1857 ء کی جنگ ِ آزادی شاید کامیابی سے ہمکنار ہوسکتی تھی لیکن اپنے منطقی انجام سے پیشتر ہی آخری مغل فرمانروا بہادرشاہ ظفر اور ان کے سپہ سالار جنرل بخت خان کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوگئے حالانکہ جنگ آزادی میں جب جرنیل بخت خان کی سرکردگی میں عارضی طور پر بہادرشاہ ظفر کی بادشاہت بحال کرتے ہوئے نظم ونسق قائم کرنے کی کوشش کی گئی تو ایسے میں بادشاہ بہادرشاہ ظفرنے ایک مجلس تشکیل دی جس کا منشور و دستوری نظام علامہ فضل حق خیرآبادی نے مرتب کرتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھا تھا کمپنی بہادر کی لْولی لنگڑی بادشاہت کی بجائے باقاعدہ حکومت تشکیل دی جائے سب کے حفظ ِ مراتب اور اختیارات کا تعین بھی کیا گیا تھا لیکن باہمی کشمکش کے باعث سپہ سالار جنرل بخت خان دلبرداشتہ ہوکر نامعلوم مقام پر چلے گئے غالب امکان یہ ہے کہ انہوں نے انگریز کے ہاتھوں گرفتاری کی ذلت کی بجائے خودکشی کرنا زیادہ بہتر سمجھا اس موقعہ پر قیامت کا منظرتھا آخری مغل فرمانروا بہادرشاہ ظفر کے وفادار سپاہیوںکو یکے بعد دیگرے موت کے گھاٹ اتاردیا گیا بادشاہ کے 6 نو عمرشہزادوں اور جواں سال بیٹے جواں بخت مرزا کے سر انگریزوں نے قلم کرکے ایک خوبصورت ٹرالی میں سجاکربادشاہ کو ناشتہ بھجوایا جنہیں دیکھ کر بہادر شاہ ظفر چکرا کر گرنے ہی والے تھے کہ ان کی ملکہ زینت محل نے اپنے ہاتھوںمیں تھام لیا وہ دونوں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے دہلی کے لال قلعہ سے آہوں، سسکیوں اور بین کی صدائیں بلندہوتیں اور قلعہ کی مضبوط درو دیوارکو ٹکرا کر دم توڑ دیتیں بادشاہ کے غمگسار چین افراد ہی تھے جن میں زندہ بچ جانے والا ننھا پوتا ، ایک ملازمہ اور ملکہ زینت محل شامل تھی یہ تھی مغلیہ تاجدارکی کل سلطنت۔ ملکہ زینت محل بھی ملکہ الزیبتھ کی طرح ایک ملکہ تھیں۔ اپنے دور کی انتہائی خوبصورت ترین ملکہ آخری مغل تاجدار مرزا ابو ظفر بہادر شاہ کی اہلیہ نواب زینت محل کی عمر ابھی 34 برس تھی جب شاہ ہندوستان کو جلا وطن کیا گیا اس وقت وائسرائے نے ملکہ کو مشورہ دیا گیا کہ بوڑھے بادشاہ کے ساتھ رنگون(کالا پانی) جانے سے بہتر ہے یہاں دہلی میںرہ جاؤ۔ لیکن آفرین اس نے جواب تھا میرا جینا مرنا بادشاہ حضور کیساتھ ہے میں اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک بادشاہ سے وفا کروں گی یہ سن کر بادشاہ نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا زینت تم واقعی میرے دل کی زینت ہو ۔ رنگون کے گیراج نما قید خانے میں مغل شاہی خاندان کیساتھ جو سلوک کیا گیا تاریخ اس پر آج بھی نوحہ کناں ہے، انسانیت شرمندہ ہے اور بادشاہ کے غمگساروں پروفا ناز کرتی ہے آخری مغل فرمانروا بہادرشاہ ظفر کے خاندان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ دنیا کے کسی شاہی خاندان کیساتھ نہیں ہوا بادشاہ نے 10 برس اس تنگ و تاریک گیراج میں گزاردئیے قیدیوں کا حسن ،جوانی سب کچھ ملیا میٹ ہوگئے اس مصیبت زدہ خاندان نے اپنے سامنے اپنے پوتے کو انتہائی بے بسی کے عالم میں ایڑیاں رگڑتے ہوئے دم توڑتے دیکھا انگریز کمشنر ڈیوس نے بیمار شہزادے کیلئے دوا تک پہنچنے نہیں دی۔ میت کو اپنی نگرانی میں دفنانے کی اجازت نہ دی خوراک انتہائی ناکافی، باسی اور غیرمعیاری ہوتی احتجاج کے باوجود انگریز سرکار پر کوئی اثرنہ ہوتاملکہ زینت محل اپنے بادشاہ حضور کیلئے تازہ ہو اور چہل قدمی کی خاطر سفاک داروغے سے منت سماجت کرتی رہیں۔ 