Home » Search Results for: Asif mehmood

Search Results for: Asif mehmood

صدر محترم کچھ گنجائش نکالیں

  Asif-Mehmood

وزیر اعظم نے لبرلزم کا جو مطلع کہا تھا، جنابِ صدر نے اس پر ’ سود کی حلت ‘ کا مقطع کہہ دیا ہے۔معلوم نہیں غزل مکمل ہونے تک کتنے پیمانے چھلک جائیں۔
آنجناب ، عزت مآب صدرِ پاکستان قبلہ ممنون حسین صاحب بھی کمال کرتے ہیں۔آ پ کا صاحبِ کمال ہونا ایک مسلمہ امر ہے اور اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس پر مرزا اسد اللہ خان غالب کی گواہی موجود ہے :” جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں“۔۔۔ایوان صدر کی وسیع و عریض عمارت میں ’کمال ‘ کر کر کے اب لگتا ہے صاحب اکتا گئے ہیں اوراب عالی مرتبت نے کمال کی حدوں سے کچھ آگے بڑھ کر عزیز ہم وطنوں کو با قاعدہ گُد گُدانا شروع کر دیا ہے۔
ایک روز صاحب ذی وقار ایوان ِ صدر سے نکلے اور میٹرو پر سوار ہو گئے۔یہ تو معلوم نہیں ہو سکا کہ انہوں نے بوہڑ بازار میں ربڑی دودھ کے تاجروں سے باہمی دل چسپی کے امور پر تبادلہِ خیال بھی کیا یا ایسے ہی ” جھوٹا“ لے کر واپس آ گئے لیکن اگلے روز اخبارات میں اس ’ اچانک‘ ، ’نجی‘ اور ’ خفیہ‘ دورے کی باتصویر رپورٹنگ اتنے اہتمام سے شائع ہوئی کہ اچھے ضاصے غیر مقلد بھی آنجناب کے روحانی کمالات کے قائل ہو گئے۔ایک روز کراچی میں ایک پروفیسر قتل ہو گئے، تو صدر صاحب نے، غالبا یہ سوچ کر کہ وہ نواز شریف اور شہباز شریف سے پیچھے کیوں رہیں، ایک عدد ’ نوٹس‘ لے لیا۔میرے جیسا سادہ لوح گھنٹوں قانون کی کتابوں سے سر پٹختا رہا کہ ریاست کے سربراہ نے کس قانون کے تحت نوٹس لیا ہے۔ایک قتل ہوا، اب صدر صاحب نوٹس نہ بھی لیتے تب بھی تعزیرات ِ پاکستان کے تحت پولیس پابند تھی کہ حرکت میں آئے۔لیکن ہم جیسے عامیوں کو شاید اس راز سے آگہی نہیں کہ امورِ ریاست میں بسا اوقات کارروائی ڈالنا کتنا اہم ہوتا ہے۔چند ہفتے قبل جب جناب ِ صدر کمال کر کر کے بہت ہی اکتا گئے تو انہوں نے فرمایا:” میں کرپشن کے خلاف جہاد کر رہا ہوں قوم میرا ساتھ دے“۔آپ یقین کریں یہ اعلان ِ جہاد سن کر میرا ایمان تازہ ہو گیا اور میں نے ایوان صدر کوئی درجن بھر فون کیے لیکن کوئی مجھے سادہ سے دو سوالات کا جواب نہ دے سکا کہ صدر صاحب کرپشن کے خلاف جہاد کہاں کر رہے ہیںِ؟ان کا ساتھ کیسے دیا جا سکتا ہے؟خاصی تگ و دو کے بعد معلوم ہوا کہ نیب نے کرپشن کے خلاف شعور بیدار کرنے کے لیے ایوان ِ صدر میں ایک واک کا اہتمام کیا تھا۔جس میں سرکاری ملازمین کی بھاری تعداد شریک ہوئی۔اب یہ معلوم نہیں ہو رہا کہ نیب والے ایوانِ صدر میں واک کر کے کرپشن کے خلاف کس کا شعور بیدار کرنا چاہتے تھے۔مسلم لیگ ن اسلام آباد کے سیکرٹری جنرل ملک شجاع الرحمن اور وزیر اعظم لیگل ریفارمز سیل کے چیر مین اشرف گجر اپنے ہی ایک ایم این اے پر برس پڑے کہ وہ لینڈ مافیا ہے اور اس نے جرائم پیشہ افغانوں پر مشتمل ایک نجی فورس بنا رکھی ہے۔ابھی اس پریس کانفرنس کی بازگشت ختم نہیں ہوئی تھی کہ ایم این اے صاحب نے وزارت کا حلف اٹھا لیا۔جس روز انہوں نے حلف اٹھایا میرے جیسے لوگ اسلام آباد کی سڑکوں پر گھوم گھوم کر تھک گئے کہ کہیں صدر صاحب جہاد کرتے نظر آ جائیںتو ان کے ہاتھ ہی چوم لیے جائیں۔اب کہیں ملے تو عرض کروں گا: یہ جو کرپشن کے ساتھ آپ سب کر رہے ہیںکیا یہ جہاد ہوتا ہے۔
تازہ ترین ارشاد بھی پڑھ لیجیے۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئینی سربراہ نے علمائے کرام سے کہا ہے کہ وہ ہاﺅس بلڈنگ کے قرضے پر سود کی گنجائش پیدا کریں۔ان کا مطالبہ تھا: ” ہاﺅس بلڈنگ کے لیے سود کی ادائیگی کو جائز قرار دیا جائے“۔یہ خبر نہیں مل سکی کہ اس محفل میں علمائے کرام بھی موجود تھے یا نہیں اور اگر موجود تھے تو خاموش کیوں رہے؟ کیا سارے ہی پی ٹی وی سے آئے ہوئے تھے؟پی ٹی وی کے بارے میں ایک قصہ مشہور ہے کہ ایک زمانے میں جب یہاں ’‘ فرمانِ الہی‘ پروگرام ہوتا تھا ایک ’ عالم کرام‘ کو گفتگو کے لیے مدعو کیا گیا۔جب وہ چائے پی کر سٹوڈیو کی جانب چلے تو پروڈیوسر نے انہیں بتایا ” حضرت آج کا موضوع ہے سود اور قرآن“۔مولوی صاحب نے آدھے سٹوڈیو پر پھیلی توند پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا:” یہ بتائیے سود کے حق میں بولنا ہے یا مخالفت میں“۔اہلِ اقتدار کی چونکہ زیادہ راہ و رسم ایسے ہی ’ علمائے حق“ سے ہوتی ہے اسی لیے دین کے معاملے میں ان کی بے باکیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔کبھی اعلان ہوتا ہے،” ہم دین کو مولوی پر نہیں چھوڑ سکتے آئندہ ہم قرآن کے چالیس کے چالیس پارے خود پڑھائیں گے“۔کبھی کہا جاتا ہے:” ملک کا مستقبل لبرلزم میں ہے“ تو کبھی اسلامی ریاست کا سربراہ علماءکو دین میں تحریف کا مشورہ سرِ عام دیتا ہے۔
جناب صدر ریاست کے سربراہ ہیں۔کیا انہیں خود معلوم ہے کہ ان کے اس مشورے کی حیثیت کیا ہے؟کیا ایوانِ صدر میں کوئی ایک بھی صاحب ِ علم نہ تھا کہ بات کرنے سے پہلے اس سے مشورہ ہی کر لیا جاتا؟یا کہیں سے حکم آیا تھا کہ مطلع پر مقطع ضرور کہا جائے؟صدر ریاست کا سربراہ اور آئین کا نگہبان ہوتا ہے۔ہمارا آئین اسلامی ہے۔صدر صاحب کو وقت ملے تو اس کے دیباچے اور آرٹیکل2(a) کا مطالعہ ضرور کر لیں۔دستور پاکستان ریاست کو پابند کرتا ہے کہ جلد از جلد سود ختم کرے۔قرآن میں اسے اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ سے کھلی جنگ قرار دیا گیا ہے۔ ابنِ ماجہ میں ایک صحیح حدیث کا مفہوم ہے کہ :” سود کا معمولی سے معمولی گناہ ایسے ہی ہے جیسے ماں سے زنا“۔اب اگر آپ ان احکامات سے بے نیاز ہونے کے اتنے ہی آرزومند ہیں تو علماءکی عاقبت کیوں خراب کرتے ہیں ایک صدارتی آرڈی ننس جاری کرلیں کہ میں صدرِ پاکستان سود کے اسلامی احکامات کو منسوخ کرتا ہوں۔( نعوذ باللہ)۔صدرِ ریاست کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ علماءکے پاس دین کی نصوص میں ترمیم کا کوئی اختیار نہیں۔صدر صاحب کو یہ غلط فہمی کب سے ہو گئی کہ علماءکو قرآن میں تحریف کا اختیار ہے۔اگر وہ اسے اجتہاد سمجھتے ہیں تو انہیں اجتہاد کے بارے میں مزید مطالعے کی ضرورت ہے۔اجتہاد کی کچھ شرائط اور حدودو قیود ہیں۔اسلام کا تو حسن ہی یہی ہے کہ یہ کسی عالم کی تشریح کا یرغمال نہیںہو سکتا۔اگر کوئی عالم غلط بات کرتا ہے تو اسے قرآن و سنت کی روشنی میں رد کیا جا سکتا ہے۔یہ اختیار یورپ میں کلیسا کو تو تھا کہ دین کی جو مرضی تعبیر کر دے چنانچہ دین کے نام پر کلیسا نے وہ کچھ متعارف کرا دیا کہ رد عمل میں معاشرہ سیکولر ہو گیا۔ہمارا تو مقدمہ ہی یہی ہے کہ اہلِ مذہب کی غلطی دین نہیں قرار دی جا سکتی۔وہ غلط بات کریں تو قرآن و سنت کی روشنی میں اس غلط بات کو ٹھکرا دیا جائے۔اس وقت بھی پاکستان کو ایک بڑا چیلنج ایسی ہی کچھ تعبیرات کا ہے۔لیکن اگر صدرِ محترم کا یہ اصول تسلیم کر لیا جائے کہ علمائے کرام حرام کا حلال قرار دے سکتے ہیں تو پھر تو یہ ایک نیا دین ایجاد کرنے والی بات ہے۔
ایسے مشورے دینے سے تو بہتر ہے صدر صاحب ایوانِ صدر میں مرزا غالب والا’ کمال‘ ہی کرتے رہیں۔۔سود کی گنجائش تو نکلنے سے رہی،آپ بہت فیاض ہوتے جا رہے ہیں،قومی خزانے سے اکسٹھ ہزار ڈالر آپ نے بیرونی دوروں پر بیروں تو ٹپ میں دے دیے۔آپ کی اہلیہ محترمہ نے دفترِ خارجہ کے بابوﺅں کی بیگمات کے لیے بنائے جانے والے کلب کو دس لاکھ روپے عنایت فرما دیے۔یہ غریب قوم ہے ،
جنابِ صدر آپ ہی رحم فرمائیں ، کچھ گنجائش نکالیں۔

