Site icon Daily Pakistan

کپتانی میڈیا کا پاکستان کےخلاف نیا محاذ

یہ امر خاصا دلچسپ ہے کہ دو ماہ قبل عمران خان نے بیرسٹر گوہر علی خان کو پی ٹی آئی کا چیئرمین مقرر کیا تھا اس پر خود پی ٹی آئی کے تمام نظریاتی کارکن حیران اور پریشان تھے کہ آخر کپتان نے یہ گوہر نایاب کہاں سے تلاش کیا کیوں کہ موصوف ایک برس پہلے تک پی پی کے سرگرم کارکن تھے اور پی پی کے ٹکٹ پر ہی انہوں نے کے پی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑا تھا ۔ایسے میں خود عمران بھی خاصے پریشان لگتے ہےں کیوں کہ انہےں یہ اندیشہ ستا رہا ہے کہ گو ہر یا لطیف کھوسہ جیسے لوگ پارٹی کو آئی جیک تو نہےں کر چکے کیوں کہ علی محمد خان اور حا مد خان جیسے دیرینہ پی ٹی آئی کارکنوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرکے گو ہر کو پارٹی کا چیئرمین بناناکسی کی بھی سمجھ سے بالاتر ہے ۔ایسے میں سبھی حیران بھی ہےں اور پریشان اور انہےں بجا طور پر یہ فکر ستا رہی ہے کہ کہےں ہی ہاتھ سے نہ چلی جائے ۔ایسے میں خود عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنوں کو یہ اندیشہ ہائے دور دراز بھی پریشان کر رہا ہے کہ
کہےں ایسا نہ ہو جائے
کہےں ویسا نہ ہو جائے
دوسری جانب سنجیدہ حلقوں کے مطابق پی ٹی آئی نے امریکا میں پاکستان کے خلاف نیا محاذ کھولنے کی تیاری کرلی ہے اور اسی تناظر میں پی ٹی آئی کی جانب سے عام انتخابات سبوتاژ کرنے اور ریاستی اداروں پر منظم حملے کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں۔جن کے مطابق الیکشن 2024 کے حوالے سے پی ٹی آئی کی امریکا اور پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کا انکشاف ہوا ہے جس کیلئے لاکھوں ڈالرز پی ٹی آئی کے اوورسیز ارکان اور مختلف کرداروں نے فراہم کئے ہیں۔مبصرین کے بقول پی ٹی آئی کی اس نئی منصوبہ بندی کا مقصد پاکستان پر سفارتی و انسانی حقوق کے اداروں کے ذریعے دبا¶ بڑھانا ہے علاوہ ازیںحکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر عالمی دبا¶ ڈلواکر بانی پی ٹی آئی کیلئے رعایت کا حصول اصل ہدف ہے یاد رہے کہ سنگین نوعیت میں ملوث مخصوص سیاسی جماعت کے سربراہ رعایت کے خواہش مند ہےں ۔اسی تناظر میں بانی پی ٹی آئی اور ساتھیوں کو 9 مئی کے پھندے سے نکلوانا بھی اہم ہدف ہے۔یاد رہے کہ مخصوص سیاسی جماعت کے سربراہ جو اس وقت سنگین نوعیت کے پانچ کیسز میں ملوث ہےں وہ غیر ملکی سفارتی دبا¶ کے ذریعے اپنے جرائم کی سزا میں رعایت چاہتے ہےں اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پانچ قانونی کیسز کو بڑھا چڑھا کر دو سو کیسز کا ڈھونگ رچایا جارہا ہے اور یہ معاملہ مبالغہ آرائی کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے ۔اسی ضمن میں غیر جانبدار حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ 9 مئی کو فالس فلیگ آپریشن ثابت کر کے افواج اور عوام میں خلیج پیدا کرنا بھی پی ٹی آئی کے اہم اہداف میں شامل ہے اور انتخابات کو متنازع بنانا اور پی ٹی آئی کو مقبول ترین جماعت ظاہر کیا جانا منصوبے کا اہم ترین حصہ ہے۔ذرائع کے مطابق منصوبے پر عملدرآمد کی شروعات بھی کر دی گئی ہیں، جس کے ثبوت اداروں کے ہاتھ لگ گئے ہیں۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی مذموم مقاصد کے لیے امریکی ایوان نمائندگان اورانسانی حقوق کے اداروں میں بھی قراردادیں جمع کروائی گئیں تھیں۔علاوہ ازیں تحریک انصاف بار باریہ بیانیہ بھی پیش کر تی رہی ہے کہ اگر اس کی قیادت کسی طرح بھی نااہل ہو گئی تو گویا سب کچھ ختم ہو جائے گا۔مبصرین کے مطابق عمرانی میڈیا اپنا بیانیہ ہر امبیسی کے حساب سے تبدیل بھی کرتا رہتا ہے ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت کے پاس اپنے تمام تر الزامات کے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہیںاس کے باوجود تحریک انصاف کے لیڈر اکثر بیرون ملک حکومتوں سے براہ راست مداخلت کا مطالبہ کرتے ہیں جو دیکھا جائے تو پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کے مترادف ہے۔اسی پس منظر میں غیر جانبدار ذرائع نے رائے ظاہر کی ہے کہ اسے ستم ظریفی ہی کہا جا سکتا ہے کہ 9مئی کے سیاہ ترین واقعات کے ٹھوس شواہد سامنے آنے کے باوجودپی ٹی آئی تا حال اسی سعی میں مصروف نظر آتی ہے کہ بھارتی اور کچھ اپنے ا مریکی ہم نواﺅں کے ساتھ ملکر یہ بیانیہ ترتیب دے سکے کہ پاکستان میں پی ٹی آئی کے خلاف انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہےں ۔نسبتاً کچھ اعتدال پسند حلقوں کے مطابق اپنے غیر ملکی آقاﺅں کی مدد سے پی ٹی آئی اپنا بیانیہ بیچنے میںکسی حد تک کامیاب بھی نظر آتی ہے جس پر بجا طور پر تشویش ظاہر کیا جانا ضرورت وقت بھی ہے اور حالات کا تقاضا بھی۔

Exit mobile version