Site icon Daily Pakistan

لولی پاپ کا فلسفہ اور عوام کی تقدیر

پاکستان میں حکمرانی کا سب سے آزمودہ ہتھیار شاید یہی ہے کہ عوام کو ہر کچھ عرصے بعد کوئی نیا لولی پاپ تھما دیا جائے۔ کبھی ٹریفک کے نظام کی بہتری، کبھی چالانز میں اصلاحاتی اضافہ، کبھی صفائی مہم، کبھی تجاوزات کے خلاف آپریشن، گویا ملکی ترقی کا سارا دارومدار اس بات پر ہے کہ شہری کس رفتار سے موٹر سائیکل چلاتے ہیں اور کس زاویے سے ہیلمٹ پہنتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے ریاست سمجھتی ہے کہ قوم کی تقدیر ٹریفک سگنلز کے ساتھ منسلک ہے اور ملکی مستقبل کے فیصلے انہی چالانز کے ریڈار پر ہوتے ہیں۔ یہ وہ بیانیہ ہے جس کے ذریعے حکومتیں عوام کو سمجھاتی ہیں کہ بس نظم و ضبط قائم ہوجائے تو سب کچھ خودبخود ٹھیک ہو جائے گا۔ مگر عملی طور پر یہ اقدامات زیادہ تر فوری شور پیدا کرتے ہیں اور ان کے سائے میں وہ اصل مسائل دب جاتے ہیں جن کا سامنا عوام ہر روز کرتے ہیں۔ یہ لولی پاپ دراصل اس درد کا وقتی مرہم ہے جو مہنگائی، بے روزگاری، کم ہوتی آمدنی اور بڑھتے ہوئے خوف نے عوام کے دلوں میں پیدا کر رکھا ہے۔ اصل مسئلہ ٹریفک نہیں، وہ معاشی تنگی ہے جس نے گھروں کا سکون چھین لیا ہے۔ وہ بے روزگاری ہے جس نے نوجوانوں کو بے سمت کر دیا ہے۔ وہ علاج ہے جس کی پہنچ اکثر شہریوں کی آمدنی سے باہر ہو چکی ہے۔ وہ تعلیم ہے جو مسلسل مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ مگر حکومت کا بیانیہ اپنی پوری توانائی ٹریفک، چالانز اور انتظامی اقدامات پر مرکوز رکھتا ہے۔ شاید اس لیے کہ یہ کام بجٹ اور پالیسی نہیں مانگتے، صرف اعلان، پریس کانفرنس اور چند سرکاری ہدایات مانگتے ہیں۔پاکستانی عوام جانتے ہیں کہ چالانز کا بڑھنا اصلاحات نہیں، ریونیو کا ایک اضافی دروازہ بھی ہوتا ہے۔ قوم کو نظم و ضبط کے نام پر کھڑا کر لیا جاتا ہے، مگر ان کی معاشی بربادی کی طرف دیکھنے کی زحمت نہیں کی جاتی۔ بجٹ ہر سال عوام کے نام پر بنایا جاتا ہے مگر خرچ عوام پر کم اور عوام سے زیادہ لیا جاتا ہے۔ ٹیکس بھی وہی دیتے ہیں، بجلی کا بوجھ بھی وہی اٹھاتے ہیں، اور جب یہ سب ختم ہو جائے تو قانون کی پاسداری کے نام پر جرمانہ بھی وہی دیتے ہیں۔ مسئلہ صرف معاشی ناکامی تک محدود نہیں۔ جرائم کی روک تھام کے نام پر برسوں سے ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے جہاں ماورائے عدالت قتل اور زبانی دعووں کے پیچھے ریاستی طاقت سے کی جانے والی بے ضابطگیاں معمول بنتی جا رہی ہیں۔ پولیس مقابلے، مشکوک گرفتاریوں کے بعد مردہ جسموں کی برآمدگی، اور جبری لاپتہ افراد کی روز بروز بڑھتی تعداد، ریاست کے اسی اصلاحاتی بیانیے کا حصہ ہیں۔مثال کے طور پر Human Rights Commission of Pakistan (HRCP) کی 2024-کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سندھ اور پنجاب میں پولیس کے 4,864 staged encounters رپورٹ ہوئے، جن میں سے کئی کو ماورائے عدالت قتل قرار دیا جاتا ہے۔ اسی طرح Human Rights Council of Balochistan (HRCB) کے ایک رپورٹ کے مطابق 2025 کے مارچ میں بلوچستان میں 151افراد اغوا ہوئے اور 80 افراد ہلاک ہوئے، جن میں ماورائے عدالت قتل بھی شامل تھے۔ اسی انسانی حقوق کی فہرست میں ایک اور گھناونا باب ہے غیرت کے نام پر قتل۔ HRCPکے مطابق 2024 میں پاکستان بھر میں کم از کم 405 افراد غیرت کے نام پر قتل ہوئے۔ ان ہی رپورٹوں میں 2024 میں 1,969 ریپ کے کیسز، 299 گھریلو تشدد کی شکایات، 30 خواتین کو جلائے جانے کے واقعات اور 43تیزاب گردی کے واقعات بھی سامنے آئے۔ یہ تمام اعداد و شمار واضح پیغام دیتے ہیں: ریاست نہ صرف عوام کی فلاح کے دعووں پر ماند ہے بلکہ خود ریاستی قوت کا غلط استعمال اکثر قانونی اصولوں اور انسانی وقار کی پامالی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں نے کبھی ترقی کا راستہ چالانز اور ٹریفک پولیس یا منصوبوں کے اعلانات اور حزب اختلاف کو کھڈے لائن لگا کر نہیں نکالا۔ انہوں نے ترقی کا سفر اپنے لوگوں کی تعلیم، صحت، روزگار، انصاف اور تحفظ سے شروع کیا۔ عوام کی زندگی آسان کی، ان کی جیب میں پیسہ ڈالا، ان کے حوصلے کو مضبوط کیا۔ وہاں قومی وقار ہیلمٹ کی پٹی سے نہیں بلکہ انسان کی عزت سے ماپا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں معاملہ الٹا ہے، ریاست سڑکیں سیدھی کرنے سے پہلے عوام کی کمر توڑ دیتی ہے اور انصاف کی دہلیز پر پہنچنے سے پہلے شہری کا حوصلہ توڑ دیتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکمران عوام کے چہروں پر پھیلی پریشانی نہیں دیکھتے، صرف چوراہوں کے کیمرے دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک جرمانہ کا حساب تو ایک دن میں ہو سکتا ہے، مگر عوامی فلاح اور ادارہ جاتی اصلاح کا منصوبہ نہ جانے کس صدی میں ممکن سمجھا جاتا ہے۔ ایک باپ سوچتا ہے کہ چالان بھر دوں گا مگر بچوں کی فیس کیسے دوں۔ ایک ماں سمجھتی ہے کہ ٹریفک ٹھیک کرنے سے دودھ تو سستا نہیں ہونے والا۔ نوجوان جانتے ہیں کہ ان سے پہلے روزگار مانگا جانا چاہیے، قانون نہیں۔ اور وہ لوگ جو انصاف چاہتے ہیں جانتے ہیں کہ قانون کی تلاش اکثر ماورائے عدالت فیصلوں کی دھول میں گم ہو جاتی ہے۔ اور یہی وہ جگہ ہے جہاں ایک نئی تحریک جنم لیتی ہے۔ ایک ایسی تحریک جو نہ سڑکوں پر ہے، نہ جلوسوں میں۔ یہ دلوں کی تحریک ہے۔ گھروں کی میزوں پر ہونے والی گفتگو کی تحریک۔ وہ خاموش فکر جس میں عوام یہ سمجھنے لگے ہیں کہ لولی پاپ پالیسیوں کا دور ختم ہونا چاہیے۔ وہ شعور جو جان چکا ہے کہ قومیں نظم و ضبط سے نہیں بلکہ معاشی مضبوطی، انسانی وقار، اور شفاف انصاف سے ترقی کرتی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ریاست یہ حقیقت تسلیم کرے کہ ترقی ٹریفک سنگلز سے نہیں، عوام کے مقدر سے جڑی ہے۔ یہ ملک تب آگے بڑھے گا جب بجٹ عوام کی زندگی آسان بنانے کے لیے خرچ ہوگا، جب معاشی پالیسی شہری کے گھر تک جائے گی، جب انصاف ہر دروازے تک پہنچے گا اور جب تحفظ صرف طاقتوروں کا حق نہیں بلکہ ہر پاکستانی کا بنیادی حق بنے گا۔ ورنہ لولی پاپ کا یہ فلسفہ یونہی عوام کی تقدیر پر مسلط رہے گا اور ہم ہر بار نئے اعلانات کے کھوکھلے ذائقے سے بہلائے جاتے رہیں گے۔ قوم کو شفاف دعووں کی نہیں، حقیقی زندگی میں آسانی اور انصاف کی ضرورت ہے۔ اور وہ دن تب آئے گا جب حکمرانوں کو احساس ہوگا کہ عوام نظم و ضبط سے نہیں، اعتماد سے چلتے ہیں۔

Exit mobile version