امریکہ اسرائیل ایران(خلیجی جنگ) جہاں امریکہ اسرائیل خصوصاًایران کیلئے روایتی تباہی بربادی کا باعث بنی ہے وہیں یہ جنگ پاکستان کی عالمی ساکھ کی بہتری کے لئے عطیہ خداوندی ثابت ہوئی ہے ، اس حقیقت کا اندازہ صرف ہمیں ہی نہیں ہوا بلکہ پوری دنیا کے مبصرین دانشوروں محققین کو بھی ہوا ہے جنہوں نے اپنے تجزیوں میں اس کا برملا اظہار کیا ہے ۔پاکستان کی سیاسی عسکری قیادت نے جس کمال مہارت ،عقل و فہم اور دور اندیشی کا مثالی مظا ہرہ کرتے ہوئے نہ صرف جنگ کے شعلوں کو ٹھنڈا کرکہ اس خلیجی جنگ کے آگے بند باندھا اور سیز فائر کروانے میں اپنا کردار ادا کیا اس پر اسے جو خراج تحسین پیش کیا گیا جو تعریف کی گئی اس کے بعد ہمارے مزید تعریف کیلئے کہنے کی ضرورت نہیں لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم کچھ کہنا ہی نہیں چاہتے ۔ہم تو انتظار کر رہے تھے مذاکرات کے نتائج کا جو اب ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں جن کے مطابق متذکرہ مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ہی ختم ہو چکے ہیں اور اس کا ہمیں قبل از نتائج بخوبی اندازہ تھا کہ یہ انتہائی سنگین عالمی مسلہ ہوں چٹکیوں میں محض ایک ہی نشست میں حل ہونے والا نظر نہیں آتا تاہم اس حوالے سے یعنی اس گھمبیر مسلہ کے حل میں پاکستان نے جس دلچسپی خلوص نیت سے سفارت کاری کیلئے اپنے آپ کو پیش کیا اور دوطرفہ بات چیت کیلئے سازگار ماحول فراہم کیا اس کی دنیا معترف ہے سوائے اسرائیل و بھارت کے۔یہ مذاکرات پہلی نشست میں کامیاب کیوں نہ ہوسکے اس کی وجہ معاملات کی سنگینی تو تھی ہی لیکن اس کے درپردہ امریکی وفد کے دو ارکان جن کے نام مصلحتا یہاں اس وقت لینا مناسب نہیں کا تعلق گو کہ براہ راست اسرائیل سے تو نہیں تھا لیکن بلواسطہ طور یعنی اسرائیلی لابی سے ضرور تھا جو امریکی وفد کا حصہ ہی تھے اور مذاکرات کی میز پر براجماں دکھائی دئیے ۔ اس طرح سے ہمیں یہ کہنے میں کوئی باق نہیں کہ اسلام آباد امن مذاکرات میں اسرائیل اگر نہیں تو اسرائیلی لابی ضرور شامل تھی ، یہ تو ہوا ایک اہم ترین انکشاف ، اب آتے ہیں چند ضروری حقائق کی جانب تو ان میں یہ کہ متذکرہ اسرائیل امریکہ ایران کی چوتھی ہولناک جنگ کو دیکھا جائے تو یہ جنگ ایران نے خود سے نہیں چھیڑی اور نہ ہی ایران نے شروع کی بلکہ یہ جنگ تو اسرائیل کی طرف سے ایران پر مسلط کی گئی ،ایران تو اپنا دفاع کر رہا ہے اس لئے شرائط بھی اگر ایران اپنی منوانا چاہتا ہے تو یہ اس کا بنیادی حق بنتا ہے جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا جانا چاہئے ۔