شہدائے البدر کس کے خوں کا صدقہ ہیں؟

Asif-Mehmood

بنگلہ دیش میں صلاح الدین قادر اور علی احسن مجاہد کے جنازے اٹھے تو احمد بن حنبل ؒ یاد آگئے: ”ہمارے جنازے اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ کون حق پر تھا“۔
پاکستانیت مصلوب ہو گئی لیکن پاکستان میں سکوتِ مرگ رہا۔قبرستانوں جیسا سناٹا۔ہر شام ٹاک شوز میں جھپٹ کر پلٹنے اور اور پلٹ کر جھپٹنے والے وزرائِ کرام ایک حرفِ مذمت ادا نہ کر سکے۔ایسے وقت میں جب دنیا پاکستانی ردعمل جاننا چاہ رہی تھی، قادر الکلام چودھری نثار علی خان بولے بھی تو بس اتنا :”ہم عالمی ردِ عمل کا جائزہ لے رہے ہیں“۔صلاح الدین قادر اور علی احسن مجاہد کے لاشوں کو زباں ملے تو کہیں:
” میری نمازِ جنازہ پڑھائی غیروں نے
مَرے تھے جن کے لیے وہ رہے وضو کرتے“
مجھے سب سے زیادہ مایوسی سیکولر احباب کے رویے سے ہوئی،حقوقِ انسانی کے یہ علمبردار بھی یوں چُپ ہوئے کہ جہانِ حیرت آباد ہو گیا۔وہ خواتین و حضرات بھی کہیں نظر نہ آئے جو ’ سول سوسائٹی‘ تخلص کرتے ہیں۔شاید ’ مینیو‘ دیکھے بغیر بات کرنا روشن خیالی کے آداب کے منافی ہو۔لیکن سچی بات ہے مجھے ان احباب سے بہت توقع تھی کہ وہ بولیں گے۔یہ احباب امت کے تصورِ موہوم کے ناقد ہیں اور ایک ’ نیشن سٹیٹ ‘ کی بات کرتے ہیں۔ان کا موقف ہے کہ ہمیں ’ امت‘ کے نام پر اپنے ملک کو کسی کشمکش کا اکھاڑا بنانے کی بجائے صرف ایک ’ نیشن سٹیٹ‘ کے مفادات کو مدِ نظر رکھنا چاہیے۔بنگلہ دیش میں آج مقتل آباد ہو رہے ہیں تو یہ امت کا نہیں یہ خالصتا ایک ’ نیشن سٹیٹ‘ کا معاملہ ہے اورپاکستان کے مفادات اور حقوقِ انسانی اس بات کے متقاضی ہیں کہ اس عدالتی قتل کے خلاف پوری قوت سے آواز اٹھائی جائے۔لیکن یہ حضرات خاموش ہیں۔کیا اس لیے کہ مصلوب ہونے والوں کی اکثریت کا حلیہ ’ روشن خیال ‘ نہیں ہے اور وہ انسان کی اس تعریف پر پورا نہیں اترتے جو ’ مینیو‘ میں دی گئی ہے اس لیے حقوقِ انسانی کے نام پر ان کے حق میں آواز نہیںاٹھائی جا سکتی؟جس’ نیشنلزم‘ کا یہ احباب ہر وقت ابلاغ کرتے ہیں،وہ نیشنلزم کیا ہوا؟ اور جس ’ نیشن سٹیٹ‘ کی یہ ہر وقت بات کرتے تھے اس’ نیشن سٹیٹ‘ کے مفادات کہاں گے؟بنگلہ دیش میں جو ٹریبیونل بنایا گیا ہے ،دلیل اور انصاف کی دنیا میں اس کا کوئی اعتبار نہیں۔یہ سراسر انتقام ہے اور حقوقِ انسانی کا ابطال۔لیکن حقوقِ انسانی کے نام پر تحرک کے جملہ حقوق جن خواتین و حضرات کے نام محفوظ ہیں ان کی کوئی خبر نہیں۔صاف کیوں نہیں کہ دیتے : جس کی ڈاڑھی ہے وہ انسان نہیں، اورجو انسان نہیں اس کے حقوق ِ انسانی کہاں سے آ گئے“۔یہ احباب جانوروں کے حقوق کی بھی بات کرتے ہیں لیکن جس انسان کا حلیہ روشن خیال نہ ہو یا جو کسی مذہبی جماعت سے وابستہ ہو اس کے حقوق یہ مان کر نہیں دیتے۔اس پر بھی یہ تجاہلِ عارفانہ کہ سیکولرزم تو برداشت، تحمل اور رواداری کا نام ہے۔پاکستان کا فکری بیانیہ بھی چونکہ مذہبی ہے اس لیے پاکستان کے مفادات کو سینگوں پر لے لینا تو روشن خیالی قرار پاتا ہے، لیکن اس کے حق میں کلمہِ خیر کہہ لیا جائے تو یہ تھوڑا فرسودہ اور تھوڑا قدامت پسند رویہ کہلائے گا۔تحقیق کے بغیر ’البدر ‘ اور ’ الشمس‘ کی مذمت تو روشن خیالی ہے ،لیکن آپ مکتی باہنی کے مظالم پر خود بنگلہ دیش میں چھپی کسی کتاب کا حوالہ دینا چاہیں تو آپ فرسودہ خیالات کے مالک قرار پائیں گے۔ہمارے اپنے اپنے ظالم ہیں اور اپنے اپنے مظلوم۔ہم کسی ظلم کو ظلم کی نسبت سے نہیں دیکھتے بلکہ ظالم اور مظلوم کی نسبت سے دیکھتے ہیں۔ہم ظلم کی مذمت سے پہلے یہ اطمینان کر لینا ضروری سمجھتے ہیں کہ مظلوم کا تعلق ہمارے فکری گروہ سے ہے کہ نہیں۔مظلوم اگر دوسرے گروہ سے ہے تو ظلم ظلم نہیں رہتا۔ایک طبقہ ملالہ کے لیے آواز نہیں اٹھاتا اور دوسرا طبقہ عافیہ صدیقی پر ہونے والے ظلم کو ظلم نہیں کہتا۔ان دو انتہاوں کے بیچ ایک ایسے بیانیے کی ضرورت ہے جو تعصب سے پاک ہو اور جو ظلم کو مظلوم اور ظالم کی نسبت سے نہیں صرف ظلم کی نسبت سے دیکھے۔
بنگلہ دیش میں دی جانی والی سزاﺅں کو دلیل قانون اور انسانیت کی رو سے دیکھیے۔ چند پہلو بہت اہم ہیں۔
حکومتوں کی غلط پالیسیاں اپنی جگہ، جن لوگوں نے دفاعِ پاکستان کی جنگ لڑی کیا انہوں نے غلط کیا؟جب یہ لڑائی ہوئی اس وقت پاکستان کی ریاست تھی،بنگلہ دیش کا کوئی وجود نہ تھا۔پاکستان کی ریاست کے تحفظ کے لیے لڑنا غلط کیسے ہو گیا؟ اس وقت جو بھی ہوا، پاکستان میں ہوا۔پاکستان کی زمین پر ہوا۔ریاست پاکستان نے کوی مقدمہ قائم نہیں کیا تو بعد میں وجود میں آنے والی ریاست مقدمات کیسے شروع کر سکتی ہے؟ یہ سوال بہت اہم ہے۔ 19 مارچ 1972 کوجب بنگلہ دیش حکومت نے وہاں پاکستانیوں پر مقدمات کا فیصلہ کیا اس وقت پاکستان میں چار لاکھ بنگالی موجود تھے۔پاکستان نے ان سب کو روک لیا اور بھٹو صاحب نے کہا کہ اگر بنگلہ دیش نے مقدمات قائم کرنے ہیں تو ہم بھی ان بنگالیوں پر مقدمات قائم کر سکتے ہیں۔ان میں سے کچھ اہم سرکاری عہدوں پر فائز تھے اور ان پر الزام تھا کہ انہوں نے ریاست کے راز باغیوں کو دیے۔کیا ان کو غداری کے الزام میں کٹہرے میں لا کھڑا کرنا کوئی مشکل کام تھا؟لیکن پاکستان نے ایسا نہیں کیا۔بنگلہ دیش نام کی تو اس وقت کوئی ریاست ہی نہیں تھی وہ کیسے مقدمات کا آغاز کر سکتی ہے۔انسانیت کے نام پر مقدمہ چلایا گیا ہے تو کیا کسی مقدمے میں مکتی باہنی کو بھی کوئی سزا سنائی گئی؟کیا وہ وہاں پھول بیچنے آتے تھے۔پاکستان نے مکتی باہنی کے مظالم کبھی صحیح طور پر بیان ہی نہ کیے کہ کہیں مغربی پاکستان میں مقہم چالیس لاکھ بنگالی انتقام کا نشانہ نہ بن جائیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مکتی باہنی کوئی صوفیوں کی انجمن تھی۔
یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ بنگلہ دیش کن حالات میں اقوام متحدہ کا رکن بنا۔بھٹو صاحب نے چین سے کہا کہ بنگلہ دیش ہمارے قیدیوں پر جنگی مقدمات قائم کرنا چاہتا ہے اس لیے آپ اس کی اقوام ِ متحدہ کی رکنیت کو ویٹو کر دیں تا کہ اس پر دباﺅ بڑھے۔25 اگست 1972 کو چین نے ویٹو کر دیا۔چنانچہ بنگلہ دیش کو رکنیت نہ مل سکی۔اس پر دباﺅ بڑھ گیا۔ چنانچہ بعد میں معاہدہ ہوا کہ کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہو گی۔پاکستان نے بھی بنگالیوں کو واپس جانے کی اجازت دے دی اور بنگلہ دیش نے بھی ایسی کوئی کارروائی نہ کی۔یہ لوگ بعد میں بنگلہ دیش حکومتوں کا حصہ بھی رہے اور اس سے وفاداری کا حلف بھی لیا۔الشمس کے کمانڈرصلاح الدین قادر وزیر اعظم خالدہ ضیاءکے مشیر برائے پارلیمانی امور رہے۔چیزیں معمول پر آگئی تھیں لیکن اب پھر نفرت اور انتقام کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔جو بین الاقوامی معاہدے کے بھی خلاف ورزی ہے۔اور ظلم بھی کہ یہ کارروائی جس طرح چلای جا رہی ہے اس کا انصاف سے کوئی تعلق نہیں۔ٹریبیونل کے سابق سربراہ نعیم الحق کی جو سکائپ گفتگو 2012 میں منظر عام پر آئی اس کے بعد اس خونی کھیل کو انصاف کا نام دینے کے لیے آدمی میں دو میں سے کوئی ایک خصو صیت ہونا ضروری ہے۔ اول : وہ بد دیانت ہو۔دوم: پرلے درجے کا احمق اور متعصب ہو۔

