Site icon Daily Pakistan

سیاسی استحکام،پاکستان کی ترقی کا پہلا زینہ

پاکستان آج ایک نازک مگر فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ ملک میں سیاست کے بادل گہرے ہیں، ادارے دباؤ میں ہیں، اور عوام میں مایوسی کی فضا بڑھ رہی ہے۔سیاسی جماعتوں کی باہمی کشمکش نے ریاستی نظام کو اس قدر متزلزل کر دیا ہے کہ قومی مفاد کی آواز اکثر سیاسی نعروں کے شور میں دب جاتی ہے۔ ایسے میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان سیاسی استحکام کے بغیر اپنی معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے؟ملک کی معیشت اس وقت شدید دباؤ میں ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے خبردار کر چکے ہیں کہ پاکستان کی معاشی شرح نمو آئندہ برس محض دو فیصد کے قریب رہے گی۔ افراطِ زر، بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ اور روپے کی مسلسل گراوٹ نے عوام کی قوتِ خرید کو بے حد کمزور کر دیا ہے۔ مگر ان تمام معاشی مسائل کی جڑ صرف مالیاتی بدانتظامی نہیں بلکہ وہ سیاسی عدم استحکام ہے جس نے پالیسیوں کے تسلسل کو ناممکن بنا دیا ہے۔ہر حکومت اپنے مخالفین کو نیچا دکھانے میں مصروف رہتی ہے۔ ایک حکومت آتی ہے تو سابقہ پالیسیوں کو بدل دیتی ہے، اگلی آ کر سب کچھ الٹ دیتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ ادارے غیر یقینی میں جکڑے رہتے ہیں، سرمایہ کار پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور عوام کے لیے امید کے دروازے بند ہوتے جاتے ہیں۔اگر ہم پاکستان کے صوبوں پر نگاہ ڈالیں تو سیاسی صورتحال کی یہ کھچڑی ہر جگہ ذائقہ بدل کر پیش آتی ہے۔پنجاب میں سیاسی کشمکش ہمیشہ سے اقتدار کا مرکز رہی ہے۔ یہاں اقتدار کی جنگ محض جماعتی نہیں بلکہ ادارہ جاتی سطح تک پہنچ چکی ہے۔ ہر حکومت اپنی وفادار بیوروکریسی تشکیل دیتی ہے، نتیجہ یہ کہ گورننس کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔ سیاسی وفاداریاں ایک رات میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور عوام صرف تماشائی بنے رہتے ہیں۔سندھ میں سیاست کا محور طاقت اور وراثتی سیاست ہے۔ وہاں برسوں سے ایک ہی جماعت کی حکمرانی ہے، مگر عوامی فلاحی منصوبوں کے اثرات محدود نظر آتے ہیں۔ شہروں میں سیاسی تقسیم اور اندرون سندھ میں ترقیاتی تفاوت نے معاشرتی خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے۔خیبر پختونخوا میں حالات ذرا مختلف مگر کم پیچیدہ نہیں۔ وہاں حکمرانی کے ماڈل کے نام پر تجربات کیے گئے، مگر پالیسیوں کا تسلسل برقرار نہ رہ سکا۔حالیہ برسوں میں معاشی دباؤ، امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور بے روز گاری نے عوام میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔بلوچستان کی صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔ وہاں سیاسی عمل کمزور اور وفاقی رابطہ ناپید محسوس ہوتا ہے۔ بدامنی، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور عوامی نمائندگی کے فقدان نے صوبے کو وفاق سے بدظن کر دیا ہے۔ یہ احساس محرومی نہ صرف سیاسی سطح پر خطرناک ہے بلکہ ملکی یکجہتی کے لیے بھی بڑا چیلنج ہے۔سیاسی بحران کا سب سے بڑا نقصان اداروں پر عوامی اعتماد کی کمی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ عدلیہ، پارلیمنٹ اور الیکشن کمیشن جیسے ادارے سیاست کے دائرے میں آ چکے ہیں۔ عوام کو اب انصاف، شفافیت یا برابری پر یقین کم اور مایوسی زیادہ ہے۔ ایسے میں جمہوریت کا وجود تو برقرار رہتا ہے مگر روح مفقود ہو جاتی ہے۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں سیاستدانوں، ریاستی اداروں اور عوام کو ایک صفحے پر آنا ہوگا۔سیاسی مفاہمت کوئی کمزوری نہیں بلکہ قومی ضرورت ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ معاشی ترقی ہمیشہ سیاسی استحکام کیساتھ جڑی رہی ہے۔ ترکی، بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے ممالک نے اس حقیقت کو سمجھ کر قومی ترجیحات طے کیں، اور نتیجہ آج ان کی مضبوط معیشتوں کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔پاکستان کیلئے اب وقت آگیا ہے کہ وہ سیاسی اختلافات سے اوپر اٹھ کر ریاستی استحکام کو ترجیح دے۔ قومی سطح پر معاشی استحکام کا معاہدہ کیا جائے۔ اداروں کو سیاست سے الگ اور عوامی خدمت سے وابستہ کیا جائے۔ صوبوں کو ان کے حصے کے وسائل شفاف انداز میں دیے جائیں تاکہ احساس محرومی ختم ہو۔ سیاسی جماعتوں میں جمہوری عمل کو فروغ دے کر نئی قیادت کو ابھرنے کا موقع دیا جائے۔پاکستان کا اصل مسئلہ سیاسی نظریات کا نہیں بلکہ سیاسی رویوں کا ہے۔جب تک قیادت انا کے بجائے ریاست کو مقدم نہیں رکھے گی، ملک ترقی کے سفر میں پیچھے ہی رہے گا۔ سیاسی استحکام محض اقتدار کا کھیل نہیں بلکہ عوام کی زندگیوں کا سوال ہے۔ اگر ہم نے آج قومی اتفاق رائے نہ پیدا کیا تو آنے والا وقت نہ صرف سیاست بلکہ معیشت اور معاشرت، سب کے لیے بھاری ہوگا۔

Exit mobile version