

ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے پاکستان کے دورے کے دوران مسلم اقوام کے متحد محاذ اور علاقائی سلامتی کے نئے ڈھانچے کی تعمیر پر زور دیا۔عالمی منظر نامے میں ہونے والی تبدیلیوں اور مسلم ممالک کو درپیش مسائل کے پیش

انسانی تاریخ کا ہر دور ایسے امتحانات سے عبارت رہا ہے جنہوں نے حق اور باطل کے درمیان لکیر کھینچی ہے۔ ان گنت شخصیات میں اگر کوئی ہستی اس امتیاز کو سب سے زیادہ وضاحت، جرأت اور دوام کے ساتھ

نواسہ رسول حضرت امام حسین نے اپنے اہلِ بیت اور وفادار ساتھیوں کے ساتھ میدان کربلا میں حق و صداقت، صبر و استقامت، قربانی اور وفا کی ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ کربلا

5 جولائی 1977 پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دن تھا۔ اس روز جنرل محمد ضیا الحق نے منتخب حکومت کا تختہ الٹتے ہوئے ملک میں مارشل لا نافذ کیا اور 1973 کے آئین کو معطل کر

آج پوری دُنیا کے ایوانوں سے ایک ہی آواز بلندہورہی ہے”شکریہ پاکستان ۔ پاکستان زندہ باد”۔بلاشبہ وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمدشہبازشریف،سپہ سالار ، فیلڈ مارشل ،آرمی چیف حافظ جنرل سیدعاصم منیرکی کاوشیں انتہائی قابل تحسین اور پاکستان کیلئے باعث

تاریخِ انسانی میں بعض واقعات محض ایک تاریخی واقعہ نہیں رہتے بلکہ وہ زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہو کر ایک عالمگیر پیغام اور دائمی فکر کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ واقع کربلا بھی ایسا ہی ایک

وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کی قیادت کا پاکستان کے ثالث کے کردار پر اعتماد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد اپنی سفارتی کوششوں کو “دائمی امن کے حصول تک” جاری رکھے گا اور اس عزم

60ھ میں یزید کے بر سر اقتدار آنے اور نواسہ رسول حضرت امام حسین کا بیعت سے انکار کے بعد آپ نے اپنے اہل و عیال سمیت 28رجب 60ھ کو مدینہ چھوڑا ۔28رجب 60ھ تا عصر عاشور محرم 61ھ امام

بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات ایسے لمحات جنم لیتے ہیں جو نہ صرف دو ممالک کے تعلقات بلکہ پورے خطے اور عالمی نظام کے مستقبل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مذاکراتی عمل بھی

عالمی سیاست میں بعض مواقع ایسے آتے ہیں جو نہ صرف دو ممالک کے تعلقات کو متاثر کرتے ہیں بلکہ پورے خطے اور بین الاقوامی نظام پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری