Site icon Daily Pakistan

”اعلان نیویارک” فلسطین کی جزوی فتح مکمل فتح کی اُمید

پاکستان کی طرف سے قطر پر اسرائیلی حملے پر بلائی گئی، سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس نے متفقہ طور پر مزاحمتی قرارداد منظور کر لی۔مزاحمتی بیان فرانس اور برطانیہ نے تیار کیا ۔ قرارداد میںقطر کی خودمختیاری اورعلاقائی سالمیت کی حمایت یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی اورانسانی تکالیف کا خاتمہ کو اولین ترجیح رکھنے پر زور دیا گیا۔ گو کہ قرارداد میں اسرائیل کا نام نہیں لیا گیا۔ امریکہ ہمیشہ اسرائیل کے حق میں ووٹ دیتا رہا ہے۔مگر پہلی دفعہ امریکہ نے اس قرارداد کی مخالفت نہیں کی۔ بلکہ ٹرمپ نے ناراضگی کا اظہار بھی کیا۔قطر کے وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمان الثانی نے کہا کہ ہم اپنے ملک کی خود مختیاری پرکوئی حملہ برداشت نہیں کریں گے۔ ہم اپنے اُوپر حملے کا جواب دینے کا حق رکھتے ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری نے کہاحملے خطرناک باب کا آغاز کر سکتے ہیں۔ قرارداد میں کہا گیا کہ قطر امریکا مصر کے ساتھ مل کر ثالثی کا کردار اداکر رہا ہے۔ قطر نے اپنے ثالثی کے کرادر کو جاری رکھنے کا اظہار کیا۔روس اور خلیج تعاون کونسل نے بھی قطر پر اسرائیل قابض فوج کے حملے کی شدید مذمت کی۔روس اوراور خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ کے مذاکرات کا آٹھواں دورریاض میں ہوا۔ اس میں بھی اسرائیل کے قطر پر حملے کی مذمت کی شدید گئی۔یہ بھی کہا کہ اسرائیل کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ عملی اقدام کرے۔ اقوام متحدہ کی قراراداد میں سلامتی کونسل کے مینڈیٹ کے تحت ایک عارضی بین الاقوامی استحکام مشن کی تعیناتی کی بھی حمایت کی گئی۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ” اعلان نیویارک” کے نام سے دو ریاستی قرادا منظور کی۔ اس حق میں ١٤٢ ممالک نے ووٹ دیا۔ ١٠ نے مخالفت کی۔١٢ ممالک نے غیرحاضری اختیار کی۔ قرارداد کو تمام خلیجی ریاستوں نے حمایت کی۔ دو ریاستی قرارداد کو حماس کے خلاف جنگ کرنے والے اسرائیل امریکی نے مخالفت کی۔ وہ حماس کو ختم کرنے غزہ سے ساری آبادی کو بے دخل کرنے اور وہاں یہودیوں کو آباد کرنے اور ٹرمپ نے ان کھنڈروں پر ریویرا بنانے کی اسکیم بنا رکھی ہے۔ امریکی سفارت کارمورگن اورٹیکس نے اس قرارداد کو حماس کے لیے تحفہ قرار دیا۔ ٧صفحات پر مشتمل اعلامیہ اسرائیل فلسطین کے درمیان تنازہ میں نئی جان ڈالنا ہے ۔خاص کر ابھی ٢٢ ستمبر کواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقعہ پر کئی ممالک فلسطین کی آزاد ریاست کو تسلیم کرنے جا رہے ہیں ۔ صاحبو! نیتن یاہو نے کہا کہ فلسطین سے سارے فلسطینیوں کو نکال کر ،گریٹر اسرائیل بنانا، اس کے خوابوں کی تعبیر اور قومی فریضہ ہے۔ اس کے ساتھ متعصب صہیونی سموترش اور بن گویرجیسے اتحادی شامل ہیں۔پہلے اسرائیل نے فلسطینیوں کو گھروں سے نکالا۔ ان کی زمینوں پر قبضہ کیا۔ ان کی مساجد کو شراب خانوں ور ڈانس کلبوں میں تبدیل کیا۔ مسلمانوں کے قبل اوّل مسجد اقصیٰ کو آگ لگائی۔ مسجد اقصیٰ کے نیچے سرنگ بنائی، تاکہ کسی بھی وقت اس میں بارود بھر کے مسلمانوں کے قبلہ اوّل مسجداقصیٰ کو مسمار کر ہیکل سلیمانی بنانا شروع کیا جائے ۔ جب کہ برطانیہ کے دور میں جب یہودی فلسطین میں آئے، تو انہوں نے اس مسجد اقصیٰ کو ہیکل سلیمانی ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اس پر مسلمانوں اور یہودیوں میں جھگڑے شروع ہوئے۔ اس وقت فلسطین برطانیہ کے قبضے میں تھی۔ برطانیہ نے اس جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی عدالت بٹھائی۔ اس عدالت میں مسلمانوں اور یہودیوں نے اپنے اپنے ثبوت عدالت میں پیش کیے۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ ثبوت کی بنیاد پر یہ مسجد اقصیٰ مسلمانوں کی مسجد اقصیٰ ہے۔ یہودیوں کا ہیکل سلیمانی ہر گز نہیں۔ برطانیہ کی طرف سے قائم کردی اس بین الاقوامی عدالت کا فیصلہ اور ریکارڈ اب بھی برطانیہ میں دیکھا جاسکتا ہے۔صہیونی یہودی ایک دہشت گرد گروہ ہے۔ اس نے ایک ناجائز دہشت گرد ریاست قائم کی ہوئی ہے ۔ اسرائیل کا ہرشہری دہشت گردی کی ٹرینیگ لیتا ہے۔ اس کے آباد کار اور فوج فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑتے رہتے ہیں۔اس وقت فلسطینیوں کو ویسٹ بنک اور غزہ میںبانٹا ہوا ہے۔نیتن کابینہ نے ایک قانون پاس کیا ہے۔ وہ ویسٹ بنک جسے فلسطین اٹھارٹی کہتے کو اسرائیل میں ضم کرنیوالا ہے۔ اسی طرح غزہ سے بھی فلسطینیوں کو نکالنا چاہتا ہے۔ان مظالم کو فلطینی یوم نکبہ یعنی عظیم تباہی کے طور پر مناتے ہیں۔فلسطین فلسطینیوں کا ہے ۔ وہ اپنے وطن سے قابض اسرائیل کو نکالنے کی ١٩٤٨ء سے کوشش کررہے ہیں ۔ اس دوران مظالم کی ایک لمبی داستان ہے۔ اب بھی اسرائیل کی ظالم سفاک، وحشی کی جیلوں میں ہزاروں فلسطینی قید ہیں۔ کوئی عمر قید تو کوئی لمبی قید کاٹ رہا ہے ۔یاسر عرفات ایک روشن خیال فلسطینی لیڈر تھا ۔ ان نے تھک ہار کر اوسلو معاہدے کے تحت فلسطینی اتھارٹی منظور کی۔ جسے ایک میونسپل کمیٹی جتنے اختیار ہیں۔ مگر فلسطین تحریک مزاحمت (حماس) کو شیخ احمد یاسین اور دیگر لیڈروں نے قرآن و سنت کی روشنی میںجہادی تربیت دے کر تیارکیا ہے۔ ان کا مشہور نعرہ” خیبر خیبر یا یہود۔جیش محمد سوف یہود”ہے۔ ١٩٦٧ء پورے عرب ملک جو قومیت کی بنیاد پر اسرائیل سے لڑے تھے۔ مگر ہار گئے اور اسرائیل نے اس ملکوں کے کئی حصوں پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ مگر حماس کی غزہ میں جہادی تحریک نے اسرائیل کے ناک میں دم کیا ہوا ہے۔ پہلے بھی جنگ کر چکے ہیں۔ حماس نے ٢٣ اکتوبر ٢٠٢٣ء کو مظالم کا بدلہ لینے اور اسرائیلی جیلوں میں قید اپنے لیڈروں کو رہائی دلانے کے لیے، قہر بن کرزمینی، بحری اور فضائی راستوں سے اسرائیلوں پر ٹوٹ پڑے۔ اس کا ڈوم سیکورٹی نظام اور انٹیلی جنس اور ناقابل شکست ہونے کا تکبر زمین میں ملا دیا۔ ان کی فوج کو پیروں تلے روند تے ہوئے ١٢٠٠ کوہلاک اور ٢٥٠ کو یرغمال بنا لیا۔ اسرائیل کوفلسطین سے نکلنے اور فلسطینی قیدی کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ اسرائیل حماس سے مقابلہ کرنے کی بجائے غزہ کے نہتے شہریوں کو بچوں عورتوں سمیت نسل کشی کر رہا ہے۔ان کے ٨٠ فیصد مکانوں کو ملیا میٹ کر چکا ہے ۔ ان تک خوراک نہیں پہنچنے دیتا۔ وہ بھوک کو جنگی ہتھیار کے طرپر استعمال کررہاہے۔ اس ظلم پر ساری دنیا کے انصاف پسند عوام اپنے اپنے ملکوں میں مظاہرے کر ر رہے ہیں۔ کئی فلوٹیلا محاصر ٹوڑنے کی کوشش کر چکے۔ اب ٤٤ ملکوں کے ٥٠ جہاز وں کا فلوٹیلا غزہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔اب دو سال سے پوری دنیا کے دہشتگرد طاقتوں سے لڑ رہے ہیں۔ وہ دورریاستی حل نہیں پورا فلسطین سے قابض اسرائیل کو نکال اپنے وطن فلسطین کو آزاددیکھنا چاہتے ہیں۔ مگر یہ” اعلان نیویارک ” جو حماس کے بغیر دو ریاستی حل پیش کررہا ہے۔جو اسرائیل کی شکست اورحماس کی جزوی فتح ہے ، اللہ حماس کو مکمل فتح بھی نصیب کرے گا۔ ان شاء اللہ۔”اعلان نیویارک” فلسطین کی جزوی فتح ہے مکمل فتح کی اُمید ہے۔

Exit mobile version