

جب دنیا انسانیت پر گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا تھا ،ظلم و بربریت عروج پر تھی،قتل و غارت کا بازار گرم تھا ،شرک و بت پرستی عام تھی الغرض ہر اعتبار سے اولاد آدم بحیثیت مجموعی شر میں مبتلا اور

حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ پوری انسانیت کیلئے ایک مکمل ضابط حیات ہے۔ آپۖ کی تعلیمات نے نہ صرف عرب کے ایک منتشر اور قبائلی معاشرے کو ایک مہذب اور منظم امت میں تبدیل
تاریخ انسانی میں جتنی مدح سرائی ممدوح کائنات، جان رحمت ، محسن انسانیت، رحمت العالمین، خاتم النیین صل اللہ علیہ والہ و سلم کی شان میں ہوئی وہ امتیاز کسی اور کو حاصل ہونا ناممکن۔ برصغیر پاک و ہند کو

یہ امر قابل ذکر ہے کہ بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان سفارتی تعلقات ایک مرتبہ پھر اہم موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔بنگلہ دیشی وزیراعظم طارق رحمان کے ممکنہ دورہ بھارت کے حوالے سے ڈھاکا نے واضح کر دیا ہے

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ علیہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے سلسلے میں آیات و کرامات بے شمار ہیں جن میں سے چند ایک یہ ہیں کہ ایوان کسریٰ لرز اٹھا ،اس

منصب کو صرف مشاورتی کردار تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اسے وسیع انتظامی اور آپریشنل اختیارات بھی دیے گئے ہیں۔ ان میں تینوں افواج کے درمیان آپریشنل ہم آہنگی، مشترکہ تربیت، تنظیم، جنگی تیاری، رابطہ کاری اور دفاعی شعبوں

گوگل کا پاکستان میں باقاعدہ دفتر کھلنا صرف ایک بڑی کمپنی کے دفتر کا افتتاح نہیں، بلکہ ہمارے نوجوانوں کیلئے ایک بڑا موقع بن سکتا ہے۔ پاکستان میں لاکھوں نوجوان مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر، فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور نئی

عدالت عظمیٰ کے ریٹائرڈ جسٹس منصور علی شاہ صاحب نے عدلیہ کے کردار پر تنقیدی کالم میں لکھا کہ ملک کو سب سے سنگین نقصان جرنیلوں یا بیوروکریٹس نے نہیں بلکہ ججوں نے پہنچایا ہے۔ معلوم نہیں ان ججوں میں

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے گرینڈ ڈائیلاگ کی دعوت اسی سوچ کی عکاس ہے کہ اختلافات اور شکایات کا مستقل حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ بات چیت، اعتماد سازی اور باہمی

کسی ملک کی ترقی کا اندازہ صرف بلند عمارتوں، موٹرویز، زرِمبادلہ کے ذخائر یا اسٹاک مارکیٹ کے اعداد سے نہیں ہوتا؛ بلکہ اس ملک کے شہریوں سے ہوتا ہے کہ وہ کتنے محفوظ، بااختیار اور معاشی طور پر متحرک ہیں۔