسی نے انکی کوئی فریاد سنی۔ لگتا ہے پاکستان میں صرف یہ خان کے کیسسز ہی رہ گئے ہیں جن کے پیچھے سارا محکمہ انصاف ہی ہاتھ دھو کر پڑ چکا ہے۔ عدل جہانگیری ،اُس صبح نو بجے شروع ہوا، اور رات گئے تک جاری رہا۔سارا کچھ ایک مخصوص انداز میں باقاعدہ سکرپٹڈ انداز میں چلتا رہا، دو منصف باریاں لے لے کر انصآف کرنے پر لگے رہے، لیکن سب کچھ یہاں ہوتا رہا لیکن ملزمان کی کسی نے نہ سنی۔ گزشتہ دنوں منصف ناراض ہو گئے تھے کہ وہ بیٹھا رہتا ہے اور وکیل صفائی وقت پر نہیں آتے اور پھر انہوں نے اسکا طریقہ یہ نکالا کہ سرکار کی طرف سے ملزمان کے خود سے فری وکلا مقرر کر دئیے جنہیں کوئی جانتا تک نہیں، بلکہ کچھ لوگ یہ دعویٰ بھی کرتے ہوئے ملے کہ یہ وکیل صاحبان پہلے سرکاری وکیلوں کےساتھ کاروائی میں شامل ہوتے رہے اور انکا تعلق ن لیگ سے ہے جنہیںمحترم جج صاحب نے عمران خان کے وکیل صفائی سرکاری طور پر مقرر کر دئیے اور ملزمان کے چوٹی کے سپریم کورٹ کے تجربہ کار وکیلوں کی بجائے انہی نام نہاد وکلا ہی کے سہارے سارا دن یہ مقدمے یعنی توشہ خانہ اور سائبر کیس اب کھینچ تان کر کسی بنے لگائے جا چکے ہیں۔ ستم یہ کہ ملزمان کی مرضی کے وکلا باہر یہ سب کچھ دیکھتے رہے، درجنوں وکلا باہر اس انتظار میں صبح سے رات گئے تک کھڑے رہے کہ شاید اس اوپن ٹرائل میں انہیں بھی شرکت کا موقع ملے گا،لیکن اس نام نہاد اوپن ٹرائل کی ایک جھلک بھی کسی نے انہیں دیکھنے کو دی، بس ٹوٹل پورا کرنے کیلئے گنے دو چار لوگ ہی اندر جانے دئیے گئے۔ اور کسی وکیل کو شامل کاروائی نہ ہونے دیا گیا اور فری فنڈڈ وکلا جن پر ملزمان نے عدم اعتماد پہلے روز ہی کر دیا تھا ان سے عجیب و غریب طریقے سے مقدمات کو چلوایا جاتا رہا۔ یہ دو کیسوں کا مسلسل ٹرائل آج سارا دن اور آدھی رات تک چل رہا ہے۔ نہ جانے انصاف کو کچھ زیادہ جلدی ہے یا انصاف کرنے کرانے والوں کو۔ رات تقریبا آٹھ بجے عمران خان کے وکیل سلمان صفدر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ میڈیا کے روبرو آئے اور سارے دن کی بے بسی کا قصہ سنایا۔ عمران خان کی بہنوں نے سارا ماجرا سنایا کہ کس طرح نامناسب اور درشت رویہ جج صاحبان کا سارا دن ملزمان اور ان کے ساتھ رہا، بار بار انکی ہتک کی جاتی اور ذہنی ٹینشن سے دو چار کیا جاتا رہا۔ حد تو یہ ہے کہ سب کچھ کیمروں کی موجودگی میں پتہ نہیں کہاں کہاں تک دیکھا جاتا اور نہ جانے کس کس کو خوش کیا جاتا ہے۔ایڈووکیٹ سلمان صفدر نے اتنا بھی دکھ بھرے لہجے میں میڈیا کو بتایا کہ اس نامناسب ماحول میں جبکہ عدالتیں سب کچھ آج کل ہی کے اندر اندر کچھ بڑا کرنا چاہتی ہیں، عمران خان نے بطور احتجاج با آواز بلند سب کو سنایا کہ وہ سخت تکلیف میں ہیں اور وہ جا رہے ہیں کیونکہ یہ ایک فکسڈ میچ ہے اور انہوں نے زندگی میں کبھی کوئی فکسڈ میچ نہیں کھیلا۔ اور یوں عمران خان شام چھ بجے ہی عدالتی کاروائی سے اٹھ کر اپنے سیل میں چلے گئے۔ کچھ وکلا بشمول بیرسٹر گوہر اور اے ایس سی نیاز اللہ نیازی رات تقریبا گیارہ بجے جیل سے باہر آئے اور انہوں نے بھی عدالت کے یکطرفہ نامناسب روئیے کا ہی رونا رویا۔ کہتے ہیں کہ صرف انصاف نہیں کرنا ہے بلکہ انصاف ہوتا ہوا بھی نظر آئے لیکن یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے یہاں انصاف تو دور کی بات، انصاف کے ترازو کی جھول ہی سے صاف دکھ رہا ہے کہ یہاں انصاف نہیں صرف ٹوٹل پورا ہی کیا جا رہا ہے۔ اس مرحلہ پر میں بہت سارے نوجوان وکلا بشمول اسجد عباسی اور امتیاز عباسی کی ہمت اور جرات کی داد دیتا ہوں جو رات گئے تک اڈیالہ جیل کے باہر سڑک کنارے جہاں بیٹھنے تک کی جگہ بھی نہیں ہے، وہ بارہ چودہ گھنٹے ظلم و جبر کے اس نظام کے خلاف اپنے قائد سے اظہار یک جہتی کیلئے موجود رہے۔ چلیں دیکھتے ہیں اس میراتھن انصاف کا انجام کیا ہے۔

Exit mobile version