یہ امر خصوصی خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کی داخلی سلامتی اور بیرونی مداخلت کے حوالے سے بہت سی قیاس آرئیوں کا سلسلہ جاری ہے۔اسی تناظر میں کئی معروف تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی جانب سے کئی طرح کے دعوے کےے گئے ہےں۔ اس سارے معاملے کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ جنرل فیض حمید کی پاکستان کے سیاسی معاملات اور پی ٹی آئی کی حمایت میں ملوث ہونے کے کئی شواہد سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں میں ایک ہلچل مچی ہوئی ہے بلکہ خود آئی ایس پی آر کی جانب سے بھی اس امر کی تصد یق سامنے آچکی ہے کہ فیض حمید اور ان کے ساتھیوں کے خاصے روابط ایسے تھے جنہےں ملکی سلامتی کےلئے کسی طور مستحسن قرار نہےں دیا جاسکتا۔ یہاں اس امر کا تکذکرہ بھی بےجا نہ ہوگا کہ اگرچہ جنرل فیض حمید نے تاحال اپنے ان مشکوک رابطوں کی تصدیق نہےں کی اور وہ مصر ہےں کہ انہوں نے اپنے دور ملازمت کے دوران جو کچھ بھی ہے وہ ان کی ادارہ جاتی ذمہ داریوں کا حصہ تھا۔ مبصرین کے مطابق پاکستان کی سیاسی تاریخ میں فوجی مداخلت اور سیاست میں ان کے کردار کے معاملات ہمیشہ زیر بحث رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کا نام ایک بار پھر تنازع کا مرکز بن گیا ہے اور یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے اپنی عسکری حیثیت کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو سیاسی فوائد پہنچائے اور ۹ مئی کے ہنگامہ خیز واقعات میں بالواسطہ یا بلاواسطہ کردار ادا کیا ۔ کسے معلوم نہےں کہ ۹ مئی کو چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے تھے جن میں فوجی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ ان مظاہروں کو ملکی تاریخ کا ایک سنگین باب قرار دیا گیا، جہاں سیاست اور فوج کے درمیان تعلقات کا سوال مزید پیچیدہ ہو گیا ۔ ناقدین نے ان واقعات کے پیچھے مبینہ طور پر جنرل فیض حمید کی حمایت اور ممکنہ مداخلت کے امکانات پر بات کی۔یاد رہے کہ جنرل فیض حمید، جنہیں عمران خان کی حکومت کے دوران ایک کلیدی شخصیت سمجھا جاتا تھا، پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے پی ٹی آئی کے سیاسی معاملات میں مداخلت کی اور انہیں مضبوط کرنے میں مدد فراہم کی۔ سنجیدہ حلقوں کے مطابق جنرل فیض حمید کی جانب سے کی جانے والی مبینہ حمایت نے نہ صرف پی ٹی آئی کو سیاسی طاقت بخشی بلکہ فوج اور عوام کے درمیان ایک غیرمعمولی تنازع بھی پیدا کیا۔ حالانکہ پی ٹی آئی کے رہنما ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں اور اسے صرف ایک پروپیگنڈا قرار دیتے ہیں۔ تاہم، اکثرحلقے ان الزامات کو محض اتفاق نہیں سمجھتے بلکہ اس میں ایک منظم منصوبہ بندی کی جھلک دیکھتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ۹ مئی کے واقعات میں فوجی تنصیبات پر حملے اور حساس مقامات کو نشانہ بنانا اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا یہ سب کسی اندرونی منصوبے کا حصہ تھا؟ کیا مظاہرین کو واقعی کسی اندرونی حمایت یا منصوبہ بندی کی بنا پر ہدایت ملی تھی؟ جنرل فیض حمید پر عائد الزامات نے ان سوالات کو مزید تقویت دی ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ان مظاہروں کے پیچھے عسکری حمایت یا کسی سابق فوجی افسر کی شمولیت تھی، تو یہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری تاریخ میں ایک نیا موڑ ہو سکتا ہے۔ یہ امر بھی توجہ کا حامل ہے کہ ۹ مئی کے واقعات کے بعد عوام میں غم و غصہ بڑھا، اور کئی حلقوں نے ان حملوں کو بجاطور پر ناقابل قبول قرار دیا۔ فوجی قیادت نے ان مظاہرین کو سخت کارروائی کی دھمکی دی اور واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے اس دوران جنرل فیض حمید اور بانی پی ٹی آئی کے کردار پر بھی تنقیدی نظریں اٹھیں جس نے اس تنازع کو مزید پیچیدہ کر دیا۔ پاکستان کی سیاست میں ۹ مئی کے واقعات ،عمران خان کے کر دار اور جنرل فیض حمید کی حمایت یا مداخلت کے الزامات ایک سنگین مسئلہ ہیں۔ اس تنازع نے نہ صرف عسکری اور سیاسی تعلقات کو متاثر کیا ہے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے۔ اگر ان مسائل کو بروقت حل نہ کیا گیا تو یہ ملک کی سلامتی اور جمہوری روایات کےلئے ایک بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔یہاں یہ امر بھی خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ عمران خان نے نام نہاد سول فرمانی کی تحریک شروع کرنےکی دھمکی دی ہے وہ محتاط ترین الفاظ میں بھی پاکستان کی سلامتی پر براہ راست حملہ ہے ایسے میں توقع کی جانی چاہےے کہ قوم کے بھرپور تعاون سے ان اندارونی اور بیرونی سازشوں کا قلع قمع کر دیا جائے گا۔
ملکی سلامتی پر حملہ آور؟