رہی بات امریکہ کی تو یہ جنگ امریکہ کی بھی نہیں بلکہ صرف و صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذاتی جنگ تھی جس سے امریکی افواج امریکی قوم کو کوئی لینا دینا نہیں تھا بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ جنگ اسرائیل کی بھی نہیں تھی صرف خبطی اور ذہنی مریض اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کی ذاتی جنگ تھی جس کے پیچھے اسے اسرائیلی عوام کی بالکل حمایت حاصل نہیں تھی ، اگر ان تمام حقائق کو مدنظر رکھ کر بات کی جائے تو یہ دو عالمی جنونی سفاک زہنی مریضوں کی جنگ تھی جس کا مقصد اگر اسرائیل کا گریٹر اسرائیل منصوبہ تھا تو دوسرا امریکہ کا ایران کے تیل کے ذخیروں پر قبضہ کا انتہائی رکیک منصوبہ تھا جسکے ثبوت کے طور پر عراق ، وینزویلا کی مثال دی جاسکتی ہے جسے دنیا کا کوئی مہذب ملک جھٹلا نہیں سکتا ۔یہ ایٹمی صلاحیت ،ابنائے ہرمز وغیرہ وغیرہ سب ڈھکوسلے ہیں جن کا اصل مدعے سے کوئی تعلق نہیں ۔ نتن یاہو کی خباثت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے اس جنگ کو مذہبی جنگ کا روپ دینے سے بھی نہیں ہچکایا اور اس نے اس جنگ میں خلیجی اسلامی ملکوں کو بھی گھسیٹنے کی کوشش کی لیکن آفرین پاکستان کو کہ پاکستان نے اس ک یہ کوشش بھی ناکام بنا دی حالانکہ پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ اپنی جگہ موجود تھا جس کے پیشِ نظر پاکستان جنگ میں اتر سکتا تھا لیکن پاکستان سعودی عرب دونوں نے اس نازک ترین صورتحال میں جس صبر و تحمل برداشت بردباری کا مظاہرہ کیا وہ واقعی قابل تحسین ہے جس کا سہرا اگر ایک طرف وزیراعظم شہباز شریف ،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے سر ہے تو دوسری جانب سعودی فرمانروا محمد بن سلمان کے سر بھی ہے جنہوں نے کمال صبر کا مظاہرہ کیا اور ضبط سے کام لیا ۔اس جنگ میں جہاں خلیجی ممالک صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہے تھے وہاں متحدہ عرب امارات کا افسوسناک ردعمل بھی سامنے آیا جس نے انتہائی عجلت و بیصبری سے کام لیتے ہوئے پاکستان سے اپنا قرضہ واپس لینے کا تقاضا کر کہ اپنی کم ظرفی دکھا دی جس کا سعودی فرمانروا محمد بن سلمان اور قطر کے ولی عہد شہزادہ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے پاکستان کو تین کی بجائے پانچ ارب ڈالرز فراہم کردئیے جس سے پاکستان کے ریزرو کو بڑی حد تک سنبھالا مل گیا ۔
اسلام آباد امن مزاکرات کے حوالے سے مزید یہ کہ گو کہ ان مذاکرات کا مذاکرات کا آغاز میں کوئی حتمی نتیجہ برآمد نہیں ہوا لیکن ان مذاکرات کو کامیابی کی پہلی سیڑھی ضرور قرار دیا جا سکتا ہے ، اب دیکھنا یہ ہے کہ اسلام آباد مذاکرات پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آپنا کیا ردعمل دیتے ہیں اس کے بعد ہی بات بڑھے گی جبکہ دوسری طرف ایران کا موقف تو بالکل واضع ہے جس کی حمایت چین روس پاکستان سمیت مغربی اور یورپی ممالک بھی کر رہے ہیں ، ویسے اس جنگ میں ایران نے جس بہادری نڈرری بے خوفی کا مظاہرہ کیا ہے اس سے اسرائیل امریکہ کے ناقابل تسخیر ہونے کے دعووں کی قلعی کھل گئی ہے اور اب دونوں جارح منہ چھپانے کے چکروں میں پڑے آنسو بہاتے دکھائی دے رہے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *