حکومت عالمی بنک کے قرضوں سے ملکی معاملات کو خوشگوار ماحول میں چلا رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ صوبوں کو بھی فنڈز فراہم کرتے ہیں۔حکومت کو ملک کے ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ سرکاری اداروں کی ضروریات اور ملازمین کی تنخواہوں پر بھی اربوں کھربوں روپے کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے ان حالات میں سرکاری اداروں کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ دل و جان کے ساتھ اپنے فرائض کی انجام دہی کرے اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اداروں کی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کریں اور یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ اداروں کی ترقی سے ملک کی ترقی ممکن ہو سکے گی اور جب ادارے مضبوط بنیادوں پر استوار ہو جائیں گے تو ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو جائے گا اور اس کی ترقی سے ہی ہماری خوشحالی وابستہ ہے اور اس سلسلے میں سرکاری اداروں کی انتظامیہ سمیت دیگر سرکاری ملازمین کو چاہیے کہ وہ اداروں کی خرابیوں کو درست سمت پر استوار کرنے کیلئے سینئر سرکردہ شخصیات کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ان خرابیوں کو درست سمت پر استوار کیا جائے لیکن اگر اگر اداروں کے ملازمین یا سینئر سرکردہ افراد خود ہی غلط کاموں کے لئے کردار ادا کریں گے تو نہ صرف ادارے کمزور ہو ں گئے بلکہ ملک بھی کمزور ہو جائے گا اور ملکی معیشت بھی کمزور ہو جائے گی اور پھر اس کو درست سمت پر استوار کرنے کیلئے حکومت کو عالمی بنک سے قرضوں کے رابطہ کرنا پڑے گا اور یوں ملک مقروض ہو جائے گا اور اس سلسلے میں سرکاری اداروں کے نظم و نسق چلانے والے سینئر سرکردہ شخصیات پر بہت زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور انہیں چاہیے کہ وہ اپنی تعلیم و تربیت اور تجربہ کی بنیاد پر تجاویز اور سفارشات مرتب کریں اور اپنے اداروں کو تباہی سے دوچار ہونے سے بچائیں اور ترقی سے ہمکنار کرنے کیلئے موزوں سفارشات مرتب کریں اور حکومتی مشینری کے علم میں لائیں اور ان کے باہمی اشتراک سے عمل پیرا ہوں اور یہ ایسا نہیں کریں گے اور تمام تر نقصان کی ذمہ داری بھی ان پر عائد ہوتی ہے اس تحریر و تحمید کا واحد مقصد ہے کہ سرکاری ملازمین اور سینئر سرکردہ افراد احساس کریں اور اپنی آنکھیں کھول کر رکھیں اور اپنے کردار پر نظر ڈالیں اور اپنا احتساب خود کریں اور ایسا نہ ہو کہ کہیں مزید دیر ہو جائے کیونکہ حکومت نے بمشکل ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے اور یہ تمام حالات تمہارے اپنے پیدا کردہ ہیں اور اب خدارا اپنی ذمہ داریوں کو پہنچا نے ورنہ کسی وقت بھی یہ ملازمتیں چھن سکتی ہیں کیونکہ اداروں کا نظم و نسق چلانے کیلئے ایمان دار شخصیات کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر آج ہم کسی ادارے سے وابستہ ہیں جو کہ سفید ھاتھی کی مانند ہے اور مسلسل نقصان پہنچانے میں مصروف ہے تو ہمیں چاہیے کہ بلاتاخیر نیک نیتی کے ساتھ اپنے اعلی حکام کے علم میں لائیں اور اس سلسلے میں تعلیم یافتہ ہونے کا ثبوت فراہم کریں اور ملک کے ساتھ اپنی وفاداری کو یقینی بنائیں اور ایسا نہیں کرتے تو نہ صرف حکومت کے مجرم ہوں گے بلکہ رب العالمین کے حضور میں بھی مجرم قرار پائیں گے اور اس وقت جبکہ حکومت اپنے اداروں کے سربراہان اور دیگر ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر مراعات کے رات دن جہد مسلسل میں مصروف ہے اور بعض سینئر سرکردہ شخصیات اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہیں اور اپنے ذاتی معاملات کو چلانے کیلئے مسلسل سفید ھاتھی نما تباہ شدہ ادارے کو سرکاری مراعات لیتے ہوئے مزید تباہی سے دوچار کرنے میں مصروف ہیں جو کہ قابل مذمت ہے اور اس سلسلے میں اس ادارے کے تمام لوگ مجرم قرار پائیں گے اور سزا کے حقدار ہیں اور اس خوبصورت ادارے کو قصرِناز کہتے ہیں قصرِناز کی عالیشان عمارت جو کہ کئی کنال پر مشتمل ہے اور اس خوبصورت عمارت میں تمام تر سہولیات سے آراستہ لاتعداد بیڈروم موجود ہیں لیکن اس کی غیر ذمہ دار انتظامیہ و دیگر لوگوں نے اس کو تباہی سے دوچار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور یہ تباہ حالی کی ایک جیتی جاگتی تصویر بن چکی ہے اور مملکت سے محبت رکھنے والوں اور ملکی نظم و نسق چلانیوالوں سے رحم کی بھیک مانگنے پر مجبور ہے جبکہ اس پر قابض بے حس انتظامیہ اور دیگر لوگ اس کی فریاد کو مسلسل نظر انداز کرتے ہیں اور اس کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے میں مصروف ہیں یہاں تک کہ گذشتہ حکومت کے دور میں بجلی کے واجبات کی عدم ادائیگی پر اس کی بجلی منقطع کر دی تھی اور موجودہ حکومت کے دور میں اس کے واجبات کی ادائیگی کی گئی اور یوں بجلی کی فراہمی ممکن ہو سکی اور اگر مزید اس عمارت پر نظر ڈالیں تو یہ ایک ان کہی کہانی بیان کرتے ہوئے بتائے گی کہ بیڈ رومز نہ صرف خستہ حالت میں ہیں بلکہ ان میں موجود فرنیچر کی خستہ حالت اوربیڈرومز میں رکھے ہوئے ائر کنڈیشنز اور فریج تباہ حالی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ اس ادارے کو یعنی اس کی انتظامی امور کو چلانے کی ذمہ داری اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کر دی گئی خیال کیا جاتا تھا کہ شاید اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اس کی موثر انداز میں دیکھ بھال کرے گا لیکن یہ سب کچھ غلط فہمی پر مبنی تھا ۔ ملک کے موجودہ حالات ایسے ہیں کہ ہم عالمی بنک سے قرضوں کی فراہمی پر ملکی معیشت کو چلا رہے ہیں اور ان حالات میں حکومت کو ایک ایک روپے کے اضافی اخراجات کے ضمن میں انتہائی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے اس سلسلہ میں اگر یہ سوچ لیں کہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی اعلی قیادت کوئی سفارشات مرتب کریگی تو شاید یہ لوگ اپنی زندگی میں کوئی بھی معقول تجاویز اور سفارشات نہیں دیں گے کیونکہ انکی دلچسپی صرف اور صرف اپنی مراعات میں اضافہ کس طرح ممکن ہو سکے گا ۔
قصرِ ناز کبھی اپنی شان کی وجہ سے مثال ہوا کرتا تھا