ملک تو کشمکشِ اقتدار کے حریفوں کی ہوس نے توڑا لیکن مقتل کسی اور کو آباد کرنے پڑے۔سراج الحق چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ صرف انہی کو زیبا ہے:
” مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے“

البدر۔۔۔۔۔ایک گواہی

Asif-Mehmood

حکم ہے کہ گواہی مت چھپاﺅ۔تو میں کیا اس خوف سے گواہی چھپا لوں کہ یہ ایسے گروہ کے حق میں ہے جس پر تبرا کرناسکہ رائج الوقت ہے۔
ریٹنگ یا پاپولر جرنلزم کبھی میری ترجیح نہیں رہے۔اس بات سے بھی اللہ نے بے نیاز ہی رکھا ہے کہ یہ سوچ کر قلم بھاری ہو جائے ” لوگ کیا کہیں گے“۔ایک گواہی میرے پاس ہے وقت کی عدالت میں پیش کیے دیتا ہوں۔
بنگلہ دیش میں دی گئی پھانسیوں کے بعد البدر زیر بحث ہے ۔اب ہو یہ رہا ہے ہے جس کو جماعت یا جمعیت سے کوئی پرخاش ہے وہ البدر کو بھی اسی تناظر میں دیکھ رہا ہے۔زمانہ طالب علمی میں،جمعیت کے بارے میں بھی بہت خوشگوار نہیں رہا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اب میں ہر اس چیز کی نفی کر دوں جسے جمعیت سے کوئی نسبت ہے۔یہ فکری بد دیانتی ہو گی۔مجھے اس سے معذور سمجھا جائے۔
کیا ہم جانتے ہیں کہ البدر کیا تھی؟یہ تنظیم میجر ریاض حسین ملک نے بنائی۔اور میجر سے میرا تعلق دو عشروں پر محیط ہے۔میجر ریاض بتاتے ہیں کہ راجشاہی میں فوج کی نفری کم تھی اور ہمارے لیے ممکن نہیں رہا تھا کہ ہم پلوں اور رستوں کی نگرانی کر سکیں۔انتہائی پریشانی کا عالم تھا۔ایک روز کچھ بنگالی نوجوان ان کے پاس آئے اور کہا کہ دفاع وطن کے لیے آپ کے کچھ کام آ سکیں تو حاضر ہیں۔ان جوانوں کا تعلق اسلامی جمعیت طلبہ سے تھا۔میجر ریاض نے انہیں کہا ٹھیک ہے آپ فلاں فلاں پلوں پر پہرا دیجیے۔ایک نوجوان نے کہا:” میجر صاحب ہمیں اپنی حفاظت کے لئے بھی کچھ دیں“۔یہ وہ دن تھے جب ہائی کمان کی طرف سے حکم آ چکا تھا کہ تمام بنگالیوں کو غیر مسلح کر دو۔میجر ریاض کی آج بھی آہیں نکل جاتی ہیں جب وہ بتاتے ہیں کہ یہ سن کر وہ اندر گئے اور سورہ یسین کا ایک نسخہ اس جوان کو پکڑا دیا کہ اپنی حفاظت کے لیے میں تمہیں اس کے علاوہ کچھ نہیں دے سکتا۔وہ نوجوان چلے گئے، گھر نہیں بلکہ میجر کے دیے مشن پر۔بانس کے ڈنڈے انہوں نے بنا لیے اور ندی نالوں اور پلوں پر جہاں سے مکتی باہنی اسلحہ لاتی تھی پہرے شروع کر دیے۔میجر ریاض بتاتے ہیں کہ اس کے بعد انہوں نے اسلحہ نہیں مانگا۔لیکن میجر کے من کی دنیا اجڑ چکی تھی۔فوجی ضابطے انہیں عذاب لگ رہے تھے۔ایک روز تیس کے قریب نوجوان ان کے پاس آئے کہ انہیں بھی اس رضاکار دستے میں شامل کر لیں۔ان میں ایک بچہ بھی تھا۔ میجر نے اسے کہا بیٹا آپ بہت چھوٹے ہو واپس چلے جاﺅ۔وہ بچہ اپنی ایڑیوں پر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا:” میجر شاب ہُن تو بڑا ہوئے گاشے“( میجر صاحب اب تو بڑا ہو گیا ہوں)۔میجر تڑپ اٹھے، انہیں معوز اور معاذ یاد آ گئے جن میں ایک نے نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں ایسے ہی ایڑیاں اٹھا کر ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ اتنے چھوٹے بھی نہیں کہ جہاد میں حصہ نہ لے سکیں۔میجر نے اس بچے کو سینے سے لگا لیا۔ہائی کمان کا حکم پامال کرتے ہوئے ان جوانوں کو مسلح کر دیا اور جنگ بدر کی نسبت سے اس رضاکار دستے کو ” البدر“ کا نام دے دیا۔کئی ہفتے بعد ہائی کمان نے ان سے پوچھا کہ ان کے علاقے میں اتنا امن کیسے ممکن ہوا تو میجر نے یہ راز فاش کیا کہ میں نے آپ کی حکم عدولی کی اور میں نے تمام بنگالیوں پر عدم اعتماد نہیں کیا۔میں نے بنگالیوں کو مسلح کر کے بھارت اور مکتی باہنی کے مقابلے میں کھڑا کر دیا ہے۔تب یہ رضاکار تنظیم پورے بنگال میں قائم کر دی گئی۔
ایک روز میں نے میجر سے پوچھا ،کہ ہم میں عمروں کے فرق کے باوجود تکلف باقی نہیں ہے،” البدر نے ظلم تو بہت کیے ہوں گے اپنے سیاسی مخالفین پر؟“۔یہ سوال پوچھتے ہوئے میرے ذہن میں موجودہ اسلامی جمعیت طلبہ کا کردار تھا جو اختلاف رائے برداشت نہیں کر سکتی اور گاہے تشدد پر مائل ہو جاتی ہے۔یہ سوال سن کر میجر کو ایک چُپ سی لگ گئی۔کہنے لگے:” آصف تم میری بات کا یقین کرو گے؟“ میں نے کہا میجر صاحب آپ سے پچیس سال کا تعلق ہے میرا نہیں خیال کہ آپ جھوٹ بولتے ہیں۔میجر نے کہا:” میں اپنے اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں میں نے البدر کے لوگوں سے زیادہ قیمتی اور نیک لڑکے نہیں دیکھے ، یہ لڑکے اللہ کا معجزہ تھے، میرے علم میں کوئی ایک واقعہ بھی نہیں کہ انہوں نے کسی سے ذاتی انتقام لیا ہو۔مجھے تو جب یہ پتا چلا کہ ان کی فکری تربیت مودودی نام کے ایک آدمی نے کی ہے تو اشتیاق پیدا ہوا کہ دیکھوں یہ مودودی کون ہے۔برسوں بعد جب میں بھارت کی قید سے رہا ہوا تو میں اپنے گھر نہیں گیا ، میں سیدھا اچھرہ گیا، مودودی صاحب کے گھر، میں دیکھنا چاہتا ہے وہ شخص کیسا ہے جس نے ایسے باکردار اور عظیم نوجوان تیار کیے“۔
کوئی میجر ریاض کی گواہی سے اتفاق کرے یا نہ کرے،مجھے اتفاق ہے۔میجر کی زندگی کے پچیس سال میرے سامنے ہیں۔ان کو جھوٹا کہوں تو اپنی ہی نظروں میں گر جاﺅں۔ایک گواہی تھی سو بیان کر دی۔وما علینا الا البلاغ

