کسی ایک پر بھی ٹھہر کر سوچنے کی عادت کھو دیتا ہے۔ یہی عادت مطالعے کی دشمن ہے۔ کتاب انسان کو رک کر سوچنا سکھاتی ہے، ایک خیال کے ساتھ وقت گزارنا سکھاتی ہے، اور ذہنی ارتکاز پیدا کرتی ہے۔ اس کے برعکس سوشل میڈیا انسان کو ایک ایسے بہاؤ میں بہا لے جاتا ہے جہاں گہرائی کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ نتیجتاً ایک ایسا ذہن تشکیل پاتا ہے جو ہر چیز کے بارے میں تھوڑا بہت جانتا ہے، مگر کسی بھی چیز کو پوری طرح سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔یہ حقیقت بھی تلخ ہے کہ ہمارے ہاں کتاب کا کلچر مسلسل زوال کا شکار ہے۔ لائبریریاں ویران ہو رہی ہیں، کتابوں کی دکانیں کم ہوتی جا رہی ہیں، اور گھروں میں کتابیں الماریوں کی زینت بننے کے بجائے تقریباً ناپید ہو چکی ہیں۔ والدین بچوں کو مہنگے موبائل فون تو خرید کر دیتے ہیں مگر کتاب خریدنے کو غیر ضروری خرچ سمجھتے ہیں۔ تعلیمی ادارے ڈگری دینے کے مراکز تو بن چکے ہیں مگر مطالعے کا شوق پیدا کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ یہ صورتحال محض تعلیمی بحران نہیں بلکہ فکری بحران ہے، جس کے اثرات آنیوالی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔سوشل میڈیا کے دور میں ایک اور خطرناک رجحان “فیک نیوز” اور گمراہ کن معلومات کا ہے۔ جب مطالعے کی عادت کمزور ہو جاتی ہے تو انسان ہر سنی سنائی بات پر یقین کرنے لگتا ہے۔ کتاب اس کے برعکس تحقیق، تصدیق اور تنقیدی سوچ کو فروغ دیتی ہے۔ ایک قاری محض خبر نہیں لیتا بلکہ اس کے پس منظر، اس کے محرکات اور اس کے اثرات کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ صلاحیت ہے جو ایک باشعور شہری کو ہجوم سے ممتاز کرتی ہے۔کتاب انسان کو سوال کرنا سکھاتی ہے، سوچنے کا ہنر دیتی ہے، اور اختلافِ رائے کا حوصلہ پیدا کرتی ہے۔ یہی وہ عناصر ہیں جو ایک زندہ معاشرے کی پہچان ہوتے ہیں۔ جب کتاب کا رشتہ کمزور ہوتا ہے تو معاشرہ جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسے معاشرے میں تقلید بڑھتی ہے، تحقیق ختم ہو جاتی ہے اور تخلیقی صلاحیتیں دم توڑنے لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ قومیں آج بھی کتاب کو اپنی بنیاد سمجھتی ہیں۔ وہاں لائبریریاں صرف عمارتیں نہیں بلکہ فکری مراکز ہوتی ہیں جہاں علم زندہ رہتا ہے اور نئی سوچیں جنم لیتی ہیں۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کتاب محض علم کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان کی شخصیت کی تعمیر کا بھی ایک طاقتور وسیلہ ہے۔ ایک اچھی کتاب انسان کو اندر سے بدل دیتی ہے۔ اس کے خیالات کو وسعت دیتی ہے، اس کے رویوں کو نکھارتی ہے، اور اسے دنیا کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ کتاب انسان کو تنہائی میں بھی ایک بہترین رفیق فراہم کرتی ہے۔ یہ وہ دوست ہے جو نہ کبھی دھوکہ دیتا ہے، نہ چھوڑ کر جاتا ہے، اور نہ ہی کسی مفاد کے تحت ساتھ دیتا ہے۔ڈیجیٹل دور میں ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ کتاب نے نئی شکلیں اختیار کر لی ہیں۔ ای بکس، آڈیو بکس اور آن لائن لائبریریاں علم تک رسائی کو مزید آسان بنا رہی ہیں۔ مگر مسئلہ شکل کا نہیں، عادت کا ہے۔ اگر پڑھنے کی عادت موجود نہ ہو تو کاغذی کتاب ہو یا ڈیجیٹل، دونوں بے معنی ہو جاتے ہیں۔ اس لیے اصل ضرورت مطالعے کی عادت کو فروغ دینے کی ہے، نہ کہ صرف ذرائع بدلنے کی۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا اور کتاب ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ اگر درست انداز میں استعمال کیے جائیں تو ایک دوسرے کے معاون بن سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کو کتابوں کے فروغ کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کتابوں پر مباحثے، ریویوز، اور مصنفین کے خیالات کو عام کر کے مطالعے کا رجحان بڑھایا جا سکتا ہے۔ دنیا بھر میں “بک کلبز” اور “ریڈنگ چیلنجز” اسی حکمت عملی کے تحت کامیابی سے چل رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس پہلو پر سنجیدگی سے کام نہیں کیا گیا۔مگر اس تمام حقیقت کے باوجود ہم نے کتاب سے دوری اختیار کر لی ہے۔ ہم نے آسان راستہ چن لیا ہے، فوری معلومات کو ترجیح دی ہے، اور گہرے مطالعے سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔ یہ رویہ وقتی طور پر سہولت تو فراہم کرتا ہے مگر طویل المدت طور پر ہمیں فکری طور پر کمزور بنا دیتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر ہم نے کتاب سے اپنا رشتہ بحال نہ کیا تو ہم ایک ایسی نسل تیار کریں گے جو معلومات کے بوجھ تلے دبی ہوگی مگر علم سے محروم ہوگی۔کتابوں کا عالمی دن ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنے رویوں کا جائزہ لیں۔ ہم یہ سوچیں کہ ہماری زندگی میں کتاب کی کیا حیثیت ہے۔ کیا ہم روزانہ چند صفحات پڑھنے کا وقت نکال سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنے بچوں کو کتابوں سے روشناس کرا سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنے گھروں میں ایک چھوٹی سی لائبریری قائم کر سکتے ہیں؟ یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری بھی اس حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ لائبریریوں کو فعال بنائے، کتابوں کی اشاعت کو فروغ دے، اور مطالعے کے کلچر کو عام کرنے کیلئے عملی اقدامات کرے۔ تعلیمی نصاب میں بھی ایسی تبدیلیاں لانی ہوں گی جو طلبہ کو محض امتحان پاس کرنے کے بجائے علم حاصل کرنے کی ترغیب دیں۔ اساتذہ کا کردار بھی کلیدی ہے، کیونکہ وہی طلبہ میں مطالعے کا شوق پیدا کر سکتے ہیں۔میڈیا کا کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر میڈیا سنجیدہ موضوعات کو جگہ دے، کتابوں پر پروگرامز کرے، اور مصنفین کو نمایاں کرے تو مطالعے کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا میڈیا بھی زیادہ تر تفریح اور سنسنی خیزی کی طرف مائل ہے، جس کی وجہ سے سنجیدہ موضوعات پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ اگر ٹی وی چینلز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ہفتہ وار “کتاب پروگرام” شروع کریں تو یہ ایک مثبت پیشرفت ہو سکتی ہے ۔تئیس اپریل کا دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ کتاب کو محض ایک دن تک محدود نہ کریں بلکہ اسے اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ کیونکہ کتاب ہی وہ چراغ ہے جو جہالت کے اندھیروں کو روشنی میں بدل سکتا ہے اور یہی چراغ ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو روشن کر سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *