صدیوں پہلے ٹالسٹائی نے کہا تھا کہ غربت کی وجہ معاشرے میں چند لوگوں کو عطا کردہ ناجائز مراعات ہوتی ہیں ورنہ ہر بیروزگار جائز طریقے سے اپنی زندگی باعزت طورپر بسر کرنے کا بندوبست کر سکتا ہے لیکن سماجی ، معاشی و سیاسی استحصال زدہ معاشرے میں ایسا ہونا ممکن نہیں کیونکہ بےروزگاری غربت کا سب سے بڑا سبب ہے لوگ تعلیم یافتہ ہوجائیں تو ملوں ، فیکٹریوں ، صنعتی اداروں اور دیگر افرادی قوت والے کاروباری کومالکان کو سستے مزدور کیسے دستیاب ہوں گے اسی طرح سیاستدانوں کو نعرے مارنے ، آوے ای آوے ،زندہ باد کہنے اور انتخابی جلسوں میں لڈیاں ڈالنے والے ورکرنہیں مل سکتے ، جاگیرداروں ،وڈیروں اور پیروںکی غلامی کرنے تو ناپید ہوجائیں گے کیونکہ ان سب کا کاروبار تو ان پڑھ، جاہل اور غریبوںکے باعث ہی پھل اور پھول رہاہے ۔ جنگ غربت کی وجوہات میں سے دوسرے نمبر پر ہے اور دنیا میں جنگ نے انسانوں کو غریب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جنگ جس بھی وجہ سے ہو اس میں انسانی جانوں کا بلادریغ ضیاع ہونا یقینی ہے۔ ایک م لک ،قبیلے یا علاقے کا سارا مال و دولت دوسرے علاقوں میں چلا جاتا ہے یوں وہ لوگ غربت کا شکار ہوجاتے ہیں لوگوں کو غلام بنایا جاتا ہے جس سے ان کی اولاد اور وہ خود بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہوجاتے ہیں بلاشبہ انسان ابھی تک قدرتی آفات پر قابو نہیں پا سکا جس کی وجہ سے اس کو بہت سا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ قدرتی آفات میں سونامی ، قحط ، زلزلے،سیلاب وغیرہ شامل ہیں۔ قدرتی آفات کی وجہ سے انسانوں کے گھر ٹوٹ جاتے ہیں،ان کا جانی و مالی نقصان ہوتا ہے یوں قدرتی آفات نے ہمیشہ انسانوں کی غربت میں اہم کردار ادا کیا پھر دولت کی غیر منصافہ تقسیم کے باعث عوام کےلئے کبھی کوئی اچھا معاشی نظام نہیں قائم کیا جاسکتا پاکستان ، بھارت اورترقی پذیر ممالک اس کی روشن مثالیں ہیں جہاں امیر ، امیرترین اور غریب مزید غریب ہوتا چلاجاتا ہے جس معاشرے میں علم و ہنر کی کمی ہو تو وہاں بھی لوگ کبھی ترقی نہیں کر سکتے زرعی زمینوں پربے ہنگم انداز سے دھڑا دھڑ ہاﺅسنگ سکیمیں بنانے سے بھی غربت کی شرح میں اضافہ ہورہاہے اس سے سرمایہ چند واتھوںتک محدود ہو جانے سے بہت مسائل جنم لے رہے ہیں شہروںمیں سبزی ،پھل فروٹ اور لائیو سٹاک کی کمی سے نہ صرف اشیائے ضرورت مہنگی ہوتی چلی جارہی ہیں بلکہ لوگوںکے وسائل بھی کم ہورہے ہیں اس سنگین صورت ِ حال کا حکمرانوںکو اندازہ ہی نہیں یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو پاکستان جیسے زرعی ملک کو بھی خلیجی ممالک طرح برآمدات کی طرف جانا پڑے گا جو غربت کا مزید پیش خیمہ ثابت ہوگا اقوام متحدہ کے اعدادو شمار کے مطابق دنیا کی بیشتر آبادی خوراک کی کمیابی کی وجہ سے شدید بھوک سے دو چار ہیں تقریبا آدھی دنیا یعنی تین ارب سے زیادہ لوگ روزانہ ڈھائی امریکی ڈالر سے کم آمدنی پر گزارا کرتے ہیں۔ 56 کروڑ 70 لاکھ لوگوں پر مشتمل 41 مقروض ممالک کی مجموعی جی ڈی پی دنیا کے 7امیر ترین لوگوں کی مجموعی دولت سے کم ہے۔ تقریبا ایک ارب لوگ اکیسویں صدی میں اس طرح داخل ہوئے کہ وہ نہ تو کوئی کتاب پڑھ سکتے ہیں اور نہ دستخط کر سکتے ہیں۔ اگر دنیا بھر کے ممالک اپنے دفاعی بجٹ کا صرف ایک فیصد تعلیم پر خرچ کرتے تو 2024 تک ہر بچے کےلئے اسکول جانا ممکن ہو جاتا جو نہ ہو سکا خوفناک بات یہ ہے کہ اس وقت دنیا بھرکے ایک ارب بچے انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں جن کو طبی سہولیات سرے سے ہی میسرنہیںجبکہ خوراک ولباس اور تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے۔ 64 کروڑ بچوں کے پاس سر چھپانے کو جگہ نہیں ہے۔ 40 1کروڑ کو پینے کا صاف پانی نہیں ملتا۔ 27کروڑ کو طبی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق2023تک مختلف بیماریوں کا شکار ہوکرروزانہ 5سال عمر کے لگ بھگ 29000 بچے وفات پاجاتے تھے۔ ماہرین کا کہناہے کہ معاشی لوازمات زندگی کے اعتبار سے غربت کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے کہ ؛ غربت کسی انسان(یا معاشرے)کی ایسی حالت کا نام ہے جس میں اس کے پاس کم ترین معیار زندگی کےلگے لازم اسباب و وسائل کا فقدان ہو۔ سادہ سے الفاظ میں کہا جائے تو یوں کہ سکتے ہیں کہ ؛ غربت، بھوک و افلاس کا نام ہے۔ جب کسی کو اتنی رقم میسر نہ ہو کہ وہ اپنا یا اپنے اہل و عیال کا پیٹ بھر سکے تو خط ِ غربت کے نیچے زندگی بسر کررہاہے ان میںاگر کوئی بیمار ہو جائے اور اس کے پاس اتنی مالی استعداد نہ ہو کہ وہ دوا حاصل کر سکے تو یہ غربت ہے۔ جب کسی کے پاس سر چھپانے کی جائے پناہ نہ ہو تو یہ غربت ہے اور جب بارش میں کسی کے گھر کی چھت ایسے ٹپکتی ہو کہ جیسے وہ گھر میں نہیں کسی درخت کے نیچے بیٹھا ہو تو یہ غربت ہے۔ جب ایک ماں اپنے بچے کو دودھ پلانے کی بجائے چائے پلانے پر مجبور ہو تو یہ غربت ہے۔ یہ وہ پیمانے ہیں جو کم از کم معیار زندگی کو مدنظر رکھ کر گنوائے جا سکتے ہیں۔سیو دی چلڈرن میں بھوک اور غذائیت کی عالمی سربراہ حنا اسٹیفنسن کا کہنا ہے کہ اس سال ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد نوزائیدہ بچے یعنی فی منٹ 35 بچے ایک ایسی دنیا میں پیدا ہوئے جہاں ان کی زندگی کے ابتدائی لمحات سے ہی بھوک ایک حقیقت ہے، بھوک کی کوئی حد نہیں ہوتی، یہ بچپن کو ختم کرتی ہے، بچوں کی توانائی کو ضائع کرتی ہے اور ان کا مستقبل چھیننے کا خطرہ بن جاتی ہے اس لئے بچوں کو کلاس میں کھیلنے یا اپنے دماغ کو وسعت دینے کے لئے آزاد ہونا چاہیے، کسی بھی بچے کو اس بارے میں فکر مند نہیں ہونا چاہیے کہ ان کا اگلا کھانا کب ہوگا۔ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ ہمیں خوراک، غذائیت، صحت کی دیکھ بھال، صاف پانی، صفائی، حفظان صحت، سماجی تحفظ اور ذریعہ معاش کی مدد کی اشد ضرورت والے بچوں اور خاندانوں کو انسانی زندگی بچانے والی خدمات کے لیے فوری فنڈنگ اور محفوظ رسائی کی ضرورت ہے، ہمارے پاس ماضی کی طرح اس وقت غذائی قلت کا شکار بچوں کی تعداد کو نمایاں طور پر کم کرنے کے لئے اقدامات ناگزیرہیں اگر ہم بھوک اور غذائی قلت کی بنیادی وجوہات سے نہیں نمٹتے تو ہم بچوں کےلئے کی جانے والی پیش رفت کو مزید بہترکیا جائے۔ بچوں کے حقوق کےلئے کام کرنے والی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ خوراک کے بحران میں بچے ہمیشہ سب سے زیادہ کمزور ہوتے ہیں اور کھانے کے لیے کافی مقدار اور مناسب غذائی توازن کے بغیر بچوں کو شدید غذائی قلت کا خطرہ ہوتا ہے، غذائیت کی کمی سے ذہنی اور جسمانی نشوونما متاثر ہوتی ہے، مہلک بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور بالآخر یہ موت کا سبب بن سکتی ہے۔ ان ممالک میں جہاں کم از کم 20 فیصد آبادی کو بھوک کا سامنا ہے، کانگو اس میں سرفہرست ہے جہاں اس سال سب سے زیادہ 16 لاکھ بچوں کی غذائی قلت کے ساتھ پیدا ہونے کی توقع کی جا رہی تھی جبکہ کانگو اور عالمی سطح پر تنازعات بھوک کی ایک اہم وجہ بنے ہوئے ہیں۔ سیودی چلڈرن عالمی رہنماﺅ ں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ شدید خوراک اور غذائی عدم تحفظ کی بنیادی وجوہات کو حل کریں جس میں تنازعات کو کم کرنے کے لئے سخت محنت کرنا، موسمیاتی بحران اور عالمی عدم مساوات سے نمٹنے اور صحت، غذائیت اور سماجی تحفظ کے زیادہ لچکدار نظام کی تعمیر شامل ہے ضرورت اس امرکی ہے کہ پوری دنیا کے پسماندہ،ترقی پذیر اور غریب ممالک میں ایک مربوط حکمت ِ عملی کے تحت کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ غربت دورکی جاسکے ہر نسل، رنگ، مذہب ، قومیت سے بالاتر ہوکر غربت کے خاتمہ کےلئے عالمی رہنماﺅںکو سوچناہوگا کہ یہی انسانیت کا تقاضاہے۔
غربت اور غریب

