قدرتی وسائل سے مالامال اور محنتی افغان عوام کی بدحالی کی بنیادی وجہ وسائل کی کمی، ناکامی یا کمزوری نہیں بلکہ ،وہ عدم استحکام ہے جو گزشتہ چار دہائیوں سے افغانستان کی تقدیر پر سایہ فگن ہے ۔ اس ملک نے معدنی دولت، زراعت، تجارت اور جغرافیائی محلِ وقوع کی بدولت خطے کی ایک ابھرتی ہوئی معاشی قوت بننا تھا، افسوس کہ مسلسل بیرونی مداخلتوں، جنگوں اور طاقت کی کشمکش نے اسے ترقی کے راستے سے ہٹا دیا ۔ افغان عوام اپنی محنت، دیانت اور جدوجہد کے باعث ہر دور میں ثابت قدم رہے پرجنگی حالات نے انہیں تعلیم، صحت اور روزگار جیسے بنیادی حقوق سے محروم رکھا۔ جب کسی معاشرے کی نسلیں مسلسل عدم تحفظ میں پروان چڑھیں تو ترقی کے راستے محدود ہو جاتے ہیں۔سڑکیں، اسکول، اسپتال اور صنعتیں تعمیر ہونے کی بجائے تباہ ہوتی ہیں، نوجوان ہنر سیکھنے کے بجائے اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی کی جنگ لڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔بیرونی طاقتوں کی بارہا مداخلت کے سبب افغانستان کبھی عالمی طاقتوں کا میدانِ جنگ بنا، کبھی علاقائی مفادات کی کشمکش اور کبھی اندرونی گروہی تقسیم کا شکار۔ اس ماحول نے ریاستی اداروں کو کمزور کیا، قانون کی بالادستی کو متزلزل کیا اور معاشی ڈھانچے کو غیر مستحکم رکھا۔ نتیجتاً وہ وسائل جو عوامی ترقی اور خوشحالی کے لیے استعمال ہونے تھے، تنازعات میں جھونک دیے گئے۔حقیقت یہ ہے کہ افغان عوام کی خوشحالی کا راستہ ،پائیدار امن، سیاسی استحکام، ہمسایوں کے ساتھ پرامن اورمتوازن تعلقات کے ساتھ جڑاہے۔ جب تک افغانستان اندرونی انتشار اور بیرونی مداخلتوں کی گرفت سے آزاد نہیں ہوگا، اس کی بے پناہ صلاحیتیں پوری طرح بروئے کار نہیں آ سکتیں۔ امن ہی وہ بنیاد ہے جس پر افغان عوام اپنی محنت اور وسائل کے بل پر ایک روشن مستقبل کی طرف گامزن ہوسکتے ہیں۔قدرتی وسائل سے مالامال افغانستان کے محنت کش عوام صدیوں سے امن، تجارت اور باہمی احترام کے قائل رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس خطے کے عام لوگ ہمیشہ سے ایک ایسے معاشرے کے خواہاں رہے ہیں جہاں کسی بیرونی جنگ، داخلی تصادم یابیرونی طاقتوںکا تسلط نہ ہو۔ بدقسمتی سے چار دہائیوں سے جاری جنگوں، بیرونی مداخلت، مسلح گروہوں کی سیاست اور قومی اداروں کی کمزوری نے افغانستان کو ایک ایسے جغرافیے میں بدل دیا جہاں عوام کی اصل آواز دب کررہ گئی ہے اور طاقت کے مراکز عوامی امنگوں کی ترجمانی کرنے کے بجائے ذاتی مفادات ، جنگی نظریات، سیاسی یا عسکری مقاصد تک محدودہو چکے ہیں۔یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ افغان عوام پاکستان یا دنیا کے کسی بھی ملک کے خلاف جنگ نہیں چاہتے ۔ اُن کی اولین ترجیحات میں معاشی استحکام، آزادانہ کاروبار،تجارت، تعلیم، روزگار اور محفوظ ماحول شامل ہیں۔ یہ وہ بنیادی خواہشات ہیں جو کسی بھی عام انسان کے خوابوں کی تشکیل کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان کے مختلف شہروں اور دیہاتوں میں جب بھی نوجوان، تاجر، طلبہ یا مزدور طبقے سے گفتگو کی جائے تو اُن کے لبوں پر جنگ کے نعرے نہیں بلکہ امن، آزادتجارت اور باہمی احترام کی باتیں سنائی دیتی ہیں۔افغان عوام کی اکثریت پاکستان کے ساتھ پرامن تعلقات کی خواہاں ہے۔ تاریخی رابطے، مذہبی و ثقافتی ہم آہنگی، سرحد کے دونوں جانب بسنے والے خاندانوں کے آپسی رشتے، اور تجارت کی قدیم روایات ۔ وہ عوامل ہیں جو دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب رکھتے ہیں۔ سرحد کے آرپار روزانہ ہزاروں لوگ معاش، علاج، تعلیم اور کاروبار کیلئے سفر کرتے ہیں۔ ان کے لیے پاکستان دشمن نہیں، بلکہ ایک ایسا ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ وہ بہتر مستقبل کی امید رکھتے ہیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں عوامی امنگوں اور حکومتی ترجیحات میں فاصلے بڑھ جاتے ہیں ۔ دہشتگردی اور جنگ کسی بھی قوم کی امنگ نہیں ہوتیں۔یہ ایجنڈے عموماً ریاستی اداروں ، طاقت ور گروہوں یا نظریاتی تنظیموں کے ہوتے ہیں۔ اسی تناظر میں افغانستان میں جاری عسکری کارروائیوں اور علاقائی عدم استحکام کو افغان عوام کے جذبات کے ساتھ نتھی کرنا درست نہیں۔بہت سے افغان شہری اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ طالبان کی عبوری حکومت عوامی مینڈیٹ کی حامل نہیںبلکہ طاقت کے بل پر قابض ہے۔ وہ اپنی سیاسی بقا کیلئے ایسے فیصلے کررہی ہے جن کی وجہ سے خطے خاص طورپرپاکستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوچکے ہیں بداعتمادی مسلسل بڑھ رہی ہے، دہشتگرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے جیسے متنازعہ عوامل میں اضافہ ہورہاہے،ایسی صورت حال میں نقصان ہمیشہ عام افغان شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے، جن کی زندگی پہلے ہی بے یقینی کا شکار ہے ۔ افغانستان میں ایک منتخب عوامی حکومت کا قیام اس لیے ناگزیر ہے کہ حقیقی نمائندگی صرف ووٹ کی طاقت سے ہی ممکن ہے۔ جب عوام کی منتخب قیادت اداروں کو کنٹرول کرتی ہے، تو نہ صرف فیصلوں میں شفافیت بڑھتی ہے بلکہ خارجہ پالیسی سے لے کر داخلی امن تک تمام امور میں عوامی حمایت کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جو دیرپا امن، علاقائی تعاون اور باہمی اعتماد کو پروان چڑھاتی ہے۔ طالبان کی عبوری حکومت اندرونی سطح پر قدغنوں، معاشی بحران اور بین الاقوامی تنہائی کا شکار ہے، جس کے باعث وہ نہ عوامی خواہشات پوری کر رہی ہے، نہ ہی خطے کے ممالک کیلئے قابلِ اعتماد شراکت دار بن پا رہی ہے۔ پاکستانی عوام بھی ہمیشہ ایک پرامن اور خوشحال افغانستان کے خواہاں رہے ہیں۔ پاکستان میں موجود پناہ گزینوں کی بڑی تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی معاشرے نے افغان عوام کو ہمیشہ جگہ دی، انہیں ہمدردی اور بھائی چارے سے نوازا۔پاکستان کی سڑکوں، بازاروں، کالجوں اور محنت کش طبقے میں افغان شہری برسوں سے شریکِ سفر ہیں۔ ان کے ساتھ کاروباری تعلقات نے دونوں ممالک کی معیشت کو سہارا دیا ہے۔ہماری خواہش ہے کہ افغانستان میں ایسا نظام قائم ہو جو خطے میں امن کو مضبوط کرے، دہشتگردی کے خلاف حقیقی اقدامات اٹھائے، اور عوام کو بااختیار بنائے تاکہ دونوں ممالک اقتصادی تعاون کے ایک نئے دور میں داخل ہو سکیں۔ دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کو سنجیدگی سے اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ خطے میں امن، ترقی اور معاشی بحالی کی بنیادیں عوامی خواہشات پر رکھی جاتی ہیں، نہ کہ عسکری فیصلوں پر۔پاکستان اور افغانستان دونوں کو اس بیانیے کو مضبوط کرنا ہوگا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں،اور دہشتگردی صرف بدامنی نہیں بلکہ پورے خطے کے مستقبل کیلئے زہرِ قاتل ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ممالک میں ایسے بیانیے کی ترویج ہو جو عوامی امنگوں کی ترجمانی کرے، نہ کہ کسی بیرونی طاقت کے مفادات کو تقویت دے ۔ پاکستان کو بھی اپنی عوامی سفارت کاری کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان کے عوام تک براہِ راست رسائی، ثقافتی تبادلے، تجارت میں آسانیاں، تعلیم کے مواقع، صحت کی سہولیات اور میڈیا کے ذریعے مثبت پیغام ۔یہ سب وہ اقدامات ہیں جو غلط فہمیوں کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح افغانستان کے اندر بھی ضروری ہے کہ عوام ایک ایسی سیاسی جدوجہد کو مضبوط کریں جو اُنہیں ایک منتخب اور شفاف حکومت کی طرف لے جائے۔ دنیا کا ہر مستحکم ملک اسی وقت ترقی کرتا ہے جب وہاں کے عوام اپنے فیصلے خود کرتے ہیں اور ریاستی طاقت عوامی رائے کی تابع ہوتی ہے۔ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا ناگزیر ہے۔ جذباتی بیانیے، الزام تراشی، اور مختصر المدتی پالیسیاں خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف لے جا سکتی ہیں۔پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کو مخالف نہیں بلکہ شراکت دار سمجھیں۔ دونوں ممالک کے عوام کے جذبات، امیدیں اور ضروریات ایک دوسرے سے مختلف نہیں۔ دونوں غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور عدم تحفظ جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ دونوں بہتر مستقبل چاہتے ہیں جہاں بچے اسکول جائیں، کاروبار ترقی کرے، صحت کی سہولیات میسر ہوں، اور عوام دہشتگردی کے خوف سے آزادپرامن زندگی گزار سکیں۔لازم ہے کہ اب افغانستان کے عوام کو ایسا سیاسی نظام ملے جس میں انہیں اپنی تقدیر کے فیصلے خود کرنے کا حق ہو۔ پاکستان کے عوام کو ایک پُرامن ہمسایہ ملے جس کے ساتھ وہ ترقی اور خوشحالی کے سفر میں شریک ہو سکیں۔ دونوں ممالک کیلئے بہترین راستہ یہی ہے کہ وہ امن، تجارت، انسانی احترام اور باہمی تعاون کے اصولوں پر کاربند رہیں۔ جنگیں ہمیشہ حکمران طبقات کے ایجنڈوں سے جنم لیتی ہیں اور امن عوام کے دلوں سے نکلتا ہے۔
افغانستان کی بدحالی کی وجہ، وسائل کی کمی یاجنگیں؟