87 برس کی عمر میں بروز جمعہ، 7 نومبر 1862 صبح پانچ بجے ہندوستان کے آخری مغل بادشاہ کی زندگی کا سورج غروب ہوگیااس وقت اکیلی ملکہ اپنے شوہرکی لاش کے پاس بیٹھی آنسوئوں کے موتی بکھیر رہی تھیں انگریز سپاہیوں نے ملکہ کو دھکے دے کر لاش اٹھائی اور جلدی جلدی دفنا کر قبر میں چونا ڈال دیا گیا بادشاہ کو ایک گمنام قبر میں اتارا گیا تھا۔انگریز کمشنر کے بقول محمڈن رول کی آخری نشانی بھی مٹ گئی۔ فرمان جاری ہوا کہ بادشاہ کا کوئی رشتہ دار وارث ہونے کا دعویدار نہیں ہے حالانکہ درجنوں حقیقی ورثاء زندہ تھے مغل بادشاہ کے20 بیٹے تھے جن میں صرف 2 شہزادے بھیس بدل کر جان بچانے میں کامیاب رہے تھے شنیدہے کہ بعض شہزادے جیلوں میں بھی ڈالے گئے جو دہلی میں قتل ہونے سے بچ نکلے وہ برما اور ہندوستان کی سرزمین میں روپوش ہوگئے ۔ بادشاہ کے ساتھ وفا نبھانے کیلئے رنگون میں ہجرت کر کے آنے والے مغل شاہی خاندان کے لوگ اپنی دکھیاری ملکہ زینت محل کو اپنے پاس لے گئے۔ جو روکھی سوکھی کھاتے، پہلے ملکہ کو پیش کرتے، عزت و تکریم سے پیش آتے۔ لیکن غم کیسے کم ہوتا۔ بیوہ ملکہ مرحوم بادشاہ کی حالت کو یاد کرتیں، خود گریہ کرتیں اور شاہی خاندان کی عورتیں بھی آہیں بھرتیں۔ اسی عالم حزن میں ملکہ زینت محل 63 برس کی عمر میں وفات پاگئیں وصیت کے مطابق برما کے مسلمانوں نے ملکہ کو بھی بادشاہ حضور کے پہلو میں دفنا دیا بعد ازاں چندہ جمع کرکے درگاہ بنادی گئی۔ آغاز بھی وفا، انجام بھی وفا کہتے ہیں کہ آج بھی اس درگاہ پر ہر وقت قرآن کی تلاوت ہوتی رہتی ہے بادشاہ حضور اور ملکہ زینت محل کی مغفرت کی دعائیں مانگی جاتی ہیں سچ تو یہ ہے کہ نواب زینت محل نے ایک مشرقی خاتون ہونے کا حق ادا کردیا اس نے سچ کہا تھا میرا جینا مرنا بادشاہ کے ساتھ ہے اس نے آخری وقت تک بادشاہ کو تنہانہیں چھوڑا مغل ملکہ نواب زینت محل کیساتھ یہ انسانیت سوز سلوک برطانوی ملکہ وکٹوریہ کے عہدمیں ہو اتفاق کی بات ہے کہ برطانوی ملکہ اور مغل ملکہ دونوں کی شادی 1840ء میں ہوئی تھی۔ملکہ وکٹوریہ شاہی کروفر کیساتھ وہ زیورات پہنتی تھیں جو ملکہ زینت محل کو شادی کے وقت بادشاہ سلامت بہادرشاہ ظفر نے تحفے میں دئیے تھے۔ جنہیں 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران لال قلعہ کی لوٹ مار کے دوران انگریز فوجیوں نے ملکہ زینت محل سے چھینا تھا۔یہ نادر زروجواہرات ملکہ الزبتھ دوئم بھی پہنتی رہیں۔وہ کوہ نور ہیرا اپنے تاج میں سجاتی تھیں جسے نواب زینت محل کے تاج سے زبردستی نکال لیا گیا تھا برطانوی ملکہ کی ذاتی ملکیت میں مغل خاندان سے لوٹی ہوئی دولت بھی آج بھی شامل ہے۔ ملکہ الزبتھ کو سرکاری طور پر یاد رکھا جائے گا لیکن ملکہ زینت محل کروڑوں لوگوں کے دلوں میں بغیر شاہی پروٹوکول کے زندہ رہیں گی۔ آج بھی برما کے مسلمان اس شاہی جوڑے کے مقبرے کا بہت احترام کرتے ہیں جن کو اپنے ہی وطن میں جبری جلاوطن کردیاگیا جن کے شہزادوں کو ان ی آنکھوںکے سامنے قتل کردیا گیا جن کی کھربوں مالیت کے ہیرے جواہرات کو بے دردی سے لوٹ لیا گیا یہ بھی تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ آخری مغل فرمانروا بہادرشاہ ظفر اوران کے خاندان کو کوڑی کوڑی کا محتاج بنادیا گیاحالانکہ انگریز خودکو انسانی حقوق کا بہت بڑا علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں درحقیقت یہ مسلمانوں کے مجرم ہیں ،برصغیرکو لوٹنے والے ڈاکو ہیں۔ آخری مغل فرمانروا بہادرشاہ ظفر اور ان کے خاندان کے قاتل ہیں اس درندگی پر تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرسکتی جب بھی تا ریخ کے اوراق گردانی کی جائے گی بہت سے گم شدہ صفحات میں آخری مغل فرمانروا بہادرشاہ ظفر کا تذکرہ ہوتاہوگایقینا سفاکی، ظلم و بربربت اور سنگدلی کی انتہادیکھ کر تاریخ کی بھی چیخیں نکل جاتی ہوں گی۔
ملکہ زینت محل

