Site icon Daily Pakistan

بھارت پانی کو اسٹریٹجک ہتھیار بنانے کی روش پر گامزن

پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں پر ایک عالمی معاہدہ موجود ہے جسے سندھ طاس معاہدہ کہتے ہیں۔اس کا احترام کرنا دونوں ممالک پر لازمی ہے مگر پاکستان کے پڑوسی ملک بھارت میں جب سے نریندرامودی کی جماعت بی جے پی کو اقتدار ملا ہے ،اس اہم معاہدے کی خلاف ورزی بھارت کی طرف سے معمول بن گیا ہے۔ حالیہ کچھ عرصہ میں مودی حکومت اس معاہدے سے مسلسل چھیڑ چھاڑ میں مصروف ہے۔ بھارت کی جانب سے دریا چناب پر 260میگا واٹ کے دلہستی اسٹیج-II ہائیڈروپاور پروجیکٹ کی منظوری نہ صرف بنیادی ڈھانچے کی توسیع ہے بلکہ جنوبی ایشیا کی پانی کی سیاست میں ایک گہری تبدیلی کی علامت بھی ہے۔ایک ڈجیٹل پبلکیشن دی نیشنل انٹریسٹ میں شائع آریٹکل کے مطابق یہ قدم سندھ طاس معاہدہ کو معطل کرنے کے اپریل 2025 کے فیصلے کے بعداٹھایا گیا اور یہ واضح اشارہ ہے کہ بھارت اب اس طویل المدتی معاہدے کے بجائے اپ سٹریم پانی پر کنٹرول کو جغرافیائی و سیاسی اثر کے طور پر استعمال کرنے کی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔پاکستان کیلئے جس کی زراعت اور معیشت بنیادی طور پر انڈس بیسن کے پانی پر منحصر ہے، اسکے اثرات نہایت نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔دلہستی اسٹیج-II پراجیکٹ کی لاگت395ملین ڈالر ہے جسے بھارتی پبلک سیکٹر کمپنی این ایچ پی سی لمیٹڈ تیار کرے گی۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پروجیکٹ رن آف دی ریور اسکیم کے تحت آتا ہے اور سندھ طاس معاہدہ کے تحت جائز ہے، تاہم معاہدے کی تعمیل صرف ایک پروجیکٹ تک محدود نہیں بلکہ پانی کی مجموعی صورتحال، حکمت عملی اور تنازعہ حل کے میکانزم میں کمی کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔سندھ طاس معاہدے کے خلاف بھارتی اقدامات پر پاکستان کا اصولی اور قانونی موقف کو عالمی سطح پر درست مانا جا تا ہے۔ معروف امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے کھل کر پاکستان کی حمایت کرتے ہوئے بھارت کی آبی پالیسیوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔اور کہا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں رکھتا اور اس حوالے سے پاکستان کا موقف مکمل طور پر درست اور عالمی قوانین کے مطابق ہے۔جریدے کے مطابق بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے دعوے اور اس پر عمل درآمد کی کوششیں جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہیں، پاکستان خطے میں ذمہ دار ریاست کے طور پر ہمیشہ پانی کو امن اور تعاون کا ذریعہ سمجھتا آیا ہے، جب کہ بھارت پانی کو اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی پالیسی پر گامزن نظر آتا ہے۔ دی نیشنل انٹرسٹ نے بھارت کے جموں و کشمیر میں دریائے چناب پرہائیڈروپاور منصوبے کو سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے منصوبے نہ صرف معاہدے کی روح کے منافی ہیں بلکہ پاکستان کے کروڑوں عوام کے آبی حقوق کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ رپورٹ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ مغربی دریاؤں کا پانی پاکستان کیلئے مہیا کرنا بھارت پر قانونی طور پر لازم ہے۔ سندھ طاس معاہدہ جو 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا، دنیا کے کامیاب ترین بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے۔ معاہدے کے مطابق مشرقی دریا بھارت کے حصے میں ہیں، جبکہ مغربی دریا سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کے لیے مختص ہیں۔دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق معاہدے میں کہیں بھی یک طرفہ معطلی یا خاتمے کی کوئی شق موجود نہیں۔ اسکے باوجود بھارت نے حالیہ برسوں میں آبی ڈیٹا کی فراہمی روک دی، تنازعات کے حل کے طریقہ کار کو کمزور کیا اور سندھ طاس بیسن میں متنازع ہائیڈرو پاور منصوبوں پر تیزی سے کام شروع کر دیا ہے، جن میں رٹلے، پکال دل، برسر، ساول کوٹ، کِرو، کواڑ اور کِرتھائی منصوبے شامل ہیں۔رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگست میں مستقل ثالثی عدالت ایک بار پھر اس بات کی تصدیق کر چکی ہے کہ بھارت مغربی دریاؤں کا پانی پاکستان کیلئے بلا رکاوٹ بہنے دینے کا پابند ہے اور سیاسی اختلافات کے باوجود سندھ طاس معاہدہ قانونی طور پر مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔ سندھ طاس معاہدہ نے بھارت اور پاکستان کی جنگوں، طویل سفارتی تعطل، اور بار بار آنیوالے علاقائی بحرانوں کو برداشت کیا۔ معاہدے کے تحت بھارت کو مشرقی دریائوں راوی، بیاس اور ستلج پر کنٹرول حاصل ہے جبکہ مغربی دریا انڈس، جہلم اور چناب پاکستان کیلئے مخصوص ہیں۔ بھارت کو صرف محدود غیر استعمال شدہ مقاصد کیلئے پانی استعمال کرنے کی اجازت ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ معاہدے میں یکطرفہ معطلی یا ختم کرنے کی کوئی شق موجود نہیں۔تاہم اپریل 2025 کے پہلگام واقعے اور اس کے بعد سرحدی کشیدگی کے بعد بھارت نے پاکستان کیساتھ ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا شیئرنگ بند کر دی معاہدے کے تنازعہ حل کے نظام پر سوال اٹھائے اور انڈس بیسن میں کئی طویل متنازعہ ہائیڈروپاور منصوبے تیز کر دیے۔
غزہ میں حقیقی امن کی ضرورت
پیچھے مڑ کر دیکھا جائے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20نکاتی غزہ منصوبے کا پہلا مرحلہ کبھی بھی تنازع کو حل کرنے کیلئے نہیں تھا۔یہ ڈیزائن کیا گیاتھابہترین طورپراسے روکنے کیلئے۔اس معمولی یارڈسٹک کیخلاف پیمائش کی گئی،پہلے مرحلے نے نازک اور گہرے مقابلہ کے نتائج فراہم کئے زمین پر امن سے زیادہ کاغذ پر جنگ بندی۔پہلے مرحلے کی سب سے نمایاں کامیابی فعال دشمنی میں کمی نہیں بلکہ خاتمہ تھی۔جنگ بندی کے 10اکتوبر 2025کو نافذ ہونے کے بعدجنگ کے عروج کے مقابلے میں اسرائیلی حملوں کی شدت میں کمی واقع ہوئی۔اس نے اپنے آپ میں ایک تباہ شدہ آبادی کو راحت کا ایک سلور پیش کیالیکن جنگ بندی غیر محفوظ ثابت ہوئی۔اس دوران تقریبا 450 فلسطینی مارے گئے جن میں 100 سے زائد بچے بھی شامل تھے۔غزہ کے شہریوں کیلئے یہ تشدد کے خاتمے سے کم جنگ بندی تھی۔اسرائیل نے بعض علاقوں سے جزوی واپسی پر اتفاق کیا لیکن کوئی واضح،قابل تصدیق حدود قائم نہیں کی گئیں۔اس دانستہ مبہم پن نے اسرائیل کو غزہ کے اندر آپریشنل آزادی برقرار رکھنے کا موقع دیا۔انسانی ہمدردی کی رسائی پہلے مرحلے کا ایک اور بیان کردہ ستون تھا۔امداد کے بہائو میں اضافہ ہوا اور رفح کراسنگ کو وقفے وقفے سے کھولا گیا ، جس سے قحط کے دہانے پر موجود ایک انکلیو پر دبائو کم ہوا۔تاہم اقوام متحدہ نے واضح کیا ہے کہ امداد میں اضافہ غزہ کی ضروریات سے بالکل کم تھا اور اسے بار بار روکا گیا تھا۔فیز ٹو کا آغاز اب غیر فوجی سازی،ٹیکنو کریٹک گورننس اور تعمیر نو کے وعدوں کے ساتھ کیا گیا ہے۔یہ سب کچھ جبکہ پہلے مرحلے کے نتائج میں مصالحت نہیں ہوئی ہے۔حقیقی امن کی ضرورت ہے۔
پاکستان کا ایران میں حالات کو معمول پر لانے پر زور
اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس میںپاکستان کا ایران کے بارے میں اپنے موقف کا اظہار ایک ایسی دنیا میں ایک ناپید آواز کے طور پر سامنے آیا ہے جو دھمکیوں اور انداز میں تیزی سے بہرے ہو رہی ہے۔ملک نے خودمختاری،مذاکرات اور بیرونی مداخلت کو واضح طور پر مسترد کرنے پر زور دیتے ہوئے ایران میں حالات کو جلد معمول پر لانے پر زور دیا۔ایسا عہد محض اصولی نہیں ہے،ضروری ہے۔عالمی سطح پر ہونیوالی گفتگو اور ممکنہ حملوں کی زبانی بیان بازی کے درمیان ، پاکستان کی تحمل کی وکالت ایک یاد دہانی کے طور پر چمکتی ہے کہ سفارت کاری ہی استحکام کا سب سے قابل عمل راستہ ہے۔ایران کیخلاف فوجی کارروائی کی دھمکیاں،اخلاقی طور پر قابل اعتراض ہونے کے علاوہ،غیرمستحکم نتائج کے جھڑپ کو جنم دینے کا خطرہ ہے۔یہ خطہ جو پہلے ہی تنازعات اور جغرافیائی سیاسی تنا سے بوجھل ہے،معاشی خلل، انسانی بحران اور سلامتی کا نتیجہ دیکھ سکتا ہے جو اس کی سرحدوں سے بہت آگے تک پھیلے گا۔کسی بھی ممکنہ اسٹریٹجک فوائد حاصل ہونے سے پہلے ہی دنیا اس کے اثرات کو برداشت کرے گی۔بات چیت پر معقول اصرار اور تنازعات کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی لاپرواہی کے درمیان بالکل فرق ہے۔اس تناظر میں پاکستان کا موقف نہ صرف قابل ستائش بلکہ سبق آموز ہے۔جنگ کو بھڑکانے والی پالیسی کو ڈکٹیٹ کرنے دینا ایک ایسی دنیا کے ساتھ جوا کھیلنا ہے جو پہلے ہی غیر یقینی طور پر متوازن ہے ۔امن کا علمبردار اس دور اندیشی کے ساتھ کام کرنا ہے جس کا تاریخ اور انسانیت تقاضا کرتی ہے۔

Exit mobile version