فرا نس کا رد عمل ؟

Asif-Mehmood

کیا ہمیں معلوم ہے کہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد فرانس کا رد عمل کیا تھا۔
ایک خاتون نے مسلمانوں کے خلاف ٹویٹ کیا اور لکھا کہ آپ سب واپس چلے جاﺅ تو اس خاتون کو گرفتار کر لیا گیا۔
ایک میئر نے مسلمانوں کے خلاف بیان دیا تو اسے اس کی پارٹی نے معطل کر دیا۔
یونیورسٹی آف فرانس میں مسلمانوں کے حق میں مہم شروع کر دی گئی´
جو لوگ فرانس کی ڈی پی کے مخالف ہیں وہ ان چیزوں پر ذرا غور فرما لیں۔
یہ آگہی اس لیے بھی ضروری ہے کہ بحران کے بیچ کسی قوم کا رد عمل بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔بحران جب کسی معاشرے کی دہلیز پر دستک دیتا ہے تو اسے بے نقاب کر دیتا ہے۔بحران سے دوچار ہونے کے بعد ایک سماج جس ردِ عمل کا مظاہرہ کرتا ہے وہ اصل میں اس بات کا اعلان بھی ہوتا ہے کہ یہ سماج فکری اور نفسیاتی طور پر کس حد تک متوازن ہے۔فرانس سے جنم لینے والے تازہ بحران پر ہمارے ہاں جو بیانیہ سامنے آیا ہے وہ چیخ چیخ کر رہا ہے کہ یہ فکری اور نفسیاتی طور پر ایک منتشر اور غیر متوازن معاشرہ ہے جو بیمار نفسیات کے زیرِ اثر ،ردِ عمل کے آتش فشاں میں جل کر ،اپنا ’ کتھارسس ‘ تو کر سکتا ہے لیکن اس سے آگے بڑھ کر کوئی حکیمانہ موقف اختیار کرنا اس کے بس کی بات نہیں۔۔۔ لیے تیار رہنا چاہیے۔
سوشل میڈیا پر ایک مہم ہے۔یہ ان کے خلاف ہے جنہوں نے فرانس کی ڈی پی بنا رکھی ہے۔، جن لوگوں نے فرانس کے ساتھ اظہار، یکجہتی کے لیے فرانس کے پرچم کی ڈی پی بنائی ہے ان کے لیے ’ نام نہاد مسلمان ‘ تک کی اصطلاح وضع کر دی گئی ہے۔فلسطین اور کشمیر کا حوالہ دے کر کہا جا رہا ہے کہ ہمارا بھی تو خون بہتا رہا تب تو کسی نے ہمارے پر چم کی ڈی پی نہیں بنائی، ہمارے لاکھوں شہید ہو گئے کسی کو خیال نہ آ یا ان کے چند درجن مارے گئے تو شور برپا ہے۔ رد عمل میں مسلمان ممالک کے پر چم کی ڈی پی بنا کر ایک دوسرے کو دعوت دی جا رہی ہے کہ اگر غیرت باقی ہے تو فرانس کی نہیں ان ممالک کے پرچم کی ڈی پی کو اختیار کیا جائے۔۔۔۔یہ رویہ یقینا بلا وجہ نہیں۔ہماری پور پور لہو ہو چکی ہے۔فرانس میں ایک حملہ ہوا تو فرانس کے ارباب ِ اختیار نے کہا ” انتقام لیں گے“ ۔حالاںکہ انہیں انتقام کی بجائے انصاف کا لفظ استعمال کرنا چاہیے تھا۔چند درجن لاشے گرنے پر پوپ کا لہجہ آ گ اگل رہا تھا تو ہمارے تو لاکھوں شہید ہو چکے ہمارے ہاں تلخی کیسے نہ آ ئے۔چنانچہ جو حضرات اس وقت فرانس کے حوالے سے یہ سخت موقف اپنا چکے ہیں ،میں انہیں ہر گز ’ انتہا پسند‘ نہیںکہوں گا۔اگر خود کو مہذب دنیا کہنے والے ایک حادثے پر اعتدال کا دامن چھوڑ بیٹھے اور ’ انتقام‘ اور ’ تیسری عالمی جنگ‘ جیسی باتیں کرنے لگے تو ہم پر تو مغربی حکومتوں کے ڈھاے گئے مظالم کی داستان بہت طویل ہے ۔فلسطین سے لے کر کشمیر اور عراق سے برما تک ہمارا خون بے رحمی سے بہایا گیا ۔اس لیے لہجوں میں یہ تلخی سمجھ میں آ تی ہے۔لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ رد عمل کی نفسیات میں جی کر مسائل میں اضافہ تو ہو سکتا ہے ان کا حل تلاش نہیں کیا جا سکتا۔من کی دنیا جتنی ہی برہم کیوں نہ ہو اور دکھ جتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو موقف کا اظہار کرتے وقت تدبر اور حکمت ہی کو غالب آنا چاہیے۔
ایک قوم برے وقت میں اگر محض جذباتیت کا شکار ہو جاے تو یہ نیک شگون نہیں ہوتا۔ فرانس کو احساس ہے کہ اس مشکل وقت میں اس نے خود کو کسی منافرانہ تقسیم سے بچانا ہے اس لیے وہ ایسے ٹویٹس پر سختی کر رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں بھی اس بات کا احساس ہے۔

کیلاش کے کافر اور ’ہجومِ مومنین‘

Asif-Mehmood

ایک جانب ’ صاحبانِ نظر‘ وزیر اعظم کو ہندوؤں کے تہوار میں شرکت پر مطعون و ملعون کر رہے ہیں تو دوسری طرف ’ اہلِ حق ‘ کی جانب سے زلزلوں ، سیلابوں اور دیگر آفتوں کا ذمہ دار کیلاش کے ’ کافروں ‘ کو قرار دیا جا رہا ہے ۔۔۔یہ دونوں رویے نہ صرف افسوسناک ہیں بلکہ اس بات کا اعلان بھی ہیں کہ یہ نیم خواندہ اور ناتراشیدہ سماج اپنے مذہب کی مبادیات کی تفہیم ہی سے قاصر ہے، اور پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اسے ایک ایسے فکری بیانیے کی ضرورت ہے جو اسے انتہا پسندی سے نکال کر اس کی تہذیب کر سکے۔

کینیڈا کے جواں سال وزیر اعظم ،ایک مسجد میں جا کر مسلمانوں سے ملے تو خوشگوار حیرت ہوئی۔دوسرے روز خبر ملی وہ سکھوں کے پاس بھی چلے گئے اور ہندوؤں کے ایک مندر میں جا کر دیوالی کی خوشیوں میں بھی شریک ہوئے۔جسٹن ٹروڈو نہ مسلمان ہیں نہ سکھ نہ ہی ہندو۔لیکن سب کی خوشیوں میں شریک ہوئے۔تو کیا یہ ہماری اجتماعی منافقت ہے کہ ہم جسٹن ٹروڈو کی تو تعریف کر رہے ہیں لیکن ہمارا اپنا وزیر اعظم اپنے ہم وطنوں کی خوشیوں میں شریک ہو رہا ہے تو اس کی مذمت کر رہے ہیں۔دیوالی کی خوشیوں میں شرکت ایک ہم وطن قوم کے تہوار میں شرکت ہے۔ ایسا کر کے وزیر اعظم نے کون سی اسلامی تعلیمات کی نفی کی ہے کہ ان کی مذمت کی جائے؟ہاں وہ وہاں ہندوؤں کی عبادت میں شریک ہوتے تو ان پر تنقید ضرور کی جانی چاہیے تھی۔لیکن وہ ان کی عبادت میں نہیں ان کی خوشیوں میں شریک ہوئے۔کیونکہ وہ ان کے بھی وزیر اعظم بھی ہیں۔جسٹن ٹروڈو مسجد ، مندر اور گردوارے میں جانے کے باوجود مسلمان ، ہندو یا سکھ نہیں ہوئے اور نواز شریف دیوالی کی تقریب میں شریک ہو کر بھی مسلمان ہی ہیں؟لیکن ایک کی تعریف کی جارہی ہے اور دوسرے کی مذمت؟فرق یہ ہے کہ کینیڈا کے لوگ جانتے ہیں کہ سب کو ساتھ لے کر چلے بغیر قومی ترقی کا عمل جاری رہنا ممکن نہیں اور ہم اپنی خود ساختہ دنیا کے وہ سادہ لوح ہیں جو دھوکے اور سراب اوڑھ کر جی رہے ہیں۔45 لاکھ ہندو ہمارے ہم وطن ہیں ،لیکن ہمیں پرواہ نہیں اور ہم کمال بے نیازی سے اپنے نصاب میں انہی بچوں کو پڑھاتے ہیں کہ ’’ ہندو ایک تنگ نظر قوم ہے‘‘۔کبھی ہم نے سوچا کہ نفرتوں کا یہ نصاب ان پینتالیس لاکھ ہندوؤں کو قومی دھارے میں کیسے لا سکے گا؟۔

نیم خواندگی اور ناقص فہمِ دین، سماج میں آج بھی شعلہ بیان مقررین کی مانگ ہے ۔دھیمے انداز میں صرف قرآن و سنت کی کوئی بات کرے ہماری نگاہ انتخاب اس پر ٹھہرتی ہی نہیں۔نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔تازہ ارشاد یہ ہے کہ شمالی علاقوں میں زلزلے اور سیلاب کیلاش قبیلے کی وجہ سے آ رہے ہیں۔یہ قبیلہ گناہ کرتا ہے اور عذاب سب پر آ جاتا ہے۔قرآن و سنت کی روشنی میں اس موقف کا کوئی اعتبار نہیں۔ویسے بھی اگر آفات گناہوں کی وجہ سے آتیں تو ’ ریڈ زون‘ کیسے محفوظ ہوتا جہاں وہ پارلیمنٹ موجود ہے جس کے سب ممبران مبینہ طور پر نیک اور پاک ہیں۔ہر ایک کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا پورا حق ہے۔لا اکراہ فی الدین کا حکم اس باب میں نہائت واضح ہے۔قبیلہ کیلاش اپنی مذہبی رسومات پر عمل کرنے کا پورا پورا حق رکھتا ہے اور انہیں جبرا اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔نہ ہی کسی کو طاقت کا استعمال کر کے مسلمان کیا جا سکتا ہے۔کسی کا اپنا دل خود بلا خوف و ترغیب اسلام کی جانب مائل ہو جائے تو وہ ایک الگ بات ہے۔زلزلوں اور سیلابوں کی شانِ نزول میں یہ بیانیہ طوفانوں کی خبر دے رہا ہے۔اس کا راستہ نہ روکا گیا تو ہر بستی میں لوگ اٹھیں گے کہ زلزلے اور سیلاب کا ذمہ دار فلاں گرو ہ ہے

اور اللہ اس سے ناراض ہے۔نیم خواندہ قوم کی فکری تہذیب اور توازن کے لیے ایک متبادل بیانیہ نہایت ضروری ہے۔یہ بیا نیہ کسی گروہ کی جانب سے نہیں بلکہ دستورِ پاکستان کی روشنی میں پارلیمنٹ کی طرف سے آ نا چاہیے۔لیکن برا ہو ٹاک شوز کا، اراکینِ پارلیمنٹ کے ذوق، اوبلندی فکر کے نوحے سرِ شام ٹی وہ چینلوں پر سننے کو ملتے ہیں۔جو لوگ اتنے اوسط درجے کے ہوں کہ ڈھنگ سے مکالمہ ہی نہ کر سکیں اور گفتگو کے پانچ منٹ بعد لوگوں کو پطرس بخاری یاد آ جائیں،کیا وہ کوئی فکری بیانیہ دے پائیں گے؟
آدمی کس دیوارِ گریہ پر سر رکھے؟

پھر طلاق

Asif-Mehmood

جمائما بھابھی کے بعدعمران خان نے ریحام کو بھی طلاق دے دی ہے۔کل تک جنابِ عارف نظامی کی باجماعت مذمت کے ساتھ اس خبر کی تردیدکرنے والے احباب اب یہ خبر خود سنا رہے ہیں ۔ایک وعظ بھی خبر کے ہمراہ ہے:”معاملے کی سنجیدگی اور نزاکت کے پیشِ نظر میڈیا قیاس آرائیوں سے گریز کرے“۔یہ احساس گویا واعظ کو بھی ہے کہ طلاق کے اعلان کے باوجود کچھ ایسے پہلو ابھی باقی ہیں جہاں قیاس آرائیوں کا امکان موجود ہے۔رشتے ٹوٹ جائیں تو دکھ ہوتا ہے۔اخلاقیات اور وضع داری کا تقاضا بھی ہے کہ ایسے نازک مواقع پر کلمہِ خیر نہ کہا جا سکے تو خاموش رہا جائے۔مجھے یہ بھی کامل احسا س ہے کہ کسی کے نجی معاملات کو کوچہ و بازار کا موضوع نہیں بننا چاہیے۔لیکن عمران خان کا معاملہ اور ہے۔وہ ایک متبادل قیادت ہیں اور لاکھوں نوجوان ان سے غلو کی حد تک عقیدت رکھتے ہیں۔ان کے شب و روز کو محض ذاتی زندگی کا غلاف اوڑھا کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔۔۔۔چند سوالات بہت اہم ہیں۔
زندگی کی چالیس بہاریں دیکھنے کے بعد ، کہا جاتا ہے کہ، آدمی کے مزاج میں ٹھہراﺅ آ جاتا ہے اور وہ دل کی بجائے اپنے معاملات عقل کے سپرد کر دیتا ہے اوراس کے من کی دنیا میں تفکر و تدبر کے پہلو غالب آنا شروع ہو جاتے ہیں۔عمران خان باسٹھ سال کے ایک بزرگ ہیں۔زندگی کی ساٹھ سے زیادہ بہاریں دیکھنے کے بعد وہ دوسری شادی کرتے ہیں اور وہ چند ماہ نہیں چل پاتی تو یہ محض ذاتی معاملہ نہیں رہتا ۔(ویسے بھی یہ انوکھی قسم کا ’ ذاتی مسئلہ‘ ہے جس کا اعلان پارٹی کا سیکرٹری اطلاعات کر رہا ہے۔تحریک انصاف کے دستور میں کہاں لکھا ہے کہ پارٹی کا عہدیدار ذاتی قسم کی خدمات بھی بجا لائے گا، اور نکاح و طلاق کی خبریں بھی دیا کرے گا۔کیا نئے پاکستان کی لغت میں مرکزی سیکرٹری اطلاعات کو ’ منیم جی‘ کہا جاے گا؟پرانے پاکستان کے دیہاتوں میں تو نکاح و طلاق کی خبروں کے ابلاغ پر مامور لوگوں کو کچھ اور کہا جاتا ہے۔)اس کے ہمراہ کچھ سنجیدہ سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔یہ عمران خان کی پہلی شادی بھی نہ تھی۔ایک شادی ان کی جمائما بھابھی کے ساتھ ناکام ہو چکی ہے۔اس شادی اور طلاق سے حاصل ہونے والا تجربہ بھی ان کے ہمراہ تھا۔دوسری شادی کرتے وقت ان کے پیشِ نظر ہو گا کہ پہلی شادی کیوں ناکام ہوئی اور کامیاب ازدواجی زندگی کے لیے انہیں کیسا رفیقِ حیات چاہیے۔۔۔۔۔اس کے با وجود یہ شادی چند ماہ ہی میں ناکام ہو جاتی ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان کے فیصلوں میں فہم و تدبر کا کتنا عمل دخل ہے اور کمزور لمحات کے زیرِ اثر جذباتی فیصلے کرنے کا رجحان کس حد تک غالب ہے؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنا بہت ضروری ہے کیونکہ کل عمران خان اقتدار میں آ گئے تو وہ پوری قوم کی قسمت کے فیصلے کر رہے ہوں گے۔ایک عام آدمی یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ جو شخص اپنی ذاتی زندگی کے فیصلے اس طرح کرتا ہے کیا وہ اس قابل ہے کہ اسے قوم کی اجتماعی زندگی میں فیصلہ سازی کا منصب سونپ دیا جائے؟ اور اگر سونپ دیا جائے تو اس کا انجام کیا ہو گا؟
خوب یاد ہے،دھرنے کے دنوں میں کنٹینر پر عمران خان پوری تمکنت اور احساسِ تفاخر کے ساتھ ہاتھ فضا میں بلند کرکے کہتے:” لیڈر“۔۔۔۔۔۔ اورمجمع بے اختیار پکار اٹھتا: ” کبھی جھوٹ نہیں بولتا“۔ لیڈر بزدل نہیں ہوتا۔لیڈر سچ بولتا ہے۔لیڈر جھوٹ نہیں بولتا۔یہ وہ سبق تھا جو روز کنٹینر سے دہرایا جاتا تھا۔لیکن ہوا کیا؟عارف نظامی نے شادی کی خبر دی تو لیڈر نے مان کر نہ دیا۔اور طلاق کی خبر سنائی تو اسے بھی رد کر دیا گیا۔تحریکِ انصاف نے دونوں خبروں کی تردید کی اور دونوں خبریں سچ ثابت ہوئیں۔اب سوال یہ ہے کہ لیڈر کا یہ دعوی کس حد تک درست ہے کہ وہ سچ بولتا ہے؟طلاق کی خبروں کی اہتمام کے ساتھ نفی کی گئی ،کیونکہ لاہور کا انتخابی معرکہ سر پر تھا، گھر میں کرکٹ کھیلتے ہوئے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر لیک کی گئی، قربانی کے جانور کے ساتھ تصویر بھی جاری کی گئی کہ دیکھیں یہ خبر جھوٹ ہے، ہم ایک ہیں۔اب اگر لیڈر واقعی سچ بولتا ہے تو اسے بتانا چاہیے کہ نکاح اصل میں کب ہوا تھا؟ کن حالات میں ہوا تھا؟ اور طلاق کب ہوئی؟ کیا شادی کے بعد کچھ ایسا ہوا کہ معاملات طلاق تک پہنچے یا اس شادی کا انجام طلاق ہی تھا؟بہت سے سخن ہائے گفتنی ہیں جو شخصی احترام میں ناگفتہ چھوڑ رہا ہوں۔تاہم ان سوالات کا جواب دینا اس لیے بھی ضروری ہے کہ نکاح سے طلاق تک آپ کی ہر تردید غلط ثابت ہوئی اور سینہ گزٹ درست ثابت ہوا۔سینہ گزٹ کے دراز ہوتے سلسلے کو روکنے کے لیے ایک ’ سچ‘ کی ضرورت ہے۔کیا وہ سامنے آ پائے گا؟
طلاق ایک تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔طلاق کے بعد ریحام ،برادرم مبین رشید کے میڈیاپروگرام میں لندن پہنچتی ہیںجہاںمبین انہیں خوش آ مدید کہتے ہیں ۔ان کے چہرے کی مسکراہٹ میں کہیں حزن و ملال نہیں،ایک فاتحانہ مسکراہٹ اور تمکنت ہے جیسے زبانِ حال سے وہ اب بھی کسی کو چیلنج دے رہی ہوں کہ وہ تر نوالہ نہیں ایک فائٹر ہیں ۔جمائما بھابھی کا عمران سے رشتہ ٹوٹا تو کچھ کھو جانے کا احساس برسوں ان کے ساتھ پھرتا رہا۔ریحام کے ساتھ تو فتح کا احساس ہے۔معلوم نہیں ایسا کیوں ہے؟نعیم الحق بتائیں گے یا چودھری غلام حسین اور عارف نظامی صاحب سے پوچھنا پڑے گا؟
عمران ایک عام آدمی نہیں۔مقبول ترین رہنما ہیں۔ایسے آدمی کی دوسری شادی ناکام ہو جائے تو ان کی شخصیت کا توازن سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔اور قیادت کے منصب پر فائز آدمی کے لیے توازن بہت ضروری ہوتا ہے۔لیڈر توازن قائم نہ رکھ سکتا ہو تو اس کی پالیسیاں قوم کو کسی بھی حادثے سے دوچار کر سکتی ہیں۔دھرنے کے دنوں میں بھی عمران خان کی شخصیت کا عدم توازن زیرِ بحث آتا رہا۔اور جوں جوں وقت گزر رہا ہے یہ عدم توازن نمایاں ہوتا جا رہاہے۔آپ کسی وقت عمران خان کی دھرنے کے دنوں کی تقاریر اکٹھی کریں اور ان کے دعووں کو لکھنا شروع کردیں۔دس منٹ کے بعد آپ دیوار سے ٹکریں مار رہے ہوں گے۔آج اہم اعلان کروں گا، کل اہم ترین اعلان کروں گا، پرسوں ایسا اعلان کروں گا کہ حکومت ہل جائے گی، دو بجے آ جاﺅ، آٹھ بجے جشن ہو گا۔۔۔۔اتنا شورو غوغا اور آ خر میں شانِ بے نیازی سے کہ دیا : پینتیش پنکچر والی بات تو محض ایک سیاسی بیان تھا۔افتخار چودھری کے خلاف روز محاذ سجایا،سپریم کورٹ نے طلب کیا تو معذرت کر لی، باہر آ کر پھر وہی الزام، یہاں تک کہ جوڈیشل کمیشن بن گیا، وہاں پیش تو ہوئے مگر افتخار چودھری کے خلاف ایک ثبوت نہ دے سکے۔یہ سب کیا تھا؟افتادِ طبع؟
عمران خان کے بارے میں یہ تاثر راسخ ہو چکا ہے کہ وہ رشتوں یا انسانی قدروں کو کوئی بہت زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔وہ یہ سمجھتے ہیں دنیا کا محور صرف ان کی ذات ہے۔سب لوگ اس لیے پیدا ہوئے ہیں کہ ان سے محبت کریں ، ضروری نہیں کہ وہ بھی کسی سے محبت کریں۔اسی نرگسیت کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے ایک کالم لکھا تھا:” عمران خان ۔۔۔ایک نفسیاتی مطالعہ“۔اس پر میرے ایک فاضل دوست نے گرہ لگائی تھی:” غیر متوازن کالم ۔۔دلیل اور توازن دونوں ہی سے ہاتھ دھو لیے گئے“۔وہ چاہیں تو اس کالم کو ایک بار پھر پڑھ لیں۔اب کی بار انہیں شاید وہ اتنا غیر متوازن نہ لگے۔

وزیر اعظم کا دورہِ امریکہ اور ہمارے ’ اہلِ دانش‘

Asif-Mehmood

وزیرِ اعظم کے دورہِ امریکہ پر اردو صحافت میں، اِ لّا ماشا ءاللہ، جو کچھ لکھا اور بولاگیا اسے پڑھ اور سن کر اوّل خوف آیا ، پھر ایک سوال نے جنم لیا: نیم خواندہ سماج جن حضرات کے نام ’ صاحبِ دانش‘ کی تہمت دھرتا ہے ان کا علمی، فکری اور سماجی پس ِ منظر کیا ہے؟یہ سماج کب تک اس غیر سنجیدہ اور مضحکہ خیز ’ دانش‘ کے ہاتھوں یرغمال رہے گا؟
پاکستان کا وزیر ِ اعظم امریکہ کے دورے پر جا رہا تھا۔ایسے میں ایک طالبِ علم کے طور پر میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ اس دورے میں’ کامیابی‘ کی باٹم لائن کیا ہے؟امریکی صدر، ظاہر ہے کہ ،وزیر اعظم کے سامنے کچھ مطالبات رکھنے والے تھے، میں سمجھنا چاہتا تھا کہ وہ مطالبات کیا ہو سکتے ہیں اور کس حد تک انہیں مانا جا سکتا ہے؟کون سا امریکی مطالبہ وزیر اعظم کو نہیں ماننا چاہیے اور نہیں ماننا چاہیے تو انکار کس پیرائے میں ہونا چاہیے، واضح انکار ہونا چاہیے یا مبہم سی بات کر کے آگے بڑھ جانا چاہیے۔پاکستان کے پاس کھیلنے کو کوئی کارڈ موجود ہے کہ نہیں؟ کہنے کو کچھ بچا ہے یا نہیں؟ ہم امریکہ کو کیا دے سکتے ہیں اور کیا لے سکتے ہیں؟۔۔۔۔۔ان سوالات کی تفہیم کے لیے جب جب میڈیا سے رجوع کیا ، مایوسی ہوئی۔اہتمام کے ساتھ کی جانے والی گفتگو میں طنز، جگت بازی،تمسخر اور نفرت جیسے عوامل غالب نظر آئے۔احباب کسی سنجیدہ تجزیے کے ذوق ہی سے محروم نہیں پائے گئے،اہلیت بھی واضح طور پر سوال بنی کھڑی رہی۔زیادہ تر وقت ان سوالات پر صرف کیا گیا کہ وزیر اعظم کے ہاتھ میں چٹ کیوں تھی، انہوں نے اوباما جیسی ٹائی کہاں سے لی اور لینے میں انہیں کتنی مشکل پیش آ ئی ہو گی، ان کی باڈی لینگوئج کا مذاق اڑایا گیا، ایوب خان مرحوم کے حوالے دیے گئے کہ وہ کس شان بے نیازی سے امریکی صدر کا گال تھپتھپا رہے تھے اور نواز شریف کیسے مرعوب کھڑے پائے گئے،امریکی صدر کے دورہ بھارت کی ایک تصویر دکھائی گئی جس میں مودی انہیں خوش آمدید کہہ رہے ہیں اور کہا گیا دیکھ لیجیے مودی کو تو اوبامہ نے خود ریسیو کیا لیکن نواز شریف کو لینے معمولی سے اہلکار آ گئے،طنزیہ لہجوں نے گرہ لگائی : چھوڑیں جی یہ دورہ تو بس ’ فِل ان دی بلینک ‘ ہے اصل دورہ تو جنرل راحیل شریف کریں گے سب کچھ اسی میں طے ہو گا وزیر اعظم بے چارہ تو بس ایسے ہی فوٹو سیشن کروا رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔سوالات اور تجزیوں کا یہ معیار میرے جیسے طالب علم کے لیے باعثِ تشویش تھا۔سوچتا ہوں،تھوڑا ساذوقِ مطالعہ اور تزویراتی اور سفارتی امور سے کچھ آگہی ہوتی تو احباب کے سامنے سنجیدہ سوالات کا دفتر کھُلا ہوتا۔
کسی بھی ملک کا وزیر اعظم جب بیرونی دورے پر جاتا ہے تو اس کے ساتھ میزبان جو معاملہ کرتا ہے اس کا تعلق مہمان کے شخصی اوصاف سے نہیں ہوتا ۔میزبان ریاست یہ نہیں دیکھتی کہ مہمان کی وجاہت کا عالم کیا ہے، اسے انگریزی میں اظہارِ رائے پر کتنی دسترس ہے،اس کے ہاتھ میں چِٹ ہے یا نہیںبلکہ اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ مہمان کے ملک کی حیثیت کیا ہے؟ کیا وہ ایک طاقتور معیشت، ایک متحرک سماج اور ایک تزویراتی اہمیت کی حامل مضبوط عسکری قوت ہے؟۔۔۔۔اب ہماری جو حالت ہے وہ کسی سے چھپی نہیں۔ہم بطور قوم زوال کا شکار ہیں۔دنیا نواز شریف کو اتنی ہی اہمیت دے گی جتنی اس کی نظر میں ہم سب کی بطور قوم اہمیت ہے۔یہ اہمیت ہماری توقعات سے کم ہے تو ہمیں اس کے اسباب پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے ۔نواز شریف کا تمسخر اڑانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ہم اجتماعی زوال کا شکار ہیں۔اب دیکھ لیجیے اس ملک میں کتنے صاحبان ِ دانش ایک عالم کی رعونتیں اوڑھے ادارتی صفحات اور ٹی وی سکرینوں پر وعظ فرما رہے ہوتے ہیں۔دنیا جہان کے موضوعات پر یہ یدِ طولی رکھتے ہیں۔لیکن ہمارے ان عالی مرتبت کالم نگاروں اور اینکر پرسنوں میں سے کوئی ایک ہے جس کی بین الاقوامی سطح پر کوئی حیثیت ہو؟دنیا کے بڑے دانشوروں میں اس کا شمار ہو؟جو نام چامسکی، رابرٹ فسک وغیرہ کی صف میں نہ سہی ان سے بہت پیچھے کہیں صفِ نعلین میں بھی کھڑا نظر آتا ہو؟جس کی رائے کا بین الاقوامی علمی حلقوں میں کوئی اعتبار ہو؟کسی ایک نے کوئی ایسی کتاب لکھ ماری ہو جو دنیا کی جامعات میں ایک معتبر حوالہ تصورکی جاتی ہو؟یہ احباب کسی بین الاقوامی علمی مجالس میں جائیں تو ان کی اور نام چامسکی کی آﺅ بھگت میں اس سے کئی گنا زیادہ فرق ہو گا جتنا فرق عالمی فورمز پر پاکستان کے وزیر اعظم اور چین کے وزیر اعظم کی آﺅ بھگت میں ہو تا ہے۔لہذا اس حوالے سے وزیر اعظم پر تنقید کا دلیل کی دنیا میں کوئی اعتبار نہیں۔
ہمارے وزیر اعظم پر دنیا جو سوال اٹھاتی ہے ، کیا وہ نواز شریف کا نامہِ اعمال ہے؟دنیا شعوری طور پر عسکریت کی ہر نجی شکل کی نفی کر رہی ہے۔ایسے میں لشکرِ طیبہ یا کچھ اور سوالات اٹھتے ہیں تو اس میں نواز شریف کا کیا قصور؟محض جگتیں مار کر ریٹنگ حاصل کرنا مقصود ہے تو لگے رہیے لیکن اگر سنجیدگی کی کوئی رمق باقی ہے تو پھر ہمیں بطور قوم اس الجھن کا حل نکالنا ہے کہ ہمیں دنیا کو کیسے مطمئن کرنا ہے۔کیا ہماری ماضی کی پرائیویٹ جہاد کی پالیسی ٹھیک تھی؟ کیا ہمیں مکمل طور پر اس سے رجوع کرنا ہے یا اس کی باقیات کو کسی نہ کسی شکل میں برقرار رکھنا ہے؟کیا ہم اس کو کسی شکل میں بر قرار رکھ کر دنیا کے ساتھ چل سکیں گے؟عالمی برادری کے تحفظات کو کیا ہم مکمل طور پر نظر انداز کرنے کے متحمل ہو سکتے ہیں؟وزیر اعظم سے جب حقانی گروپ یا لشکر کا سوال اٹھے تو انہیں کیا کہنا چاہیے؟۔۔۔اور یہ کہ کیا اس باب میں ہمارا وزیر اعظم کوئی فیصلہ کرنا چاہے تو کر بھی سکتا ہے ؟۔۔۔۔اس طرح کے ڈھیروں سوالات ہماری توجہ کے طالب ہیں لیکن یہاں ’ دانش دانوں ‘ کی سوئی نواز شریف کے ہاتھ میں پکڑی ایک چٹ پر اٹک گئی ہے۔پرویز مشرف کے ہاتھ میں تو کوئی چٹ نہیں ہوتی تھی، وہ تو فر فر بولا کرتے تھے۔لیکن ان کی خارجہ پالیسی نے اس ملک کو کیا دیا؟ہاتھ میں پکڑی چٹ اتنی اہم نہیں ہوتی ، دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ آخری تجزیے میں آپ نے کیا کھویا کیا پایا۔وزیر اعظم کے دورے سے پہلے واشنگٹن پوسٹ اور نیو یارک ٹائم میں اہتمام سے ہماری ایٹمی صلاحیت کے حوالے سے سوال اٹھا کر ایک ماحول بنایا گیاتا کہ پاکستان پہلے ہی سے دفاعی پوزیشن میں آ جائے۔لیکن ہوا کیا؟وزیر اعظم کے دورے سے پہلے ہی آپ کے ترجمان میں امریکہ میں باقاعدہ پریس کانفرنس کر کے یہ اعلان کر دیا کہ بھارت کی کولڈ سٹارٹ پالیسی کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان نے چھوٹے ایٹمی ہتھیار بنا لیے ہیں۔یہ بات پاکستان نے پہلی دفعہ کہی اور وہ بھی امریکی سرزمین پر کھڑے ہو کر۔پاکستان میں ایک شور مچا تھا کہ نواز شریف تو ایٹمی پالیسی کا سودا کرنے والے ہیں۔حیرت ہے بھٹو سے لے کر نواز شریف تک ہمارے ’ اہلِ دانش‘ کسی منتخب وزیر اعظم کی حب الوطنی کا اعتبار کرنے کو تیار ہی نہیں۔سوال وہی ہے: نیم خواندہ سماج جن حضرات کے نام ’ صاحبِ دانش‘ کی تہمت دھرتا ہے ان کا علمی، فکری اور سماجی پس ِ منظر کیا ہے؟یہ سماج کب تک اس غیر سنجیدہ اور مضحکہ خیز ’ دانش‘ کے ہاتھوں یرغمال رہے گا؟

شیعہ اور سنی میں جھگڑا کس بات کا ہے؟

Asif-Mehmood

شیعہ اور سنی میں جھگڑا کس بات کا ہے؟لہو رنگ زمینی حقیقتوں کے باوجود میرے پیش نظر چند دنوں سے یہی ایک سوال ہے۔
میں شیعہ نہیں ہوں ۔اللہ نے مجھے دو بیٹیوں کی نعمت کے بعد بیٹے سے نوازا تو میں نے اسکا نام علی رکھا۔ہمارے گھر میں آنے والا پہلا ننھا وجود میری بھتیجی کا تھا ، اس کا نام فاطمہ ہے۔میری چھوٹی بہن کے خاوند کا نام حسن ہے۔اپنے خاندان میں ادھر ادھر نظر دوڑاﺅں تو شبیر، عباس ،حسن اور حسین کے ناموں کی ایک مالا سی پروئی نظر آتی ہے۔حسینؓ کا ذکر آئے تو دل محبت اور آنکھیں عقیدت سے بھر جاتی ہیں۔میری پہلی کتاب شائع ہوئی تو اس کا انتساب میں نے ’اپنے آئیڈیلزسیدنا عمرؓ اور سیدناحسینؓ ‘ کے نام کیا ۔یہ کتاب سی ٹی بی ٹی پر تھی اس کے صفحہِ اوُل پر میں نے یہ شعر لکھوایا:
”جب بھی کبھی ضمیر کا سودا ہو دوستو
قائم رہو حسین ؓ کے انکار کی طرح“
میری شریکِ حیات کا تعلق اعوان قبیلے سے ہے ۔وہ بھی شیعہ نہیں لیکن ان کے ہاں یہ روایت ایک فخر کے ساتھ بیان کی جاتی ہے کہ ان کی نسبت سیدنا علیؓ سے جا ملتی ہے۔خواجہ معین الدین چشتی نے کس وارفتگی سے کہا تھا:” حقاکہ بنائے لا الٰہ است حسین“۔والہانہ پن تو دیکھیے اقبال کہتے ہیں:
” اسلام کے دامن میںاور اس کے سوا کیا ہے
اک ضرب ید اللہی ،  اک سجدہِ شبیری“

۔مجھے بچپن کے وہ دن آج بھی یاد ہیں جب ہم سب مسجد میں اہتمام سے جایا کرتے تھے جہاں ہمارے خاندان کے قابل قدر بزرگ پرپروفیسر صفدر علی واقعہ کربلا سناتے ، نہ سنانے والا شیعہ تھا نہ سننے والے اہل تشیع ،لیکن دکھ اور درد ہڈیوں کے گودے میں اترتا محسوس ہوتا تھا۔دیوبندیوں کے حسین احمد مدنی ہوں یا جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد ۔۔۔۔نام ہی پکار پکار کر کہ رہے ہیں کہ ” ہمارے ہیں حسینؓ، ہم سب کے ہیں حسینؓ “۔ہمارے تو بابائے قوم ہی محمد علی جناح ہیں،سفر آخرت پہ روانہ ہوئے تو جنازہ شبیر احمد عثمانی نے پڑھایا۔۔۔۔۔سوچتا ہوں پھر جھگڑا کیا ہے؟ سوائے بد گمانی کے؟ شیعہ بھائی دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا اہلِ بیت کی محبت کے یہ مظاہر کیا ہمیں ایک ما لامیں نہیں پرو سکتے؟کیا یہ بد گمانی مناسب ہے کہ ہر غیرِ شیعہ کو یزیدی سمجھا جائے؟کیاآج پاکستان میں کوئی ایک آدمی بھی ہے جس کی ماں نے اس کا نام یزید رکھا ہو؟سپاہِ صحابہ میں بھی ہمیں علی شیر حیدری کا نام ملتا ہے۔کیا اتنی نسبتوں کے صدقے ہم مل جل کر نہیں رہ سکتے؟
بات اب کہ دینی چاہیے، گھما پھرا کے بات کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔اصل مسئلہ کو زیر بحث اب لانا ہی پڑے گا۔اس کو مخاطب کیے بغیر محض امن امن کہنے سے کچھ نہیںہو گا۔نفرتوں کی آگ دہلیز تک پہنچ چکی ہے۔کیا گھر جل جانے کا انتظار ہے؟اہل تشیع بھائی کیسے ہمیں اہلِ بیت کی محبت میں خود سے پیچھے سمجھ سکتے ہیں۔وہ آئیں ، گلی محلے تو کیا ہمارے گھر میں کھڑے ہو کر میرے حسینؓ کو یاد کریں،سر آنکھوں پر کہ
حسین ؓ میرے بھی اتنے ہیں جتنے ان کے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ محبتوں کا انداز جدا جدا ہے لیکن ’ حسین مِنی وانا من الحسین‘ کے ارشاد مبارک کے بعد کونسا دل ہوگا جس میں حسین ؓ کی محبت نہ ہو گی۔رہے ان کے اختلافی معاملات تو اتنی مشترک محبتوں کے صدقے کیا ان معاملات کو اللہ پر نہیں چھوڑا جا سکتا؟کیا ایک دوسرے کی دل آزاری ضرور کرنی ہے؟زندہ معاشروں میں اختلافات ہوتے ہیں ان اختلافات کو ایک دائرے میں رہنا چاہیے اور ان اختلافات کے ساتھ زندہ رہنے کا ڈھنگ آنا چاہیے۔مسئلہ اس وقت بنتا ہے جب یہ اختلافات بد گمانی میں ڈھل جاتے ہیں۔بد گمانی پھر حادثوں کو جنم دیتی ہے۔اختلافات تو امام خمینی اوربنی صدر میں بھی ہو گئے تھے۔اور ابھی کل کی بات ہے ہم نے حسین موسوی ، ہاشمی رفسنجانی ،محسن رضائی،اور مہدی کروبی کو احمدی نژاد صاحب کے خلاف احتجاج کرتے دیکھا۔
سنی حضرات کو بھی اپنے رویوں پر غور کرنا چاہیے۔میں اکثر سوچتا ہوں شیعہ کے آئمہ کرام سے کیا ہمارا کوئی تعلق نہیں۔کیا امام زین العابدینؒ سے ہمیں کوئی نسبت نہیں؟ کیا امام جعفر صادق ؒسے ہمارا کوئی رشتہ نہیں؟۔۔۔کبھی ہم نے غور کیا یہ ہستیاں کون تھیں؟ کس عظیم اور مبارک خانوادے سے ان کا تعلق تھا؟ یہ ہمارے ہی بزرگ تھے۔یہ بھی ہماری ہی شان اور آبرو ہیں۔ہم نے انہیں کیوں بھلا دیا؟ ہم نے انہیں کیوں نظر انداز کر دیا؟ ان کے فضائل ہم کیوں بیان نہیں کرتے؟ ان کی تعلیمات ہمیں کیوں نہیں بتائی جاتیں؟ان کی دینی خدمات سے ہم محروم کیوں؟ان کے فہم دین سے ہم فیض کیوں نہیں حاصل کرتے؟ہمارے نصاب میں ان کی تعلیمات کیوں شامل نہیں؟ہم ان کے علمی کام سے اجنبی کیوں ہیں؟ یہ بیگانگی کیوں ہے؟دین کے فہم کے باب میں انہوں نے بھی تو زندگیاں صرف کر دیں، یہ بھی تو ہمارا اجتماعی اثاثہ ہیں۔کیا ہماری باہمی نفرتیں اور جھگڑے اب اتنے منہ زور ہو گئے ہیں کہ ہم نے اپنے بڑے بھی بانٹ لیے ،ہم نے ان سے بھی منہ موڑ لیا، ہم اپنے ہی چشمہ ہائے علم سے محروم ہو گئے؟
میری ہر دو اطراف کے بزرگان سے التجا ہے: آئیے اس کلمے کی طرف جو ہم سب میں مشترک ہے۔

Google Analytics Alternative