سفارتی ماہرین کے مطابق یہ امر انتہائی حوصلہ افزا ہے کہ چند روز قبل فرینڈز آف سلک روڈ کلب” کے سربراہ، پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین اور سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر مشاہد حسین سید کو خصوصی تعاون ایوارڈ،” دی سلک روڈ گلوبل نیوز ایوارڈ سے نوازا گیا ۔یاد رہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ پر 2023 میڈیا کوآپریشن فورم بیجنگ میں منعقد ہواتھا۔ یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ یہ اعزاز مشاہد حسین سید کی پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے اصولوں کو آگے بڑھانے ، علاقائی ترقی اور سفارت کاری کے فروغ میں ان کے اہم کردار کو مزید اجاگر کرتا ہے۔وطن عزیز کے سیاسی اور سفارتی حلقے اس امر پر متفق ہےں کہ پاک چین دوستی بلاشبہ انتہائی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے گویا ”یہ پون صدی کا قصہ ہے،دو چار برس کی بات نہےں“‘۔اس حوالے سے یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی ہر حکومت نے پاک چین تعلقات کو بہتر بنانے میں موثر کردار ادا کیا ہے۔اس ضمن میں یہ امر کسی تعارف کا محتاج نہےں کہ سی پیک کی ترویج میں سینیٹر مشاہد حسین سید نے غالبا ’ون مین آرمی“ کا کردار ادا کیا ہے۔دوسری جانب کسے معلوم نہےں اقوامِ عالم کی حالیہ تاریخ میں یوں تو کئی ملکوں نے ترقی کے مراحل طے کیے ہیں مگر جس طرح گزشتہ ساڑھے تین عشروں میں عوامی جمہوریہ چین نے خود کو ایک علاقائی قوت سے عالمی طاقت میں تبدیل کیا ہے یہ ایسا معاملہ ہے جس پر پوری دنیا حیران ہے ۔ دنیا کا ہر ملک چاہے وہ چین کا حامی ہو یا و¿مخالف اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ چین نے معجزانہ طور پر ترقی کی منازل طے کی ہیں اور آج ایک جانب وہ دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی قوت ہے تو اس کے ساتھ ساتھ دفاعی شعبے میں بھی کسی سے پیچھے نہیں بلکہ اکثر ماہرین متفق ہیں کہ آنے والے چند برسوں میں وہ امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر سب سے بڑی عالمی قوت کی حیثیت اختیار کر لے گا اور چین کو یہ مقام اپنی بے لوث قیادت اور گڈ گورننس کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے ۔ سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان اور چین کی دوستی دنیا بھر میں ایک مثالی حیثیت رکھتی ہے اور سی پیک پر ہونیوالی حالیہ پیشرفت کے بعد تو یہ اس مقام پر پہنچ چکی ہے جس کا اعتراف بدترین مخالفین کو بھی کرنا پڑ رہا ہے ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ اقتصادی راہداری کی تعمیر و ترقی جس ٹھوس انداز میں آگے بڑھ رہی ہے اس کے مثبت اثرات آنے والے دنوں میں پاکستان اور خطے کے دوسرے ملکوں کو آپس میں منسلک کر رہے ہیں جن سے نہ صرف پاکستان اور چین کے لئے معاشی ترقی کی راہیں کھلیں گی بلکہ خطے کی مجموعہ ترقی قابلِ رشک رفتار سے آگے بڑھے گی ۔ اور اس کے منطقی نتیجے کے طور پر آنے والے برسوں میں پاکستان اور چین ترقی کی نئی منزلیں طے کریں گے ۔ یہ منظر نامہ بہت سے نئے امکانات کو جنم دے گا ، آنے والے ادوار بہت سی نئی راہوں کو بھی متعین کریں گے ۔ سبھی جانتے ہیں کہ چین کے انقلابی منصوبے ” بیلٹ اینڈ روڈ“ کے دس سال پورے ہونے پر 17اور 18اکتوبرکو چین کے دارلحکومت میں تیسرے بیلٹ اینڈ روڈ اینشٹو فورم کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ خصوصی دعوت پر شرکت کی۔ ماہرین کے مطابق اس موقع پر ریلویز کے ایم ایل ون منصوبے سمیت پاکستا ن اور چین کے مابین 15سے زائد منصوبوں کے ایم او یو پر دستخط کئے گئے۔ اگر ان منصوبوں کی تفصیل میں جائیں تو پاکستان اور چین سی پیک کے د وسرے مرحلے میں بڑا بریک تھرو کرینگے، 11انفراسٹرکچر، توانائی اور دیگر منصوبوں کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے جن کیلئے مختلف وزارتیں اور چینی سفارتخانہ ورکنگ پیپر پر کام مکمل کر چکے ہیں۔ یہاں اس امر کا تذکرہ ضروری ہے کہ منصوبے میں چین اب تک 30ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کر چکا ہے جبکہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں ایم ایل ون اور تھاکو ٹ، صنعت، توانائی کے منصوبوں سمیت دیگر منصوبوں کو زیر غور لایاجائیگا ۔ یہ امر خوش آئند ہی قرار دیا جانا چاہیے کہ ایم ایل ون منصوبے کے تحت پاکستان کی 1733کلومیٹر ریلویز لائن کو کراچی سے پشاور تک اپ گریڈ کیا جائیگااور ٹرین کی رفتار کو 160کلومیٹر فی گھنٹہ لانے کیلئے نیا ٹریک بھی بچھایا جائیگا، ریلویز کے متعدد پلوں کی تعمیر نو ہوگی حویلیاں کے قریب ڈرائی پورٹ تعمیر کیا جائیگا، منصوبے پر 6806ارب ڈالر تک لاگت متوقع ہے۔یاد رہے کہ پاکستان کے عظیم دوست چین کے سربراہِ مملکت ” شی جن پنگ “ 20 تا 21 اپریل 2015 پاکستان کے دورے پر آئے تھے ۔اس دوران انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے علاوہ اکنامک کاریڈور سمیت باہمی تعاون کے بہت سے معاہدوں پر دستخط کیے ۔ پاکستان میں اس چینی سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت 46 بلین ڈالر سے زائد تھی ۔ یہ بھی بھلا کیسے ممکن ہے کہ پاک چین تعلقات نئی اونچائیوں پر پہنچ رہے ہوں اور پڑوسی ملک بھارت کی جانب سے اس کیخلاف ریشہ دوانیوں کا سلسلہ تیز نہ ہو ۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق دہلی سرکار نے پاک چین اقتصادی راہداری کے خلاف ایک ہمہ جہتی حکمتِ عملی پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس منصوبے کے لئے بھارت نے تین سو ملین ڈالر کی خطیر رقم مختص کی ہے ۔ اس کے تحت ایک جانب سفارتی اور پراپیگنڈہ مہم کے ذریعے شاہراہِ خوشحالی کو ہدف بنایا جائے گا تو دوسری طرف اپنے ایجنٹوں کے ذریعے باقاعدہ مسلح مداخلت کر کے اس منصوبے کو روکنے کی کوشش بھی کی جائے گی ۔ بھارت کے زعفرانی انتہا پسندوں کے مذموم عزائم ساری دنیا جانتی ہے، مودی نے گذشتہ دس برس میں اپنی ساری توانائیاں بھارت کو اسلحہ سازی کے ایک بڑے کارخانے میں تبدیل کرنے پر لگا دی ہیں اور پوری دنیا میں یہ کوشش کر رہے ہیں کہ دنیا بھر کے اسلحہ ساز ممالک اور ادارے بھارت میں اسلحہ سازی کی صنعت میں براہ راست سرمایہ کاری کریں ۔ اور اپنے اس مشن کو موصوف ” MAKE IN INDIA “ کا نام دے رہے ہیں ۔ بہر کیف توقع کی جانی چاہیے کہ اقتصادی راہ داری اور دیگر منصوبوں کے حوالے سے چین کی جانب سے جو دستِ تعاون فراہم کیا گیا ہے ، قومی قیادت اس تاریخی موقع کو ضائع نہیں جانے دے گی اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرے گی اور اندرونی اور بیرونی مخالفین کی ان کوششوں کو ہر قیمت پر ناکام بنا یا جائے گا جو اس ضمن میں کالا باغ ڈیم کی مانند کنفیوژن پھیلانے کے لئے کی جا رہی ہیں َ اور خوشحالی کی اس شاہراہ کی تکمیل کو بروقت یقینی بنایا جائے گا ۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ مسلم لیگ کے قائد نواز شریف نے لاہور میں اپنے خطاب کے دوران خطے میں علاقائی تعاون کے فروغ پر زور دیا ۔امید ہے کہ قوم کے سبھی طبقات اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں احسن ڈھنگ سے انجام دیتے ہوئے پاکستان کو خوشحال بنانے کے اس سفر میں اپنا حصہ ڈالیں گے ۔
دی سلک روڈ گلوبل نیوز ایوارڈ اور مشاہد حسین سید

