اسرائیل کا قطر پر حملہ خلاف توقع ہے۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اسرائیل قطر پربھی اعلانیہ حملہ کر د ے گا حالانکہ امریکہ کا قطر کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے ۔دنیا نے حیرت کے ساتھ دیکھا کہ اسرائیل نے قطر پر حملہ کیا اور امریکہ خاموش تماشائی بنا رہا۔ یہ وہی قطر ہے جہاں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ موجود ہے اور جس کے ساتھ امریکہ کا دفاعی معاہدہ بھی ہے۔ اربوں ڈالر کے اخراجات، سرمایہ کاری کے وعدے، حتیٰ کہ امریکی صدر کو خوش کرنے کے لیے ذاتی تحائف وغیرہ کی عنایت بھی کی تھی سب کچھ کرنے کے باوجود جب وقت آیا تو امریکہ قطر کے لیے ایک قدم نہ اٹھا سکا۔ یہ واقعہ اس سچائی کو بے نقاب کرتا ہے کہ امریکہ جیسی بڑی طاقت بھی اصل میں اتنی بااختیار نہیں جتنی دکھائی دیتی ہے۔ٹرمپ ہوں یا بائیڈن، ان کی حیثیت محض نمائشی ہے۔ اصل طاقت ان کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ان طاقتور گروہوں کے پاس ہے جو عالمی مالیاتی اداروں، اسلحہ ساز کمپنیوں، میڈیا اور سیاست پر قابض ہیں۔ یہی لوگ اصل فیصلے کرتے ہیں اور حکومتوں کو اپنی مرضی کے مطابق چلاتے ہیں۔ عوام کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ان کا ووٹ تبدیلی لا سکتا ہے، لیکن حقیقت میں فیصلہ کہیں اور ہو چکا ہوتا ہے۔یہ کھیل صرف امریکہ یا یورپ تک محدود نہیں۔ پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک اسی نظام کا حصہ ہیں۔ ہمارے ہاں بھی جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے، لیکن بڑے فیصلے اکثر طاقتور اداروں، عالمی مالیاتی ایجنسیوں یا بیرونی سفارت خانوں میں طے پاتے ہیں۔ اسمبلی میں تقریریں اور جلسوں کے نعرے عوام کو بہلانے کے لیے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتیں بدلتی ہیں لیکن نظام وہی رہتا ہے—قرضوں کا بوجھ بڑھتا ہے، مہنگائی عام آدمی کو کچلتی ہے اور اشرافیہ اپنی مراعات میں اضافہ کرتی ہے۔یہ کوئی نئی بات نہیں۔ تاریخ میں ایسے کئی واقعات ملتے ہیں جہاں طاقتور نظام نے آزاد معیشتوں کو زبردستی کمزور کیا۔ جاپان کو 80 کی دہائی میں ترقی سے روکا گیا، جنوبی کوریا کو 1997 کے بحران میں الجھایا گیا اور لاطینی امریکہ کی ریاستوں میں بار بار فوجی بغاوتیں کروائی گئیں۔ مقصد ہمیشہ ایک ہی رہا: کوئی ملک خودمختار نہ ہو سکے اور سب عالمی نظام کے ماتحت رہیں۔ پاکستان بھی بارہا ایسے دباؤ کا شکار رہا ہے۔ جب بھی ہم ترقی کی طرف بڑھتے ہیں، کوئی نہ کوئی بحران کھڑا ہو جاتا ہے۔ کبھی سیاسی عدم استحکام، کبھی آئی ایم ایف کی سخت شرائط اور کبھی اندرونی خلفشار اور سب سے ذیادہ نقصان تو پاکستان کو افغان جنگ نے دیا ہے جسے امریکہ نے مقدس عنوان کا نام دیا اور پاکستان کو استعمال کی اس کے نتیجے اصل کھیل طاقت کا ہے۔ کبھی مذہب کے نام پر جنگیں چھیڑی جاتی ہیں، کبھی جمہوریت کے نام پر ممالک توڑے جاتے ہیں اور کبھی انسانی حقوق کا پردہ ڈال کر تباہی مچائی جاتی ہے۔ ان طاقتور گروہوں کے نزدیک اصل مذہب طاقت ہے اور دولت ان کی سب سے بڑی عبادت۔ یہی وجہ ہے کہ یہودی، مسلمان، عیسائی یا ملحد سبھی ان کے ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔لیکن اب وقت بدل رہا ہے۔ ڈالر کی گرفت ڈھیلی پڑ رہی ہے، روس اور چین اپنی کرنسیوں میں تجارت کر رہے ہیں، مشرقِ وسطیٰ میں نئے اتحاد جنم لے رہے ہیں اور یورپ بھی اپنی پالیسیوں کو الگ رخ دینے لگا ہے۔ یہ سب اس بات کا عندیہ ہے کہ وہ فرعونی نظام جس نے صدیوں تک دنیا کو جکڑے رکھا تھا، اب ہلنے لگا ہے۔پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ اگر ہم نے اس موقع کو سمجھ لیا اور اپنی اندرونی صفوں میں اتحاد پیدا کر لیا تو ہم بھی قرضوں اور بیرونی دباؤ سے نکل سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم نے پھر پرانی روش اپنائی تو ہم ہمیشہ دوسروں کے فیصلوں کے محتاج رہیں گے۔ اس کے لیے سب سے اہم یہ ہے کہ ہم شعور بیدار کریں اور اپنے قومی ایجنڈے پر اتفاق کریں۔ اتحاد و خود انحصاری کے بغیر کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔
اسرائیل کا قطر پر حملہ اور امریکی بے بسی!

