Site icon Daily Pakistan

توشہ خانہ معاملات کو زیادہ نہ اچھالا جائے اس سے معاملات عالمی سطح پر خراب ہوتے ہیں ایس کے نیازی

توشہ خانہ معاملات کو زیادہ نہ اچھالا جائے اس سے معاملات عالمی سطح پر خراب ہوتے ہیں ایس کے نیازی

توشہ خانہ معاملات کو زیادہ نہ اچھالا جائے اس سے معاملات عالمی سطح پر خراب ہوتے ہیں ایس کے نیازی

چیف ایڈیٹر پاکستان گروپ آ ف نیوز پیپرز و سینئر اینکر پرسن ایس کے نیازی نے کہا ہے کہ توشہ خانہ معاملات کو زیادہ نہ اچھالا جائے اس سے معاملات عالمی سطح پر خراب ہوتے ہیں،غیریقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کارنہیں آئیں گے،معیشت مضبوط ہوگی توملکی دفاع بھی مضبوط ہوگا،سیاسی لوگوں کوملک کی بہتری کی خاطراکھٹابیٹھنے کی ضرورت ہے،عمران خان زاتی طور پر کرپٹ نہیں انکی نیت صاف ہے،اردگرد کے لوگ غلطیاں کروا دیتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے روز نیوز کے پروگرام سچی بات میں گفتگو کے دوران کیا۔چیف ایڈیٹر پاکستان گروپ آ ف نیوز پیپرز و سینئر اینکر پرسن ایس کے نیازی نے اپنی گفتگو کے دوران مزید کہا کہ توشہ خانہ معاملات کافی دن سے چل رہے ہیں لیکن اس قسم کی چیزوں کو زیادہ نہ اچھالا جائے اس سے معاملات عالمی سطح پر خراب ہوتے ہیں،ایس باتوں سے غیریقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے اور بیرونی سرمایہ کارپاکستان میں سرمایہ کاری سے ہچکچاتے ہیں،عمران خان زاتی طور پر کرپٹ نہیں انکی نیت صاف ہے،اردگرد کے لوگ غلطیاں کروا دیتے ہیں۔ایس کے نیازی کا مزید کہنا تھا کہ معیشت مضبوط ہوگی توملکی دفاع بھی مضبوط ہوگا،سیاسی لوگوں کوملک کی بہتری کی خاطراکھٹابیٹھنے کی ضرورت ہے،رہنماپاکستان تحریک انصاف غزالہ سیفی نے روز نیوز کے پروگرام سچی بات ایس کے نیازی کیساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی کردارکشی کرنے کیلئے پروپیگنڈا کیاگیا،وزیراعظم جرمانہ ا داکئے بغیرلندن کوچھوڑ نہیں سکتے،ہمارے ملک کے وزیراعظم پرکرپشن کاکیس چل رہا ہے، سابق وزیراعظم عمران خان نے ہرکام قانون کے مطابق کیاہے،عمران خان کی مقبولیت سے خوفزدہ ہوکرحکومت الزام تر اشیاں کررہی ہے،ایسے ہتھکنڈوں سے عمران خان کی مقبولیت میں فرق نہیں پڑے گا،جوالزامات لگائے جارہے ہیں انہیں ثابت بھی کرناپڑے گا۔ترجمان بلاول بھٹو ذوالفقارعلی بدرنے روز نیوز کے پروگرام سچی بات ایس کے نیازی کیساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیازی صاحب آپ کابے حدمشکورہوں ،تحائف میں بیچی گئی گھڑی کے خریدارنے حقائق بتادئیے ہیں،سابق وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی ساکھ کونقصان پہنچایا،عمران خان نے توشہ خانہ کے بارے میں جھوٹ بولاہے،عمران خان دوسروں کواخلاقیات کادرس دیتے ہیں اوراپناطرزعمل نہیں دیکھتے،عمران نے چارسال پاکستان کے عوام کوگمراہ کرنے کے سواکچھ نہیں کیا،عمران خان نے اپنی حکومت میں اپوزیشن کیساتھ جوسلوک روارکھاسب جانتے ہیں،عمران خان اپنے اوپرلگائے گئے الزامات کاجواب عدالت میں دیں،عمران خان مان رہے ہیں کہ توشہ خانہ کے تحائف بیچے ہیں،شاہی خاندان کی طرف سے دئیے گئے تحفوں کوبیچنانہیں چاہئیے تھا،ذوالفقارعلی بدرکا مزید کہنا تھا کہ گھڑی بیچ کروہ پیسہ پاکستان میں کیسے آیااس کی تحقیقات ہونی چاہیے،عمران خان نے ہرمعاملے پریوٹرن لیاہے،عمران خان سائفرکے معاملے پربھی یوٹرن لے چکے ہیں،عمران خان چاہتے ہیں ان کی کرپشن کامعاملہ دب جائے،عمران خان نے پاکستان کودیوالیہ کرنے کی پوری کوشش کی،عمران خا ن کی وجہ سے دوست ممالک کیساتھ تعلقات خراب ہوئی،عمران خان نے دبئی میں گھڑی فروخت کی،عمران خان کی کرپشن اوربے ضابطگیوں کاسلسلہ نیانہیں ہے،پیپلزپارٹی جمہوریت پریقین رکھتی ہے،اتحادیوں سے اچھے تعلقات ہیں،مصطفی نوازکھوکھرنے ذاتی وجوہات کی بناپرسینیٹ کی سیٹ چھوڑی،لیڈرشپ جوفیصلہ کرے گی اس کوسب قبول کریں گے،اہم تقرری کامعاملہ اس ماہ کے آخرمیں ہوجائے گا،الیکشن اپنے و قت پرہونگے جوجیتااسے تسلیم کرلیں گے،ملکی معیشت کوبہترکرنے کیلئے اقدامات کررہے ہیں،پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہوگی تومعاشی حالات اچھے ہونگے،عمران خان کوجمہوری رویہ اپنانے کی ضرورت ہے،ملک کی بدنامی کسی صورت نہیں ہوناچاہئیے،ماہرمعاشیات ڈاکٹرسلمان شاہ نے روز نیوز کے پروگرام سچی بات ایس کے نیازی کیساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت گھمبیرحالات سے دوچار، معیشت تنزلی کاشکارہے،بہتری کے اقدامات کرنے چاہئیں،ڈیفالٹ سے بچنے کیلئے موثراقدامات کرنے کی ضرورت ہے،پاکستان کے سیاسی حالات کے وجہ سے معیشت کمزوری کاشکارہے،ملک میں سیاسی استحکام کاہونابہت ضروری ہے،خرابیاں بہت ہیں معاملات کوٹھیک کرنے میں وقت لگے گا،بیرونی سرمایہ کارپاکستان کے حالات کودیکھ رہے ہیں،خراب معاشی حالات کی وجہ سے انویسٹرمایوسی کاشکارہیں،غیریقینی صورتحال ہوتوملکی معیشت روبہ زوال کاشکارہوجاتی ہے،غیریقینی صورتحال سے نکلنے کیلئے الیکشن ہی واحدحل ہیں،اہم تقرریوں کوجلدازجلدکرناچاہئیے،معیشت کوبہترکرنے کے اقدامات کرناضروری ہے،ڈاکٹرسلمان کا مزید کہنا تھا کہ اپنے سیاسی مفادات کوبالائے طاق رکھ کرملکی مفادکواہمیت دینے کی ضرورت ہے،حالات بہترنہ ہوئے توملک ڈیفالٹ کی جانب بڑھے گا۔

Exit mobile version