کالم

معاشی کمزوری و سفارتی دباؤ اور داخلی بے چینی

بھارت کیلئے سال 2025 کسی معاشی استحکام، علاقائی برتری یا عالمی اثر و رسوخ کے پھیلاؤ کا سال ثابت نہیں ہوا بلکہ یہ برس متعدد حوالوں سے ناکامیوں، دباؤ، غیر یقینی صورتحال اور پالیسی تضادات کا مجموعہ بن کر سامنے آیا۔ نئی دہلی کی سیاسی قیادت جس برس کو اپنی عالمی حیثیت مستحکم کرنے، معاشی ترقی کو رفتار دینے اور خطے میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کیلئے استعمال کرنا چاہتی تھی، وہی سال داخلی کمزوریوں، خارجی محاذوں پر مشکلات اور معاشی بے چینی کا استعارہ بن گیا۔ 2025 میں بھارت کو درپیش مسائل وقتی یا حادثاتی نہیں تھے بلکہ یہ برسوں سے جمع ہوتے تضادات اور غلط اندازوں کا قدرتی نتیجہ دکھائی دیتے ہیں۔سال کے آغاز سے ہی پاک بھارت فوجی کشیدگی نے خطے کی فضا کوبے یقینی سے دوچار کیے رکھا۔ لائن آف کنٹرول پر تناؤ، سفارتی محاذ پر جمود اور باہمی بداعتمادی نے جنوبی ایشیا کو ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کی طرف دھکیل دیا۔ نئی دہلی کی کوشش تھی کہ عسکری دباؤ کے ذریعے سیاسی برتری حاصل کی جائے مگر عملی طور پر اس کا نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ کشیدگی کا طویل اثر بھارتی عسکری برتری کے اظہار کی بجائے عالمی طاقتوں خصوصاً امریکہ کی پالیسی میں تبدیلی کی صورت میں سامنے آیا۔ واشنگٹن کی جانب سے جنگ بندی کا کریڈٹ لینے اور پاکستانی عسکری قیادت کے ساتھ روابط میں اضافے کو عالمی مبصرین نے بھارت کیلئے ایک سفارتی دھچکے کے طور پر دیکھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں بھارت کی علاقائی حکمت عملی کے کمزور پہلو کھل کر سامنے آ گئے ۔ اسی دوران بھارت کو امریکہ کے ساتھ تجارتی محاذ پر بھی شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ جس اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی دہلی اپنی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کرتی رہی، وہ 2025 میں عملی نتائج دینے میں ناکام دکھائی دی۔ امریکہ بھارت تجارتی معاہدہ بار بار ملتوی ہوا اور امریکی ٹیرف کے نفاذ نے بھارتی برآمدات کو براہ راست متاثر کیا۔ توقعات کے برعکس بھارت امریکی مارکیٹ میں وہ رعایتیں حاصل نہ کر سکا جن کی بنیاد پر اس نے اپنی معاشی منصوبہ بندی استوار کی تھی۔ اس تاخیر اور غیر یقینی صورتحال نے نہ صرف صنعتی شعبے کو متاثر کیا بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی دھچکا پہنچایا ۔ معاشی محاذ پر بھارت کیلئے سب سے تشویشناک پہلو کرنسی کی مسلسل کمزوری رہی۔ 2025 میں بھارتی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں نمایاں گراوٹ کا شکار رہا جس کے اثرات درآمدات، مہنگائی اور عوامی قوت خرید پر واضح طور پر محسوس کیے گئے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے اس دباؤ کو مزید بڑھا دیا۔ توانائی پر انحصار رکھنے والی بھارتی معیشت کے لیے مہنگا تیل ایک مستقل چیلنج بن کر سامنے آیا اور روپے کی کمزوری نے اس مسئلے کو مزید تکلیف دہ کر دیا۔ نتیجتاً حکومت کو مالی نظم و ضبط اور عوامی ریلیف کے درمیان ایک مشکل توازن قائم رکھنا پڑا جو زیادہ تر صورتوں میں ناکام دکھائی دیا۔جی ایس ٹی اصلاحات کو حکومت کی بڑی معاشی کامیابی کے طور پر پیش کیا جاتا رہا مگر 2025 میں یہ اصلاحات محدود شعبوں تک ہی رہیں۔ ٹیکس نظام میں پیچیدگیاں ، ریاستوں اور مرکز کے درمیان اختلافات اور نفاذ میں سستی کے باعث وہ فوائد حاصل نہ ہو سکے جن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار رہے اور معاشی سرگرمیوں میں وہ روانی پیدا نہ ہو سکی جو کسی بڑی معیشت کیلئے ضروری ہوتی ہے۔معاشی ترقی کی رفتار توقعات سے کم رہی اور بیر روزگاری و مہنگائی جیسے مسائل نے عوامی بے چینی میں اضافہ کیا۔