بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں ہندوتوا تنظیم دیو بھومی سنگھرش سمیتی نے مسلمان دکانداروں کے معاشی بائیکاٹ کی مہم شروع کی ہے۔ہندوتوا تنظیم نے ریاست میں جہاں بی جے پی کی حکومت قائم ہے مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ کی مہم کا آغاز کرتے ہوئے سنجولی اور ریاست کے دیگر علاقوں میں سبزی فروشوں کی دکانوں پر سناتن سبزی والے کے بورڈز لگائے ہیں۔ مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ کی مہم کا مقصد ہندو دکانداروں کوفروغ دینا اور مسلمانوں کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنانا ہے۔سوشل میڈیا پروائرل ایک ویڈیو میں ہندوتوا کارکن دکانوں کے باہر بورڈ آویزاں کر رہے ہیں اور لوگوں کو مسلمان دکانداروں کے بائیکاٹ کا کہاجارہاہے۔ہماچل پردیش سمیت بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کے اضلاع بالخصوص شملہ، سنجولی اور منڈی میں حالیہ دنوں میں مسلم مخالف مظاہروں اور نفرت انگیز تقاریر میں اضافہ دیکھا گیاہے۔ دیو بھومی جاگرن منچ نامی شدت پسند تنظیم کے نام سے گھر گھر ایک پمفلٹ تقسیم کیا جا رہا ہے جس میں ہندوو¿ں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ مسلمانوں کا اقتصادی اور معاشی بائیکاٹ کریں ، باہر کے کسی شخص کو دکان کرایہ پر نہ دیں اور نہ ہی باہر سے آئے کاریگروںسے کام کرائیں ۔ کسی مسلمان درزی سے کپڑے نہ سلوائیں ، کھانے پینے اور دیگر ضرورت کا سامان صرف ہندو دکانداروں سے ہی خریدیں ۔مودی سرکار کے تیسری بار اقتدار میں آنے کے بعد اقلیتوں کو اکثریتی ہندو تنظیموں کے ہاتھوں دھمکی، ہراساں کیے جانے اور تشدد کے بڑھتے واقعات کا سامنا روز کا معمول بن گیا ۔ ریاست میں کانگریس کی حکومت اس معاملے میں خاموش ہے جبکہ کانگریس کے ریاستی وزیر بھی مسلمانوں اور اسلام کے خلاف بی جے پی رہنماو¿ں کی زبان بول رہے ہیں ۔ حال ہی میں صحت اور حفاظت کے قواعد یقینی بنانے کی آڑ میں مسلم مخالف پالیسی اتر پردیش اور ہماچل پردیش میں متعارف کرائی گئی ہے ۔ اس مسلم مخالف امتیازی پالیسی میں ریستورانوں پر یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے تمام ملازمین کے نام عوامی طور پر ظاہر کریں ۔یہ پالیسی پہلے ہندتوا کے پرچاری اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے متعارف کرائی تھی جو کہ بعد میں ہماچل پردیش میں بھی لاگو ہوچکا ہے۔مقامی لوگوں اور کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ نئے قوانین دراصل مسلمان کارکنوں اور اداروں پر تعصب اور نفرت کی آڑ میں سازش کے تحت حملہ ہیں ۔ مسلم کاروباری مالکان کو تشویش ہے کہ یہ پالیسی سخت گیر ہندو گروپوں جیسے بجرنگ دل کی جانب سےٹارگٹڈ حملوں یا اقتصادی بائیکاٹ کا دروازہ کھولے گی، جس سے ان کے کاروبار کو شدید مندی کا خطرہ ہے۔ہندوستان میں پچھلے پانچ سالوں میں مسلمان دوکانداروں کےخلاف واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ گزشتہ مہینے بجرنگ دل کے ایک ریاستی رہنما کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ویڈیو میں بجرنگ دل کا رہنما حاضرین سے یہ عہد کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ کسی مسلمان دکاندار سے سامان نہیں خریدیں گے۔ نیا لاگو کردہ قانون بی جے پی کی جانب سے مسلم مخالف ایجنڈے کا حصہ ہے، جو معاشرے میں خوف اور تقسیم پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔اتر پردیش کے کاروباری مالکان نے بتایا کہ نئے قوانین کے نتیجے میں انہوں نے مسلم عملے کو برطرف کر دیا ہے، کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ وہ ہندوتوا کے حامیوں کا آسان نشانہ بن جائینگے ۔دیگر مسلم زیرِ کنٹرول کاروباروں نے انکشاف کیا کہ انہیں اس ظالمانہ پالیسی کے باعث شدید ہراساں کیا جا رہا ہے اور بعض تو اپنا کاروبار بند کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔اتر پردیش کے شہر مظفر نگر میں ایک ریسٹورنٹ کے مسلمان مالک، رفیق نے کہا؛ “مجھے اپنے مسلمان عملے کو برطرف کرنا پڑا کیونکہ اس حکم کے بعد میں ان کی حفاظت کےلئے بیحد فکر مند تھا۔یہ امتیازی پالیسی ایک خطرناک سازش ہے جو مسلمانوں کو اقتصادی طور پر مفلوج کرنے اور نفرت کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے! ادریس احمد جو سات سال تک ایک ہندو ریستوران میں باورچی کے طور پر کام کرتے تھے ، کو نوکری سے برطرف کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “میں اپنے خاندان کی کفالت کےلئے یہ نوکری کرتا تھا اورمیں نے محض اپنے مذہب کی وجہ سے یہ نوکری کھو دی”۔ آخر کب تک مودی سرکار مسلمانوں کو امتیازی پالیسیوں کا شکار بناتی رہے گی؟مظفر نگر کے سینئیر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے ایک حکمنامہ جاری کیا تھا جس میں کہا تھا کہ کانوڑ یاترا کے روٹ پر واقع کھانے پینے کی تمام دکانوں، ڈھابوں اور پھل وغیرہ کے اسٹالوں کے باہر ان کے مالکان کے نام لازماً لکھے جائیں تاکہ لوگوں کو کوئی کنفیوژن نہ ہو اور شفافیت یقینی بنائی جاسکے۔دراصل یاترا میں حصہ لینے والے ہندو عقیدت مندوں کا کہنا ہے کہ وہ اس دوران کھانے پینے کی بعض چیزوں اور بالخصوص نان ویج کھانوں سے اجتناب کرتے ہیں۔مختلف حلقوں حتیٰ کہ بعض ہندو مذہبی رہنماﺅں کی طرف سے اس حکمنامے کی مخالفت کے بعد پولیس نے ایک وضاحتی بیان جاری کرکے کہا کہ اس کا مقصد مذہبی تفریق پیدا کرنا قطعی نہیں تھا بلکہ یہ حکم عقیدت مندوں کی سہولت کےلئے جاری کیا گیا تھا۔ پولیس نے اب ایک ایڈوائزی جاری کرکے کہا ہے کہ دکانوں پر نام لکھنا” مالکان کی مرضی پر منحصر” ہو گا۔بی جے پی نے پولیس کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔ بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ نے ایکس پر لکھا کہ اس حکم نامے سے نام نہاد سیکولرسٹوں کو اس لیے تکلیف ہورہی ہے کیونکہ،”بعض مسلمان ہندو نام کی آڑ میں تجارت کرتے ہیں۔ جس سے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے اور بعض اوقات معاملہ تبدیلی مذہب تک پہنچ جاتا ہے ۔
بھارتی مسلمانوں کا معاشی بائیکاٹ