بھارت کی خارجہ پالیسی کا ایک نمایاں دعویٰ اس کی اسٹریٹجک خود مختاری رہا ہے مگر 2025 میں یہ تصور عملی طور پر کمزور ہوتا دکھائی دیا۔ امریکہ، چین اور روس کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش میں نئی دہلی کسی ایک سمت میں واضح پیش رفت نہ کر سکا۔ چین کے ساتھ سرحدی تنازعات بدستور موجود رہے جبکہ معاشی انحصار میں کمی کے دعوے حقیقت کا روپ نہ دھار سکے۔ روس کے ساتھ تعلقات اگرچہ برقرار رہے مگر عالمی دباؤ اور بدلتے حالات کے باعث ان میں وہ گہرائی نظر نہ آئی جو ماضی میں دکھائی دیتی تھی۔ اس تمام صورتحال نے بھارت کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا جہاں اس کی خارجہ پالیسی دفاعی انداز اختیار کرنے پر مجبور دکھائی دی۔امریکہ میں بھارت کی معاشی اور سفارتی گنجائش کے محدود ہونے کا تاثر بھی 2025 میں نمایاں رہا۔ ماہرین کے مطابق واشنگٹن میں نئی دہلی کی پوزیشن پہلے جیسی مضبوط نہیں رہی اور تجارتی و سفارتی معاملات میں اسے سخت شرائط کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ حقیقت بھارت کے اس بیانیے کیلئے ایک چیلنج بنی جس کے تحت وہ خود کو ابھرتی عالمی طاقت کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ عالمی سطح پر ساکھ محض بیانات سے نہیں بلکہ ٹھوس معاشی اور سفارتی کامیابیوں سے بنتی ہے، اور 2025 میں بھارت اس معیار پر پورا اترتا دکھائی نہیں دیا۔داخلی سطح پر عوامی مسائل میں اضافہ حکومت کیلئے ایک اور امتحان بن گیا۔ مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی بے یقینی نے متوسط اور نچلے طبقے کو شدید متاثر کیا۔ روپے کی گراوٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے روزمرہ زندگی کو مشکل بنا دیا۔ حکومت کی جانب سے اعلانات اور پیکجز کے باوجود زمینی حقائق میں فوری بہتری نظر نہیں آئی۔ اس صورتحال نے سیاسی دباؤ میں اضافہ کیا اور عوامی اعتماد کو متاثر کیا۔2025 میں پیش آنیوالا مہلک طیارہ حادثہ بھی ایک ایسا واقعہ تھا جس نے ریاستی نظم و نسق اور حفاظتی معیارات پر سوالات اٹھائے۔ اس سانحے کے بعد تحقیقات، ذمہ داری کے تعین اور اصلاحات کے وعدے تو سامنے آئے مگر مجموعی طور پر یہ واقعہ اس احساس کو تقویت دیتا رہا کہ بنیادی ڈھانچے اور انتظامی صلاحیت میں سنجیدہ بہتری کی ضرورت ہے۔ ایسے واقعات صرف انسانی جانوں کے ضیاع تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی سطح پر ملک کے امیج کو بھی متاثر کرتے ہیں۔بھارت کیلئے 2025 کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی رہا کہ اس نے مسائل حل کرنے کے بجائے زیادہ تر انہیں برداشت کرنے کی حکمت عملی اختیار کیے رکھی۔ وقتی انتظامات اور سیاسی بیانیے نے کچھ حد تک دباؤ کم کرنے کی کوشش کی مگر بنیادی اصلاحات اور واضح سمت کا فقدان برقرار رہا۔ معیشت، خارجہ پالیسی اور داخلی نظم و نسق کے شعبوں میں ہم آہنگی کی کمی نے مجموعی کارکردگی کو متاثر کیا۔اب جب نگاہ 2026 کی طرف جاتی ہے تو بھارت کیلئے چیلنجز کم ہونے کے بجائے بڑھتے دکھائی دیتے ہیں2025 نے یہ واضح کر دیا کہ عالمی سیاست اور معیشت میں محض دعوؤں سے مقام حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کیلئے مستقل مزاجی، شفاف حکمت عملی اور داخلی استحکام ناگزیر ہیں ۔ بھارت کیلئے یہ سال ایک تنبیہ کے طور پر سامنے آیا ہے کہ داخلی مضبوطی کے بغیر علاقائی یا عالمی برتری کا خواب ادھورا رہتا ہے۔ آنیوالے برس میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ نئی دہلی اس تجربے سے کیا سیکھتی ہے اور کیا وہ اپنے بڑھتے ہوئے چیلنجز کا موثر جواب دینے کی صلاحیت پیدا کرپاتی ہے یا نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے